عالمی اداروں خاص کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹ نے افغانستان کی طالبان حکومت کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اس رپورٹ میں کھل کر واضح الفاظ میں افغان طالبان حکومت کو دہشت گرد گروپوں کا سپورٹر قرار دیا ہے۔ یہ انتہائی سنگین دستاویزی رپورٹ ہے، جو پاک، افغان تعلقات اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک ”چارج شیٹ” کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس رپورٹ میں کئی نکات بہت اہم اور یہ بڑی صراحت کیساتھ افغان طالبان حکومت پر الزام لگاتے ہیں۔
ٹی ٹی پی کے لیے سازگار ماحول: رپورٹ کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ افغان طالبان کی انتظامیہ نہ صرف ٹی ٹی پی کو پناہ دے رہی ہے، بلکہ انہیں آپریشنل آزادی بھی فراہم کر رہی ہے۔ سہولت کاری: افغان حکام ٹی ٹی پی کو ”مہمان” کے طور پر دیکھتے ہیں اور انہیں اسلحہ، ٹھکانے اور نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے۔ حملوں میں اضافہ: رپورٹ براہِ راست اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ لہر (جو دو ہزار چوبیس سے اب تک شدت اختیار کر گئی ہے) کا تعلق افغانستان میں موجود ان محفوظ پناہ گاہوں سے ہے۔ بی ایل اے، ٹی ٹی پی (فتنة الخوارج) اور داعش (خراسان) کا خطرناک گٹھ جوڑ: یہ بہت اہم پہلو ہے۔ اس رپورٹ میں سب سے تشویشناک انکشاف ان گروہوں کا آپس میں اشتراک ہے جو نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف سمجھے جاتے تھے۔
مشترکہ تربیتی کیمپ: رپورٹ کے مطابق بی ایل اے (جو ایک قوم پرست علیحدگی پسند گروہ ہے) اب تحریک طالبان پاکستان (جو مذہبی شدت پسند ہے) کے ساتھ مل کر تربیتی کیمپ چلا رہی ہے۔
وسائل کا تبادلہ: یہ گروہ ایک دوسرے کو اسلحہ، انٹیلیجنس اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔
داعش (آئی ایس کے پی) کا کردار: رپورٹ بتاتی ہے کہ بعض مقامات پر داعش خراسان بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بن رہی ہے، جو پورے خطے (بشمول سی پیک منصوبوں) کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ آنے کے بعد افغان طالبان حکومت پر پاکستانی الزامات محض دعوے نہیں رہے بلکہ ان پر ایک عالمی ادارے کی مہر لگ چکی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد کابل پر بین الاقوامی پابندیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ وہ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں (جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ افغان سر زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی)۔ اس رپورٹ سے نہ صرف پاکستانی موقف مضبوط ہوا ہے بلکہ اب ریجنل ممالک بھی پاکستان کے دعوے کے قائل ہو گئے ہوں گے۔ پاکستان اب عالمی سطح پر یہ ثابت کرنے میں حق بجانب ہے کہ اس کی سیکیورٹی مشکلات کی جڑیں سرحد پار ہیں۔ فروری میں ریلیز ہونے والی سلامتی کونسل کی چھبیس صفحات پر مشتمل اس رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کا ایک ایسا ”کنفیڈریشن” بن رہا ہے جس کا واحد مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کا اکٹھا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اب یہ لڑائی صرف نظریاتی نہیں رہی بلکہ ایک منظم پراکسی وار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اس رپورٹ میں چند ایسے چونکا دینے والے انکشافات ہیں جو عام خبروں میں نہیں آئے:ٹی ٹی پی کی تعداد: رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مسلح جنگجوؤں کی تعداد چھ سے ساڑھے چھ ہزار کے درمیان ہے، جو ننگرہار، کنڑ، اور خوست جیسے سرحدی صوبوں میں مقیم ہیں۔ القاعدہ کے ساتھ گٹھ جوڑ: رپورٹ کے مطابق القاعدہ (اے کیو) ٹی ٹی پی کو تربیت اور نظریاتی رہنمائی فراہم کر رہی ہے تاکہ اسے ایک ”علاقائی خطرہ” بنایا جا سکے۔ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ: رپورٹ میں خاص طور پر ذکر ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خودکش دستے (مجید بریگیڈ) کو افغانستان میں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں اور وہ ٹی ٹی پی کے انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی: رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ گروہ اب صرف کلاشنکوف تک محدود نہیں بلکہ ان کے پاس رات کو دیکھنے والے آلات جیسے نائٹ ویژن گوگلز اور جدید امریکی اسلحہ بھی ہے جو سابقہ افغان فوج کا حصہ تھا۔ افغان طالبان کی حکمتِ عملی کا ذکر : رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی پر دبا ڈالنے کے بجائے انہیں ”ری سیٹل” کرنے کا بہانہ بناتے ہیں (یعنی انہیں سرحد سے دور منتقل کرنا)، لیکن حقیقت میں ان کی عسکری سرگرمیاں کم نہیں ہوئیں۔
اقوام متحدہ (سلامتی) کی حالیہ رپورٹس اور انٹیلی جنس لیکس کی روشنی میں، افغانستان کے وہ مخصوص علاقے اور صوبے درج ذیل ہیں جہاں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے تربیتی مراکز اور محفوظ ٹھکانے موجود ہیں:ٹی ٹی پی کے اہم مراکز: رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے افغانستان کے مشرقی اور جنوبی صوبوں میں مضبوط جڑیں بنا لی ہیں:
ننگرہار : یہ ٹی ٹی پی کا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ان کے تربیتی مراکز کے ساتھ ساتھ ”اعلی قیادت” کے ٹھکانے بھی موجود ہیں۔ یہاں سے مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں کارروائیاں کنٹرول کی جاتی ہیں۔ کنڑ: یہ علاقہ اپنی دشوار گزار پہاڑیوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو گوریلا جنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔ خوست اور پکتیکا: یہ صوبے براہِ راست پاکستان کے وزیرستان کے علاقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہاں ٹی ٹی پی کے ”لاجسٹک مراکز” ہیں جہاں سے خودکش بمباروں اور اسلحہ کو پاکستان منتقل کیا جاتا ہے۔ کابل: تشویشناک بات یہ ہے کہ رپورٹ میں کابل کے مضافات میں بھی ٹی ٹی پی کے ارکان کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں انہیں افغان حکام کی خاموش حمایت حاصل ہے۔ بی ایل اے کے ٹھکانے: بلوچ علیحدگی پسندوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ اب صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے: قندھار:تاریخی طور پر بی ایل اے کی قیادت یہاں مقیم رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قندھار میں بی ایل اے کے ”سیف ہاؤسز” موجود ہیں جہاں مجید بریگیڈ کے ارکان کو منصوبہ بندی کے لیے جگہ فراہم کی جاتی ہے۔ نیمروز اور ہلمند: یہ صوبے بلوچستان (پاکستان) کی سرحد کے ساتھ واقع ہیں۔ یہاں بی ایل اے کے جنگجوؤں کو صحرائی جنگ اور آئی ای ڈی (دھماکہ خیز مواد) بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ مشترکہ کیمپ: رپورٹ میں ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ صوبہ کنڑ اور ننگرہار کے کچھ حصوں میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے مشترکہ تربیتی کیمپ بھی دیکھے گئے ہیں، جہاں وسائل کا تبادلہ ہوتا ہے۔
تربیتی مراکز میں کیا سکھایا جا رہا ہے؟ اقوام متحدہ کی رپورٹ ان مراکز کی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے:جدید اسلحہ کی تربیت: نیٹو افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ (جیسے ایم سولہ رائفلیں اور تھرمل سائٹس) استعمال کرنا سکھایا جا رہا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی: حالیہ عرصے میں ان گروہوں کی جانب سے چھوٹے ڈرونز کے استعمال کی تربیت کے شواہد بھی ملے ہیں۔ خودکش بمباروں کی تیاری: خاص طور پر ”مجید بریگیڈ” اور ٹی ٹی پی کے خودکش دستوں کے لیے مخصوص مائنڈ سیٹ ٹریننگ۔ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈرز کابل اور دیگر شہروں میں کھلے عام گھومتے ہیں اور افغان طالبان کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ کسی ریاست کے لیے یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے کہ وہ پڑوسی ملک کے مطلوب دہشت گردوں کو سرکاری یا نیم سرکاری سطح پر پناہ اور پروٹوکول فراہم کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان یہ منفی رول تین مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں:لیوریج: پاکستان کو مختلف معاملات (جیسے ڈیورنڈ لائن یا تجارت) پر دبا میں رکھنا۔ اندرونی بغاوت کا ڈر: اگر وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، تو خدشہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو داعش میں شامل ہو جائیں گے، جو طالبان کے لیے خود ایک بڑا خطرہ بن جائے گا۔ تزویراتی گہرائی (سٹریٹجک ڈیپتھ): پاکستان کے اندر اثر و رسوخ رکھنے والے گروہوں کو زندہ رکھنا۔
اس رپورٹ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کی کھلی حمایت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان میں جو مذہبی حلقے افغان طالبان کو شک کا فائدہ دیتے یا ان کے ہم مذہب، ہم مسلک ہونے کی وجہ سے رعایت دیتے تھے، وہ غلطی پر ہیں۔ دہشت گرد گروپوں کو سپورٹ کرنے والی ریاست اور اس کی قیادت کبھی اسلامی نہیں ہو سکتی۔ یہ بات ہم پاکستانیوں، خاص کر ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں اور علماء کو جتنا جلد سمجھ میں آجائے، اتنا ہی ملک وقوم اور خود دینی طبقے کے لئے اچھا ہے۔

