بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کی بیماری کا ایشو خواہ مخواہ اتنا بگاڑا گیا اور اب یہ اچھا خاصا بڑا ایشو بنتا جا رہا ہے۔ جو کام نہایت آسانی سے دو مہینے قبل ہو سکتا تھا، اس میں نجانے کیوں تساہل کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہ ہمارے سسٹم کی روایتی خرابیوں میں سے ایک ہے کہ کسی بھی معاملے کر بروقت حل کرنے کے بجائے اسے بحران بن جانے دیتے ہیں۔
عمران خان کی بیماری کے حوالے سے دو اصولی باتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ مریض کے اہل خانہ کو اعتماد میں لیا جائے، انہیں ٹریٹمنٹ کے حوالے سے آن بورڈ رکھا جائے۔ یہ تو سادہ ترین بات ہے، دنیا بھر میں اس اصول پر عمل کیا جاتا ہے۔ کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ مریض کے اہل خانہ کو بے خبر رکھا جائے اور ان کے مرضی کے ڈاکٹروں کو مریض سے ملنے ہی نہ دیا جائے۔ دوسری بات جو تحریک انصاف کے لئے ہے کہ فیملی ڈاکٹر جنرل مسائل کے لئے ہوتا ہے، آنکھوں کا مسئلہ خاص نوعیت کا ہے، ایک عام میڈیسن کا ڈاکٹر چاہے وہ سپیشلسٹ ہی کیوں نہ ہو، اس حوالے سے ٹریٹمنٹ نہیں کر سکتا۔ اس لئے مجھے علیمہ خان صاحبہ کی اس بات کی تک سمجھ نہیں آئی کہ ڈاکٹر فیصل سلطان یا ڈاکٹر عاصم سے علاج کرایا جائے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی ماہر امراض چشم نہیں، یہ کیسے علاج کر سکتے ہیں؟ یہ بات البتہ درست ہے کہ یہ ڈاکٹر چونکہ تحریک انصاف کے لئے اور عمران خان کی فیملی کے لئے قابل اعتماد ہیں، انہیں مریض سے بھی ملنے دینا چاہیے اور ان ڈاکٹروں سے بھی جو علاج کر ر ہے ہیں۔ ایک ڈاکٹر بہرحال بہتر طریقے سے ان چیزوں کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ آنکھوں کے سکین دیکھے، انہیں اپنے جاننے والے ماہرین امراض چشم کو سکینڈ یا تھرڈ اوپینین کے لئے بھی بھیجے اور اپنا اطمینان حاصل کرے۔
اگر یہ پہلے کر لیا جاتا تو نہ صرف ایشو پیدا ہی نہ ہوتا بلکہ حکومت کو اخلاقی برتری حاصل ہوجاتی۔ ایسا نہیں کیا گیا اور اب یہ بتدریج انٹرنیشنل ایشو بنتا جا رہا جو پاکستان کے لئے کئی اعتبار سے سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے دئیے گئے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر بھی یہ اثرانداز ہو سکتا ہے اور ایک خاص سطح پر یہ غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت اور ایکٹویٹیز پر بھی اثر ڈالے گا۔
عمران خان کی حکومت کا ختم ہونا ایک سیاسی ایشو تھا، تحریک عدم اعتماد سے حکومت گرائی گئی جو کہ آئینی عمل تھا۔ عمران خان کے خلاف کیسز اور ان کی سزائیں بھی ایک حد تک پاکستان کا اندرونی معاملہ سمجھا گیا کیونکہ یہ سزائیں فوجی عدالت سے نہیں ہوئیں، باقاعدہ عدالتیں تھیں اور ان پر اپیل کے لئے ہائر کورٹس موجود تھیں۔ اسی وجہ سے عالمی سطح سے کچھ خاص ردعمل نہیں آیا۔ بیماری اور علاج کی مناسب سہولت نہ ملنا البتہ ایک خالص انسانی ایشو ہے اور اس پر دنیا سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں، جنہیں زیادہ دیر تک نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ روز دنیائے کرکٹ کے چودہ نامور کرکٹرز اور سابق کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام ایک کھلا خط لکھا جس میں انہوں نے عمران خان کو علاج کی فوری سہرلت مہیا کرنے اور ان کیشفاف عدالتی ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے علاوہ ویسٹ انڈیز اور بھارت کے سابق نامور کرکٹرز شامل ہیں۔ ایک لحاظ سے یہ سب لیجنڈز ہی ہیں، اپنے اپنے ممالک میں بہت مقبول اور ان کی کہی بات وہاں کا میڈیا یا انٹرنیشنل میڈیا نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ان میں انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک بریرلی، ڈیوڈ گاور، مائیک اتھرٹن اور ناصر حسین، آسٹریلیا کے لیجنڈری کپتان، کمنٹیٹر آئن چیپل، گریگ چیپل، ایلن بارڈر، کم ہیوز، سٹیو وا، نیوزی لینڈ کے جان رائٹ، ویسٹ انڈیز کے دو بار ورلڈ کپ جیتنے والے لیجنڈری کپتان کلائیو لائیڈ کے علاوہ بھارت کے دو بہت مشہور کرکٹرز سنیل گواسکر اور کیپل دیو شامل ہیں۔ یہ تمام سابق کرکٹرز بہت سنجیدہ، غیر سیاسی اور پروفیشنل اپروچ رکھتیہیں، نو نان سینس ٹائپ۔ جب یہ کسی ایشو پر کوئی بات کریں یا کالم لکھیں تو ان کا پورا ملکی پریس اور کرکٹنگ ورلڈ اس جانب متوجہ ہوجاتی ہے۔ ان کے اس خط کو عالمی میڈیا میں اچھی کوریج ملی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسا خط وہاں کے اراکین پارلیمنٹ اور اہم شخصیات نظرانداز کر دیں۔ حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے یہ بہت اہم اور سیریس ایشو بن گیا ہے۔ ابھی تو ان سابق کرکٹرز، کپتانوں نے پاکستانی وزیراعظم کو خط لکھا ہے۔ اگر وہ اگلا خط یورپی یونین پارلیمنٹ، یورپی یونین جی ایس پی پلس سٹیٹس کو مانیٹر کرنے والی کمیٹی یا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھ دیں تو پاکستان کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ (واضح رہے کہ اگر عمران خان کے بیٹوں نے ان سابق کرکٹرز کو ایسا کوئی مشورہ دیا تو وہ یورپی یونین کے نام خط بھی جاری کر سکتے ہیں۔)یورپی یونین اور انڈیا کے فری ٹیرف معاہدے کے بعد انڈین ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کو یورپی یونین میں زبردست بوسٹ ملنے کا امکان ہے۔ انڈین لابنگ بھی کر رہے ہوں گے، لیکن وہ اگر ایسا نہ کریں تب بھی پاکستان اپنا جی ایس پی پلس سٹیٹس کھو بیٹھا تو پاکستانی کی ایکسپورٹ میں پچیس تیس فیصد کٹ لگنا لازمی ہے یعنی تین چار ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کم ہونا۔ پاکستان کی کمزور اور ڈگمگاتی اکانومی کے لئے یہ بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔
پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کو فوری نمٹائیں، اس سے پاکستان کی بہت بدنامی ہو رہی ہے۔ عمران خان کو شفا ہسپتال میں داخل کریں، جہاں وہ کم از کم چھ ہفتے رہ کر اپنی ٹریٹمنٹ مکمل کرائیں انہیں اگلا انجیکشن پچیس فروری کو لگنا ہے، اس کے بعد شاید او سی ٹی انجیو اور ایف ایف اے ٹیسٹس بھی ہوں گے، یہ ویسے بھی ہسپتال میں ہونے لازمی ہیں، ان کے بغیر درست تشخیص بھی نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد تیسرا انجکشن پچیس مارچ کو لگے گا، عید کے بعد۔ تب تک عمران خان کو ہسپتال شفٹ کریں۔ ان کے اہل خانہ کو ملنے کی اجازت دیں، محدود تعداد میں دیگر ملاقاتیں بھی ہوں۔ میڈیا کو بے شک دور رکھیں۔ ایک بار علاج مکمل ہو جائے، پھر آگے کا لائحہ عمل دیکھئے گا۔ یہی اس مسئلے کا بہترین حل ہے۔ ورنہ آج غیر ملکی کرکٹرز نے اپیل کی ہے، کل کو امریکی، برطانوی اراکین پارلیمنٹ یا یورپی پارلیمنٹ کے ارکان خط لکھ دیں گے تو مسائل سنگین ہو جائیں گے۔ اگر جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم ہوا تو سمجھ لیں کہ تین چار ارب ڈالر کی ایکسپورٹ فوری گئی، ملکی اکانومی کا پہلے ہی بیڑا غرق ہوا پڑا ہے، اندازہ کر لیں کہ پھر کیا بنے گا۔ براہ کرم اس معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ ملک ہم سب کی انا سے بہت اہم اور مقدم ہے۔

