اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن نعمتوں سے نوازا ہے وہ دو طرح کی ہیں: ایک: مادی نعمتیں جن میں کھانا، کپڑا، علاج اور مکان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، دوسرے: روحانی نعمت اور وہ ہے اسلام۔ یہ روحانی نعمت عالم آخرت میں تو ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے ہی، اس دنیامیں بھی ہماری ضرورت ہے اور زندگی کے ہر مرحلہ میں ہمیں اس سے روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ہمیں کیا کھانا چاہئے اور کیا نہیں کھانا چاہئے؟ ہمارے لباس میں کن باتوں کی رعایت ہونی چاہئے؟ بال بچوں کے ساتھ ، والدین کے ساتھ، شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا رویہ ہونا چاہئے؟ ہمارے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہیں؟ معاملات میں ہم کس طرح صفائی اور شفافیت کو برقرار رکھیں اور معاشرہ کو ظلم و ناانصافی سے بچائیں؟ یہ سب ہمیں مذہب ہی سے معلوم ہوتا ہے۔ غرض کہ شائستہ و مہذب زندگی اور انصاف پر مبنی سماجی تعلقات کے لیے انسان ہر لمحہ اپنے خالق و مالک کی رہنمائی کا محتاج ہے اور اسلام کے ذریعہ ہمیں یہ رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
ہماری زیادہ تر جدوجہد کا محور موجودہ زندگی کی راحتوں اور آسائشوں کا حصول ہے اوراگر یہ کوشش شریعت کی مقرر کی ہوئی حدوں میں ہو تو اس میں حرج نہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہی دنیا کے تمام کاروبار بلا وقفہ جاری و ساری ہیں تاہم ہماری زندگی میں دین کو قائم رکھنے کے بنیادی طور پر دو مراکز ہیں: مسجدیں اور مدرسے۔ مسجدیں اصل میں تو مسلمانوںکے ہمہ مقصدی مراکز ہیں، عہد نبوی میں مسجدیں تعلیم گاہ بھی تھیں، یہ صلح سینٹر بھی تھے جس میں مسلمانوں کے باہمی اختلافات طے کیے جاتے تھے۔ یہیں عدالتیں قائم ہوتی تھیں اور ہر طرح کے فیصلے ہوتے تھے۔ امور سلطنت پر مشورے ہوتے تھے، جنگ و امن کے فیصلے کئے جاتے تھے، غرض کہ مسلم سماج اوراسلامی مملکت کے تمام ضروری امور یہیں طے ہوا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ مسجدوں کی یہ ہمہ گیر خدمت محدود ہوتی گئی لیکن اب بھی یہ مسلم سماج کا ایک اہم مرکز ہے، اور کم سے کم چار ضروری کام مسجدوں ہی سے انجام پاتے ہیں: اوّل: نماز اور اعتکاف جیسی عبادت۔ دوسرے: اصلاح معاشرہ اور مبادیات دین کی دعوت، جمعہ کا تو اس سلسلہ میں ہے ہی بہت اہم رول، لیکن اس کے علاوہ درس قرآن، درس حدیث اور فقہی مسائل کی رہنمائی کے لیے بھی مسجدیں ہی سب سے اہم مراکزہیں۔ تیسرے: مسلمانوںکے باہمی ربط کو باقی رکھنے میں بھی مساجد کا اہم کردار ہے۔ چوتھے: مکاتب کے ذریعہ بنیادی دینی تعلیم کا انتظام، مسلمان کو دین سے جوڑے رکھنے میں ان کاموں کا اہم حصہ ہے۔
مدارس کا وجود یوں تو ہر جگہ اہم ہے لیکن جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں وہاں تو ان کی حیثیت شہ رگ کی ہے۔ ہندوستان میں مدارس کا قیام ہی اس پس منظر میں ہوا کہ مسلمانوں کو فتنۂ ارتداد سے بچایا جائے اور دین پر ثابت قدم رکھا جائے۔موجودہ حالات میں مدارس بھی دین کے چار بنیادی کاموں کو انجام دے رہے ہیں اور شب و روز ان مقاصد کے لیے افراد کار تیار کرنے میں مشغول ہیں: اول: دین کی اعلیٰ تعلیم، دوسرے: احکام شریعت کی تحقیق تاکہ لوگ اس بات کو سمجھ سکیں کہ اسلام زندگی سے مربوط نظامِ زندگی ہے اور ہر عہد میں رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تیسرے: اسلام کا دفاع اور اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے فتنوں کا علم اور دلیل کے ذریعہ رد، چوتھے: دینی تحریکات کی علمی وفکری مدد اور ان کے لیے افرادی وسائل کی فراہمی۔ مدارس کے نصابِ تعلیم اور نظامِ تربیت میں قدم قدم پر ان ا مور کا لحاظ رکھا گیا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ مدارس ان تمام کاموں کو بڑی حد تک خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔
اس لیے یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مساجد اور مدارس مسلمانوں کی دینی زندگی کے لیے بے حد اہم ہیں ۔ اگر یہ نہ ہوتے تو ہندوستان اور اس جیسے ممالک میں مسلمانوں کو ایمان پر باقی رکھنا بے حد دشوار ہوتا اور اتداد و الحاد کا طوفان نئی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔دین کے یہ دونوں مراکز دینی خدمت گزاروں کے ذریعہ قائم ہیں۔ یوں تو ملک میں مدارس کی تعداد ہزاروں میں ہے، ہر سال فارغ ہونے والے علما اور حفاظ بھی بعید نہیں کہ پچاس ہزار تک پہنچتے ہوں لیکن ان کی ایک بہت ہی مختصر تعداد دینی خدمت کی لائن میں آتی ہے۔ ان ہی کے ذریعہ مساجدو مدارس کا نظام قائم ہے۔ یہ چیز بھی علما کے حصہ میں اپنے بزرگوں کی میراث کے طور پر چلی آرہی ہے کہ وہ بہت ہی معمولی معاوضہ پر دینی خدمت انجام دیتے ہیں۔ یہ اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے معاوضہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے جبکہ ان کی خدمت کے اوقات بمقابلہ دوسرے لوگوں کے کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بعض دفعہ عصری تعلیمی اداروں میں انگریزی ،حساب اور دیگر عصری مضامین پڑھانے والے ساتھیوں کے مقابلہ ان کی تنخواہ کم رکھی جاتی ہے لیکن پھر بھی وہ حفاظت دین کے جذبہ کے تحت اس پر قناعت کرتے ہیں۔ اگر دین کے یہ خدمت گزار نہ رہیں تو اگلے بیس پچیس سالوں میں مسلمانوں کے لیے اپنی نسلوں کے ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔
مدارس و مساجد کے نظام کو فعال اور خودمختار رکھنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیاکہ ان کا حق الخدمت عام مسلمانوں کے تعاون سے ادا ہو۔ اس لیے اگر ہمیں ان مراکز کو اپنے اصل مقاصد پر قائم رکھنا ہے تو صحیح طریقہ یہی ہے کہ مسلمان خود ان کی ضروریات پوری کریں۔ اس سلسلہ میں عام مسلمانوں کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مدارس کے اساتذہ و عملہ اور مساجد کے ائمہ و موذنین پوری قوم کی خدمت کر رہے ہیں، اس لیے قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہتر اور باعزت طریقے پر ان کی کفالت کریں، اس کفالت کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مدارس و مساجد کی انتظامیہ کو تعاون پیش کیا جائے اور حالات کے پس منظر میں ہنگامی مدد کی جائے۔ دوسرے: دینی خدمت گزاروں کی انفرادی طور پر کفالت قبول کی جائے۔ اگر ہر شہر میں دس اصحاب خیر مل کر اپنا گروپ بنائیں اوریہ گروپ خدام دین میں سے ایک فرد یاایک سے زائد افراد کی بنیادی ضروریات راشن، علاج اور بچوں کی تعلیمی فیس کا آئندہ چھ ماہ کے لیے ذمہ لے لیں اور خاموشی کے ساتھ اپنی اعانت ان تک پہنچا دیں توان پر کچھ زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا اورکتنے ہی خدام دین کی کفالت ہو جائے گی۔
ہر شہر میں ایسے ہزاروں گروپ بن سکتے ہیں اور بہ سہولت مدارس اور مساجد کے خدمت گزاروں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ یہ دس افراد کے گروپ کی بات تو بطور سہولت کہی گئی ہے ورنہ ملت میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو تنہا خدمتِ دین میں مشغول کئی خاندان کی کفالت کر سکتے ہیں۔ اس طبقہ پر خرچ کرنے میں دوہرا اجر ہے؛ ایک تو صدقہ کا، دوسرا بالواسطہ دینی خدمت میں تعاون کا۔ چنانچہ مشہور محدث امام عبداللہ بن مبارک کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی اعانتیں علما پر ہی خرچ کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ مقام نبوت کے بعد علما سے بڑھ کر کوئی بلند مرتبہ نہیں۔ (الاتحاف) مشہور فقیہ علامہ علا الدین حصکفی فرماتے ہیں : ”محتاج عالم یا عابد و زاہد لوگوں پر صدقہ کرنا افضل ہے۔” خود قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” صدقہ میں اصل حق ان حاجت مندوں کا ہے جو اللہ کی راہ میں گھِر گئے ہیں، ملک میں کہیں چل پھِر نہیں سکتے، دست سوال نہ پھیلانے کی وجہ سے نا واقف ان کو مالدار سمجھتے ہیں، تم ان کو ان کے چہرہ سے پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے اور تم مال میں سے جو کچھ خرچ کروگے ، اللہ تعالی اس سے خوب واقف ہیں ۔” (البقرہ)
اِس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جو محتاج اور ضرورت مند حضرات دین کے کام کی وجہ سے کسب معاش میں مستقل طور پر لگنے کے موقف میں نہ ہوں، وہ اعانتوں کے زیادہ مستحق ہیں، اسی لیے اکابر مفسرین کا رجحان یہی ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت اس سے اصحاب ِصفہ یعنی صفہ میں مقیم طالبانِ علوم نبوت کی طرف اشارہ تھا۔ (دیکھئے: تفسیر کبیر:، تفسیر قرطبی) بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے یہ طریقہ مروج تھا کہ اہل ثروت صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھجور اصحاب ِصفہ کے لیے پیش کیا کرتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کو اس کی ہدایت ہوتی تھی، اس لیے یوں تو تمام محتاج و ضرورت مند مسلمانوں کی مدد کرنی چاہئے لیکن اس طبقہ کا خصوصی استحقاق قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث سے بھی، سلف صالحین کے عمل سے بھی اور یہ زیادہ مکمل طریقے پر انفاق کے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔ اگر دشوار حالات میں اس طبقہ کا لحاظ نہیں کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ جو مختصر سی تعداد خدمت دین کے میدان میں آتی ہے، وہ بھی آئندہ اس خارزار میں قدم رکھنے سے اجتناب کرنے لگے گی اور اُمت کو مخلص خدامِ دین کو چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑے گا۔

