امریکا کی ایران پر حملے کی تیاریاں تیز،اسرائیل میں الرٹ

واشنگٹن/تل ابیب/تہران/وارسا:امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

امریکی میڈیا نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی پر غور و فکر میں کافی وقت صرف کیا جارہا ہے اورساتھ ہی مختلف عسکری اور سیاسی پہلوئو ں کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اس بارے میں بہت زیادہ وقت سوچنے میں گزار رہے ہیں۔

امریکی میڈیا نے مزید بتایا کہ فوجی اہلکار اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں اور خطے میں کسی بھی ہنگامی کارروائی کے لیے الرٹ ہیں۔ ادھر ترجمان وائٹ ہائو س کیرولائن لیویٹ نے کہاکہ ایران پر حملے کے حق میں کئی دلائل موجود ہیں، ایران کیلئے دانشمندی اسی میں ہے کہ معاہدہ کر لے۔

پریس کانفرنس میں کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر کچھ پیشرفت ہوئی ہے، ایرانی حکام آئندہ چند ہفتوں میں مزید تفصیلات کے ساتھ واپس آئیں گے، ایران سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں، مزید پیشرفت کا انتظار ہے۔

ادھر امریکی حکومت نے ایران کے 18 اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہلخانہ پرویزا پابندیاں لگا دیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے یہ پابندیاں ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث عہدیداروں پر لگائی گئی ہیں۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری کے عہدیداروں پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، امریکا ایرانی عوام کے اظہارِ رائے کے حق کی حمایت جاری رکھے گا۔دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سیکورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران ممکنہ طور پر اسرائیل پر میزائل حملہ کر سکتا ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور قریبی بنکرز یا محفوظ مقامات سے آگاہ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے دفاعی اور ہنگامی اداروں کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق انھوں نے یہ بات بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔علاوہ ازیںایران نے اپنے جنوبی علاقوں میں راکٹ لانچ کرنے کے منصوبے کے پیش نظر نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کر دیا ہے جس میں فضائی حدود استعمال کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

غیرملکی خبر رساںادارے کے مطابق جاری نوٹم میں پائلٹس، فلائٹ عملے اور متعلقہ فضائی حدود سے گزرنے والے دیگر افراد کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مخصوص علاقوں میں حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں بھی کیں۔ مزید برآں ایران اور روس کے درمیان جمعرات سے بحیرہ عمان میں مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز ہو گیا ، جنہیں علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ نوٹم ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران کے قریب اپنے جنگی جہاز تعینات کر چکا ہے، جس سے خطے میں اسٹریٹجک سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کردی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیاکہ خطے میں جنگ کے خدشے کے باعث ممکن ہے کہ چند گھنٹوں بعد انخلا ممکن نہ بھی رہ سکے۔وزیر اعظم ٹسک نے جمعرات کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ پولینڈ کے شہری فوراً ایران سے نکل جائیں اور کسی بھی صورت میں اس ملک کا سفر نہ کریں۔