ٹرمپ کو ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹوں کی تلاش کے دوران کمرے سے دور رکھا گیا۔ انتظامیہ نے حساس ریسکیو کارروائی میں انہیں شرکت سے روک دیا، جبکہ نائب صدر اور دیگر سینئر حکام نگرانی کرتے رہے۔
طیارہ گرنے اور دو پائلٹوں کے لاپتہ ہونے پر امریکی صدر شدید غصے میں آ گئے اور گھنٹوں تک اپنے معاونین پر چیختے رہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ایران میں ایک امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ گرنے کے بعد دو امریکی پائلٹ لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ٹرمپ کی کیفیت مزید بگڑ گئی۔ اسی صورتحال کے پیش نظر وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے فیصلہ کیا کہ انہیں سیچویشن روم میں ہونے والی لمحہ بہ لمحہ بریفنگ سے دور رکھا جائے۔
رپورٹ کے مطابق نائب صدر اور دیگر سینئر حکام ریسکیو مشن کی نگرانی کرتے رہے، جبکہ ٹرمپ کو صرف اہم مواقع پر فون کے ذریعے آگاہ کیا جاتا رہا۔
ایک پائلٹ کو فوری طور پر بازیاب کر لیا گیا تھا، جبکہ دوسرے کو چوبیس گھنٹوں سے زائد وقت بعد خفیہ اداروں کی مدد سے ایرانی علاقے سے نکالا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ کو خدشہ تھا کہ یہ واقعہ ماضی کے یرغمال بحران جیسی سیاسی ناکامی میں تبدیل نہ ہو جائے، تاہم بعد میں انہوں نے اس مشن کو اپنی قیادت کی کامیابی قرار دیا۔

