تحریر: اُم محمد حامد
حیا انسانیت کا وہ بیش قیمت جوہر اور اِسلامی معاشرت کا وہ مضبوط ستون ہے جس پر پاکیزہ معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔
خالقِ کائنات نے انسان کو دیگر مخلوقات پر جو فضیلت عطا فرمائی ہے اُس کا ایک بڑا سبب شرم و حیا اور عفت و عصمت کی وہ حدود ہیں جو انسانی وقار کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ لیکن عصرِ حاضر میں تہذیبی یلغار اور مغربی افکار کی اندھی تقلید نے مسلم معاشرے کی ان اخلاقی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جس کی ایک بدترین شکل ’ویلنٹائن ڈے‘ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ یا کسی مخصوص شخص کی یادگار نہیں بلکہ یہ اس گہری سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے دلوں سے غیرتِ ایمانی کو کھرچ کر پھینک دینا اور انہیں اباحیت پسندی کی راہ پر ڈالنا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم سے حیا چھین لی جائے تو وہ اخلاقی پستی کے اس گڑھے میں جا گرتی ہے جہاں نیکی اور بدی کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ اس حوالے سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ جامع حدیثِ مبارکہ ہماری مکمل رہنمائی کرتی ہے جس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرتے پھرو۔“ (صحیح بخاری) اس حدیثِ مبارکہ کی تشریح ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حیا وہ لگام ہے جو انسان کو برائی سے روک کر رکھتی ہے، جب یہ رکاوٹ ختم ہو جائے تو انسان کی عقل اور ایمان مغلوب ہو جاتے ہیں اور وہ ہر قسم کے گناہ، بے حیائی اور اللہ کی نافرمانی کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے منانا اسی ’بے حیائی‘ کی عملی تصویر ہے جہاں انسان اپنی غیرت و شرافت کو بالائے طاق رکھ کر وہ سب کچھ کرتا ہے جو ایک سلیم الفطرت انسان کے لیے باعثِ شرم ہے۔
اگر ہم اس دن کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ریشہ ریشہ مشرکانہ عقائد اور توہم پرستی میں پیوست ہے۔ قدیم رومیوں کے ہاں ’لوپر کالیا‘ نامی ایک میلہ منایا جاتا تھا جس میں ننگے پن اور بے حیائی کا وہ طوفان برپا ہوتا تھا جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرمسار ہوجائے۔ بعدازاں عیسائی کلیسا نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس مشرکانہ رسم کو ایک نام نہاد پادری ’سینٹ ویلنٹائن‘ کے نام سے منسوب کرکے اسے ایک مذہبی لبادہ اوڑھا دیا، مگر اس کی روح وہی بے حیائی اور فحاشی ہی رہی جو آج کے دور میں ایک عالمی تجارتی فتنے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اِسلام کی نظر میں محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے لیکن اس کا اظہار صرف اور صرف نکاح کے مقدس بندھن کے اندر ہی جائز ہے۔ ویلنٹائن ڈے کی آڑ میں جس ’اظہارِ محبت‘ کی ترغیب دی جاتی ہے وہ درحقیقت ہوس پرستی، نامحرموں کے درمیان ناجائز تعلقات اور معاشرتی بگاڑ کا پیش خیمہ ہے۔
قرآنِ کریم نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ ”بدکاری کے قریب بھی مت جاو“ اور ویلنٹائن ڈے منانا اس گناہ کے قریب جانے کا سب سے بڑا راستہ ہے۔ یہ دن منانا نہ صرف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے بلکہ غیروں کی نقالی بھی ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت انتباہ فرمایا ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ قیامت کے دن انہی میں شمار ہوگا۔ایک مسلمان کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے رب کی ناراضگی مول لے کر ایک ایسی رسم کا حصہ بنے جس کا مقصد ہی حیا کا جنازہ نکالنا ہو….؟؟
یہ دن بے حیائی کا پرچار بھی ہے اور غیرت و شرافت کے اُس حصار کو توڑنے کی کوشش بھی جو ایک مومن مرد اور عورت کی عفت کی حفاظت کرتا ہے۔ اس دن کے نام پر ہونے والی تقریبات، تحائف کا تبادلہ اور مخلوط محفلیں دراصل ایمان کی جڑوں کو کھوکھلا کردیتی ہیں۔ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ مسلمان ہر اس کام سے دور رہے جس سے معاشرے میں فحاشی پھیلے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة النور میں اُن لوگوں کے لیے دردناک عذاب کی نوید سنائی ہے جو اہل ایمان کے درمیان بے حیائی پھیلانے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے سے بچنا محض ایک تہوار کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ یہ اپنے ایمان کی حفاظت، اپنی نسلوں کی پاکدامنی کا تحفظ اور اللہ ربُّ العزت کی رضا کی جستجو ہے۔ ایک غیرت مند معاشرے میں ایسی خرافات کی کوئی جگہ نہیں ہوسکتی جو نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف دھکیلیں۔ عفت کی حفاظت اور پاکیزہ زندگی کا حصول تب ہی ممکن ہے جب ہم مغرب کے اس زہریلے کلچر کو مسترد کرکے اپنی اسلامی اقدار کو سینے سے لگائیں۔
اے ایمان والو! یاد رکھیے کہ دنیا کی یہ عارضی لذتیں اور نام نہاد آزادی اللہ کی ناراضگی کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ سچی خوشی اور قلبی سکون صرف اللہ کی اطاعت میں ہے اور اس فتنے سے دوری اختیار کرنا ہی ہماری کامیابی، ہماری غیرت اور ہماری بندگی کا اصل امتحان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور پورے معاشرے میں حیا کے کلچر کو عام کریں تاکہ دشمن کی یہ تہذیبی سازش ناکام ہوسکے اور ہماری نسلیں ایمان کی روشنی میں پروان چڑھ سکیں۔

