عزیمت کی سبق آموز داستان

جب اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات کے بعد انسان کو بطور خلیفہ فی الارض پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو سب سے پہلے ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ پھر آپ علیہ السلام سے نسلِ انسانی کی افزائش ہوئی۔ یوں یہ سلسلہ چلتا رہا اور ابو البشر ثانی حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ آپ علیہ السلام کے تین مشہور بیٹوں سے آگے پوری دنیا کی نسلِ انسانی چلی۔ ان میں سے ایک بیٹے کا نام ”یافث” تھا۔ انہی یافث کی اولاد میں سے ایک بیٹے کا نام ”ترک” تھا، جو ترکی روایات کے مطابق ترکستان کی ایک جھیل ”اسق کول” (Isiqkol) کے کنارے پیدا ہوا تھا۔

”ترک” کی اولاد جب چین، ترکستان کے علاقوں میں پھیل گئی تو امن وامان سے رہنے کے لیے ایک سردار مقرر کرنا ضروری سمجھا۔ اس طرح ان کے درمیان ایک سردار مقرر ہوا۔ پھر آہستہ آہستہ خاندان اور قبائل بڑھتے گئے۔ اور ہر ایک قبیلے کا الگ الگ سردار مقرر ہونے لگا۔ انہی ”ترکمان قبیلے” سے جو وسط ایشیاء کے میں سکونت پذیر تھے، ایک شخص ”قائی” تھا، جو ”ترکان غز” سے تعلق رکھتا تھا جن کا اصل وطن ”مرو” تھا۔ اسی قائی قبیلے میں آگے جاکر ”سلیمان شاہ” سردار بنے۔ ساتویں صدی ہجری کی ابتدا میں شاہانِ خوارزم کی طاقت اپنے شباب پر تھی۔ شام و عراق اور ایران و خراسان تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ تمام سلطنتوں کو ایک خوارزی سلطنت کی چھتری تلے لانے کے عزم پر گامزن تھی۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چنگیزی طوفان اچانک پورے زور و شور کے ساتھ تباہی مچاتا ہوا خوارزم کی سرحد پر بھی آ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے خوارزم شاہی سلطنت کی قوت کو پاش پاش کر کے رکھ دیا۔سلطنتِ خوارزم کی تباہی کے بعد ترک قبائل مختلف اطراف میں پھیلنے لگے۔

انہی ترک قبائل میں عثمانی ترکوں کے اجداد کا قبیلہ بھی تھا، جو ترکمان اوغوز قبیلے کا ہی ایک حصہ تھا۔ یہ قبیلہ بھی حیران و سرگرداں نا معلوم منزل کی طرف رواں دواں ہو گیا۔ اس قبیلے کے سردار کا نام ”سلیمان شاہ” تھا۔ یہی سلیمان شاہ ارطغرل کے والد اور بانی سلطنتِ عثمانیہ (عثمان اول) کے دادا تھے۔ 621ء میں قائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ نے قبیلے کو لے کر آرمینیا کی طرف ہجرت کی۔ پھر وہاں سے اناطولیہ کا رخ کیا اور اس کے جنوب مشرقی علاقہ ”اخلاط” میں آباد ہو گئے۔ 628ء میں سلیمان شاہ کے قبیلے نے ایک بار پھر ہجرت کی اور اس بار جنوب مغرب کی طرف رخ کیا۔ دورانِ سفر ”حلب” کے قریب دریائے فرات عبور کرتے ہوئے سلیمان شاہ بیماری اور کمزوری کی وجہ سے اپنے گھوڑے سے گر گئے اور ڈوبنے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے۔ انہیں قلعہ جبار (جعبر) کے سامنے فرات کے کنارے دفن کیا گیا۔ یہ جگہ آج بھی ”ترک مزار’ کہلاتی ہے۔سلیمان شاہ کی وفات کے بعد قائی قبیلے کے درمیان اختلاف ہوا۔ اختلاف اس بات پر ہوا کہ ہماری منزل کہاں ہو گی؟ کیا مزید آگے ہجرت کرنی چاہیے؟ یا یہیں رہائش پذیر ہونا چاہیے؟ اکثریت کی رائے یہ تھی کہ سفر جاری رہے یہاں تک کہ منزلِ مقصود مل جائے۔ یوں وہ دو، تین گروہوں میں بٹ گئے۔سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے۔ ان میں سے دو بیٹے ”ار طغرل”، ”دوندار” اور قبیلے کے اکثر لوگ جو تقریباً 420 گھرانوں پر مشتمل تھے، وہ ”اناطولیہ (ایشیائے کوچک)” کی طرف روانہ ہو گئے۔ جبکہ سلیمان شاہ کے دوسرے دو بیٹے ”سنگر تگین” اور ”گندوگدو” وہیں قیام پذیر ہو گئے۔ارطغرل کی عمر اس وقت 39 سال تھی۔ اس نے اپنے قبیلے کے ساتھ کچھ عرصہ زرخیز دادیوں اور چراگاہوں میں گزارا۔ پھر اپنا سفر اناطولیہ کی طرف جاری رکھا۔ جب وہ اناطولیہ پہنچا تو اس نے ایک قاصد کو سلجوقی حکمران ”سلطان علاوالدین کیقباد” کی طرف روانہ کیا تاکہ سلطان سے ان سرزمینوں پر سکونت اختیار کرنے کی اجازت لے سکے، مگر قاصد کا وہاں پہنچنے سے پہلے ہی انتقال ہو گیا۔اسی دوران ارطغرل غازی کو خبر ملی کہ ریاست ازنیک کے سرحدی بازنطینی نصرانی، سلطان کی فوج سے برسرِ پیکار ہیں تو ارطغرل نے سلطان کی فوج کی مدد کی جو شکست کے بالکل قریب تھی۔ اس کمک کے پہنچتے ہی بازنطینی ہمت ہار گئے اور میدان مسلمانوں نے مار لیا۔ اس ناگہانی نصرتِ خداوندی پر سلجوقی فوج بہت خوش ہو ئی۔ جب سلطان تک یہ خبر پہنچی اور اس نے ارطغرل غازی کی بہادری کی داستان سنی تو وہ بھی بہت خوش ہوا۔ اس نے بطور انعام ارطغرل غازی کو سرحدی جاگیر عطا کی اور اسے ”مقدمة السلطان” کے اعزازی لقب سے بھی نوازا۔ اس کے بعد ارطغرل غازی کی فتوحات کس سلسلہ رکا نہیں۔ اس نے مختلف باز نطینی اراضی پر بزور شمشیر قبضہ کر کے سلطان کی حکومت میں داخل کیا۔ ان میں سے اہم اراضی ”کاراچہ حصار” اور ”سوغوت” وغیرہ ہیں۔ سلطان علاء الدین نے ارطغرل کو سوغوت کا جاگیردار بنایا، جہاں سے ہمہ وقت بازنطینی حملوں کا خطرہ رہتا تھا۔ ارطغرل غازی اپنی عمر کے آخری لمحوں تک سوغوت میں رہے اور بازنطینیوں سے بر سرِ پیکار رہے۔ انہوں نے ہر قدم پر سیاسی بصیرت اور فہم و فراست سے کام لیا۔ ارطغرل کی مذکورہ بالا کامیابیوں کی وجہ سے بہت جلد ہی سوغوت منتشر ترک اقوام کا مرکز بن گیا اور ترک ہر طرف سے ارطغرل کے پرچم تلے جمع ہونا شروع ہو گئے۔دولتِ عثمانیہ کی ترقی میں اسلامی تنظیموں کا بڑا کردار رہا ہے۔ اس زمانے میں ایشیائے کوچک میں بعض تنظیمیں احیائے دین اور مسلمانوں کے دلوں میں جذبۂ جہاد اُجاگر کرنے کے لیے کام کر رہی تھیں۔ ان تنظیموں میں سے سب سے مشہور تنظیم ”الأخیة” یا ”آخی” (ترکی لغت کا آھی) تھی، جس میں زیادہ تر مزدور کسان وغیرہ شامل تھے۔ ان کے اہم ترین اہداف میں سے چند یہ تھے:٭… نوجوانوں کو امورِ حرب و ضرب کی تربیت دینا٭… ان کی دینی رہنمائی کرنا ٭… لوگوں کو ظالموں کے ظلم و ستم سے بچانا٭… عدل وانصاف کا نظام قائم کرنا۔ علمائ، صوفیاء اور مشائخ ان سب تنظیموں کی سرپرستی کرتے تھے۔ارطغرل کے ساتھ آئے ہوئے ان سب ترکمان جنگجوؤں نے شیوخ کے دروس میں شرکت کرنا شروع کی، جس کی بدولت یہ ترکمان مجاہدین جہاد اور جنگ کے شیدائی بن گئے۔ ان شیوخ اور درویشوں نے ترکمانوں کی دینی تربیت شروع کر دی۔ رفتہ رفتہ ہر مجاہد کسی نہ کسی خانقاہ سے وابستہ ہو گیا اور وہاں ان کی ہر طرح کی تربیت ہونے لگی۔ ہر نماز کے بعد کوئی مجاہد قرآن کی کسی آیت کی تلاوت کرتا اور شیخ اور صوفی اس کی تفسیر و تشریح بیان کرکے ان کی تربیت کرتے۔ اس کا نتیجہ ہوا کہ ہر مجاہد سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ سے بہترین تعلق رکھنے والا عابد و زاہد بن گیا۔ارطغرل غازی 1288ء میں 90 سال کی عمر میں وفات پا گئے اور سوغوت میں ہی دفن ہوئے۔

ارطغرل غازی کی وفات کے بعد ان کے سب سے چھوٹے مگر انتہائی ہونہار بیٹے ”عثمان غازی” سردار مقرر ہو ئے۔عثمان غازی نہایت دلیر، ذہین، فطین، عابد، زاہد نوجوان تھا۔ اس کی پرورش جہاد فی سبیل اللہ کے ماحول میں ہوئی تھی۔ چنانچہ ہر وقت اعلائے کلمہ اللہ کے لیے کمر بستہ رہتا تھا۔ علماء و صلحاء کی خدمت اور عزت و تکریم کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ وہ ”شیخ ادہ بالی” کی خانقاہ میں جایا کرتا اور ان کی نصائح سے بے حد مستفید ہوتا۔ ایک دفعہ عثمان غازی شیخ ادہ بالی کی خانقاہ میں مقیم تھا کہ اس نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا، جو در حقیقت سلطنت عثمانیہ کی خوشخبری تھی۔ جب شیخ کو وہ خواب بتایا تو وہ انتہائی خوش ہوئے اور اسی کے مطوبق عثمان کی تربیت شروع کی۔ پھر عثمان کی خواہش پر شیخ ادہ بالی نے اپنے بیٹی کی شادی عثمان سے کر دی۔ انہی کی اولاد میں ”اورحان” پیدا ہوا جس نے سلطنت کو خوب پھیلایا اور پھر آگے انہی کی نسل میں سلطنت عثمانیہ چہار دانگِ عالم فروغ ملا۔1326ء بمطابق 726ھ میں عثمان غازی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انہوں نے پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ، خدمتِ خلق اور عدل او انصاف کے قیام میں گزاری اور 699ھ میں سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔ وہ اپنے بعد بہترین جانشین چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے، جنہوں نے اگلی 6 صدیوں تک اس سلطنت کو آفاقِ عالم میں قائم رکھا۔