اسلام آباد:اسلام آبادمیں اپوزیشن اتحاد کااحتجاجی دھرنے ہفتے کو بھی جاری رہا۔علامہ راجہ ناصر عباس،محمود اچکزئی اور بیرسٹر گوہر پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا دیے بیٹھے رہے ۔
سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنما کے پی کے ہاؤس میں دھرنا دیے بیٹھے رہے۔دونوں مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہمارا دھرنا جاری ہے اور جاری رہے گا،ہمارا پانی اور کھانا بند کر دیا گیا ہے لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے۔
ادھروفاقی پولیس نے ریڈ زون کو پھر سے سیل کردیاہے۔ریڈزون میں داخلے کیلئے صرف مارگلہ روڈ کو کھلا رکھا گیا ہے، مارگلہ روڈ پر تلاشی لینے کے بعد گاڑیوں کو شاہراہ دستور پر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
پارلیمنٹ ہائوس اور ڈی چوک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے، پولیس کی قیدی وینیں اور بکتر بند گاڑیاں پارلیمنٹ ہاوس اور کے پی کے ہائوس کے باہر موجود رہیں۔اس موقع پراپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہاکہ 100 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کو آپ یہاں قیدی بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دھمکیاں دینے والے نہیں حکومت رابطہ کرے یا نہ کرے دھرنا جاری رہے گا، مطالبات نہ مانے گئے تو رمضان میں بھی دھرنا جاری رہے گا، یہیں پر روزے بھی رکھیں گے اور تراویح بھی پڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے 3 ڈاکٹرز کے ناموں پر مشتمل خط لکھا تھا جبکہ وزیر اعظم نے اس پر کچھ بھی نہیں کیا۔بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع نہ ہو وہ جس اسپتال میں جانا چاہیں علاج کرائیں۔
دوسری جانب پولیس نے صحافیوں کو دھرنے کی کوریج اور پی ٹی آئی رہنمائوں کے انٹرویوز سے روک دیا۔پولیس نے میڈیا کو خیبر پختونخوا ہائوس کی طرف جانے سے روک دیا۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز جواد طارق کا کہنا ہے کہ کسی صحافی کو انٹرویو کی اجازت نہیں، کسی صحافی نے انٹرویو کی کوشش کی تو کیمرا چھین لیا جائے۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ جمعہ کو کسی صحافی کو نہیں روکا، آج ہمیں ہدایات ملیں کسی صحافی کو انٹرویو کرنے اور اندر نہ جانے دیا جائے جبکہپارلیمنٹ ہاؤس کے تمام داخلی دروازے بند ہونے کی وجہ سے ارکان کا ناشتہ بھی وقت پر نہیں پہنچایا جا سکا۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات بیرسٹر گوہر سے حکومتی شخصیات کا رابطہ ہوا تھا اور بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معائنے کے لیے ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دینے کی یقین دھانی کرائی گئی تھی۔

