بنگلادیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

بنگلادیش الیکشن کے حتمی نتائج تو ابھی تک نہیں آئے، یہ بات البتہ واضح ہوچکی ہے کہ الیکشن بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی نے مار لیا ہے۔ اسے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ 300نشستیں ہیں تو حکومت بنانے کے لیے 151سیٹیں درکار ہیں۔ بی این پی کے پاس 200کے لگ بھگ سیٹیں آچکی ہیں۔ اس کا دعوی دو تہائی اکثریت کا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں۔

بی این پی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان ممکنہ طور پر اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ انہیں مبارکباد کے پیغامات ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہلے سربراہ حکومت تھے جس نے مبارکباد دی۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فوری مبارکباد کا پیغام جڑ دیا۔ یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے بھی طارق رحمان اور بی این پی کو کامیابی کی مبارکباد دی جاچکی ہے۔ پنجابی محاورے کے مطابق بی این پی کہہ سکتی ہے ہور سانوں کی چاہیدا۔ جماعت اسلامی کو شکوے شکایات پیدا ہو چکی ہیں، دھاندلی کی بات ہورہی ہے، انتخابی نتائج درمیان میں دانستہ سلو کرنے کی، کچھ جگہوں پر رزلٹ بدلے جانے کے الزامات وغیرہ بھی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے احباب حسب معمولی دنیا بھر کو لعن طعن کرنے میں مصروف ہیں، باطل کی تمام قوتوں کو جنہوں نے اسلامی جماعت سے الیکشن چھین لیا۔ نتائج تبدیل کردیے وغیرہ وغیرہ۔

جماعت اسلامی نے کیا حاصل کیا؟
یہ بہرحال حقیقت ہے کہ بنگلادیش میں جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی تاریخ کی سب سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔ اپنی زندگی کا سب سے بڑا ووٹ بینک حاصل کیا ہے اور جماعت کے روایتی چند حلقوں کی جگہ ملک بھر سے ووٹ ملے ہیں، کئی اہم شہروں، قصبات اور دیہی حلقوں میں بھی جماعت نے ٹف مقابلہ کیا اور خاصے ووٹ لیے۔ مجموعی طور پر جماعت کی سیاسی بیس وسیع اور مضبوط ہوئی ہے۔ بنگلادیش کی سیاسی تاریخ میں جماعت اسلامی پہلی بار ایک نیشنل لیول کی ہمہ گیر مضبوط طاقتور سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں، بڑی بات ہے۔ اس تناظرمیں دیکھیں کہ حسینہ واجد کے سفاکانہ دور استبداد میں جماعت اسلامی کو زیادہ شدت، سختی اور بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ جماعت نے بی این پی کی نسبت 100گنا زیادہ جبر، سختی اور تشدد سہا۔ اس کے قائدین کو پھانسیاں دی گئیں، بعض لیڈر جیل میں انتقال کرگئے جبکہ متعدد رہنما اور سینکڑوں، ہزاروں کارکن برسوں جیلوں میں سڑتے رہے۔

بہت سے تو مسنگ پرسنز تھے۔ بنگلادیش بھر میں مولانا مودودی کے لٹریچر اور کتابوں پر پابندی تھی، حتی کہ بعد میں تو جماعت اسلامی پر بھی باقاعدہ پابندی لگا دی گئی، اس کے تعلیمی اداروں، مدارس وغیرہ کو بھی بند کر دیا گیا۔ عوامی لیگ اور حسینہ واجد نے ایک طرف سے جماعت اسلامی کو قبر میں دفنا کر اوپر گھاس تک اگا لی تھی۔ ایسے میں اگر جماعت اسلامی پھر سے ابھر کر سامنے آئی، اس نے اپنی سیاسی طاقت کئی گنا بڑھا لی، اپنی حمایت میں بے تہاشا اضافہ کیا، نوجوانوں میں اثرونفوذ حاصل کرنے کی کوشش کی، جین زی کے ساتھ وہ کنیکٹ ہونے کی کوشش کر رہی ہے، الیکشن میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اور گورنمنٹ ان ویٹنگ والی پوزیشن پر آگئی ہے تو یہ ہر اعتبار سے بڑی بلکہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ صرف سال ڈیڑھ سال پہلے تک اس کامیابی کا کوئی تصور تک نہیں کرسکتا تھا۔

بی این پی کو فتح کیوں اور کیسے ملی؟
بی این پی کو سب سے بڑا ایڈوانٹیج یہ ہے کہ وہ بنگلادیش کی پرانی جماعت ہے، ایک سے زیادہ بار اقتدار میں رہ چکی ہے، بنگلادیشی عوام، بزنس مین، کاروباری طبقہ، بیورو کریسی، فوج، میڈیا اور باہر کی دنیا خاص کر مغرب بھی بی این پی سے اچھی طرح واقف ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس پارٹی سے کیسے ڈیل کرنا ہے؟ اس کے بہت سے لوگوں سے ان کی پرانی شناسائی اور تعلق ہے۔ بی این پی کی کامیابی کوئی غیر متوقع عنصر یا انقلاب نہیں بلکہ یہ ایک سافٹ چینج ہے، عوامی لیگ جاچکی۔ بی این پی نے اس کی جگہ فطری طور پر لینا تھی، لے لی۔ اس الیکشن میں البتہ جماعت اسلامی کا جیتنا ایک انقلاب ہوتا، ایک غیر متوقع تبدیلی۔ جو بہت سوں کو پریشان، خوفزدہ یا محتاط کردیتی۔ بی این پی کی کامیابی میں اس فیکٹر نے بہت بڑا اور اہم ترین کردار ادا کیا۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ امریکا، یورپی یونین، چین، عرب امارات، انڈیا اور خود پاکستان بھی بی این پی کی جیت چاہتا تھا۔ اس جیت سے یہ تمام فریق یا فیکٹرز ریلیکس ہوجائیں گے۔ اب آئندہ کی پلاننگ ہوگی کہ اپنے اپنے مفادات کے اعتبار سے کیسے آگے بڑھنا ہے اور نئی حکومت سے کیا کچھ حاصل کرنے کی پلاننگ کرنا ہے؟ یعنی سب کچھ نارمل انداز میں ہوگا۔

طارق رحمان کو وطن واپسی پر جو پروٹوکول دیا گیا، اس سے ہر ایک کو اندازہ ہوگیا کہ وہ مستقبل کے وزیراعظم ہیں۔ جنوبی ایشیائی سیاست میں یہ اہم عنصر ہے۔ بہت سے لوگ جیتی ہوئی پارٹی کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اکثر لوگ دوسرے نمبرپر آنے والے کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے۔ بی این پی کی کامیابی میں ایک بڑا فیکٹر عوامی لیگ کا الیکشن سے باہر ہونا ہے۔ عوامی لیگ ملک کی ایک بڑی جماعت رہی ہے، اس کا اپنا خاص ووٹ بینک تھا۔ عوامی لیگ پر اگر پابندی نہ لگتی، وہ الیکشن لڑتی تو اس کا ووٹ بینک اس کی طرف جاتا اور یوں جماعت اسلامی کو فائدہ ہوجاتا۔ عوامی لیگ پر پابندی کی وجہ سے اس کے ووٹرز کے لیے 2آپشن تھے، مذہبی جماعت اسلامی یا پھر کسی حد تک سیکولر، ماڈریٹ بی این پی۔ فطری طور پر ان کا انتخاب بی این پی ہی ہونا تھا۔ عوامی لیگ کا ایک فیصد ووٹر بھی جماعت کی طرف نہیں گیا ہوگا، یہ ووٹ بینک خواہ جس قدرسکڑا ہو، بہرحال 10، 12یا 15فیصد تو ہوگا ہی، آخری نتیجے میں یہ فیصلہ کن رہا۔ بی این پی کو ان کا اپنا روایتی ووٹ اور ملک بھر کے لیفٹ ونگ ووٹ کے ساتھ، لبرل سیکولر ووٹ، عوامی لیگ ووٹ، شہری آبادی میں نسبتاً ماڈرن خواتین ووٹ بھی ملا۔

ملک بھر کے بیشتر کاروباری طبقات کا ووٹ بھی اس طرف گیا۔ بی این پی کی انتخابی حکمت عملی بھی اچھی رہی۔ ان کی ریلیاں، میڈیا کی موجودگی، بڑے اسٹیج، ڈیجیٹل مہم سب کافی منظم اور وسائل سے بھرپور تھیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کیمپین پر واضح سرمایہ کاری دکھائی دی۔ انتخابی دن لاجسٹکس (گاڑیاں، کارکنوں کی موبائلزیشن، پولنگ ایجنٹس) بھی مضبوط تھے۔ بی این پی نے الیکشن میں نظریاتی اور پرانے پارٹی کارکنوں کی جگہ مضبوط مقامی امیدوار کھڑے کرنے پر فوکس کیا۔ سابق ایم پیز، بااثر کاروباری شخصیات اور مقامی دھڑے کے لیڈرز کو ٹکٹ دیے گئے۔ یہ وہی بات ہے جسے پاکستان، انڈیا میں الیکٹ ایبل اسٹریٹجی کہا جاتا ہے۔ کچھ حلقوں میں پارٹی نے اتحاد کے تحت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے ووٹ تقسیم ہونے سے بچایا۔ جماعت اسلامی کی مہم زیادہ نظریاتی، کیڈر بیس اور رضاکار نیٹ ورک پر مبنی تھی جبکہ بی این پی کی مہم زیادہ وسیع، میڈیا سینٹرک اور مالی طور پر نمایاں تھی۔ (جاری ہے)