رپورٹ: علی ہلال
ایک ایسے وقت میں جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ میں شدت آ رہی ہے، پاکستان ایک ممکنہ ثالث اور مذاکرات کے میزبان کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی روابط کے باعث ممکن ہوئی ہے جس نے اسے نسبتاً غیرجانبدار فریق کی حیثیت دی ہے۔ اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ ایران میں طویل جنگ خطے میں پھیل کر پاکستان کو بھی متاثر کرسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک تحریک طالبان کے ساتھ کشیدگی اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں جیسے مسائل کا سامنا کررہا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر جنگ بندی کی ایک مشترکہ تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ تنازع کے دائرہ کار کو مزید وسیع ہونے سے روکا جا سکے۔مشرق وسطیٰ کے اُمور کے ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں تو پاکستان کا عالمی مقام نمایاں طور پر بلند ہو سکتا ہے۔ بالخصوص 1972 ءمیں امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرنے کے بعد یہ سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔
بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ پاکستان کیوں بطور ثالث ابھرا؟اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بطور ثالث ابھرنا کئی اہم عوامل کا نتیجہ ہے۔پاکستان کی ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے جبکہ پاکستان کے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے بااثر علاقائی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کو اس تنازع میں ثالث کے طور پر سامنے آنے کی وجہ امریکی اور ایرانی حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات بھی ہیں جس کے باعث پاکستان دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول بھی ہے۔ 2025 ءمیں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے دورہ امریکا نے امریکی انتظامیہ، خصوصاً اسٹیو وٹکوف جیسے اہم عہدیداروں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان ایران کے ہمسایہ ممالک میں نسبتاً کم مخالف سمجھا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 900 کلومیٹر طویل حساس سرحد ہے جو صوبہ بلوچستان سے متصل ہے، جہاں دہائیوں سے شورش جاری ہے جس سے پاکستان کو ثالثی کے لیے ایک قابلِ اعتماد حیثیت حاصل ہوئی۔ جنوری 2024 ءمیں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم بعدازاں تعلقات میں بہتری آگئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان کو دیگر ممکنہ ثالثوں کے مقابلے میں زیادہ غیرجانبدار سمجھ سکتا ہے کیونکہ خلیجی ممالک کے برعکس پاکستان میں امریکی فوجی اڈے موجود نہیں اور وہ خود ایک مضبوط عسکری قوت رکھتا ہے۔
پاکستان کا بطور ثالث کردار نیا نہیں۔ 1979 ءمیں سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد سے ایران کے مفادات امریکا میں پاکستان کے سفارت خانے کے ذریعے دیکھے جاتے رہے ہیں، جس نے اسلام آباد کو دونوں ممالک کے درمیان ایک غیررسمی رابطہ کار کا کردار دیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اپنی ثالثی کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کا ایک اہم موقع سمجھ رہا ہے۔ اس کے ذریعے وہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا کر تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتا ہے تاکہ چین پر معاشی انحصار کم کیا جاسکے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اس جنگ کے خاتمے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم سفارتی کھلاڑی بن سکتا ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع حاصل کرسکتا ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں کو سرحدی سیکیورٹی کے مسائل خصوصاً بلوچستان میں شورش اور افغانستان میں عدم استحکام جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ اس لیے ایران میں طویل جنگ پاکستان کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتی ہے۔
گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اس کے باوجود پاکستان کوشش کررہا ہے کہ وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے بچے اور سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرے۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ سے آنے والے تیل پر انحصار کرتا ہے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے۔ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے جس کے بعد حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ بحران پاکستان کی تاریخ کے بڑے توانائی اور معاشی چیلنجز میں سے ایک بن سکتا ہے، خصوصاً اِس لیے بھی کہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرکے ملک کو قیمتی زرِمبادلہ بھیجتے ہیں۔
خیال رہے کہ 28 فروری کو پاکستان نے جنگ کے آغاز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔24 مارچ کو پاکستان کو ممکنہ مذاکراتی میزبان کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ امریکا نے ایران کو پاکستان کے ذریعے 15 نکاتی منصوبہ بھی بھجوایا۔ 28 مارچ کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان رابطہ ہوا، جس میں اعتماد سازی پر زور دیا گیا۔ 29 مارچ کو پاکستان میں ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، جس میں آبنائے ہرمز اور ممکنہ مذاکرات پر غور کیا گیا۔31 مارچ کو پاکستان اور چین نے پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جس میں فوری جنگ بندی، مذاکرات، شہریوں کا تحفظ اور عالمی قوانین کی پاسداری شامل ہے۔پاکستان نے ماضی میں بھی اہم سفارتی کردار ادا کیے ہیں۔ماضی کی بات کی جائے تو 1972 ءمیں یحییٰ خان نے امریکا اور چین کے درمیان خفیہ رابطوں میں مدد دی، جس کے نتیجے میں رچرڈ نکسن کا تاریخی دورہ چین ممکن ہوا۔اسی طرح 1988 ءکے جنیوا معاہدوں میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، جن کے نتیجے میں سوویت یونین کی افواج نے افغانستان سے انخلا کیا۔پاکستان اس وقت ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہا ہے، عالمی سفارتی کردار کو مضبوط بنانے کے ساتھ دوسری طرف خود کو ایک بڑے علاقائی تنازع سے محفوظ رکھنا پاکستان کی پالیسی ہے۔

