”کفایت شعاری”

گزشتہ سے پیوستہ:
عاقل خان صاحب کی بات میں رتی برابر ہی سہی مگر کچھ نہ کچھ وزن ضرور ہے، عین ممکن ہے کہ بعض لوگ جب انہیں ”بڑا استاد” کہتے ہوں تو ان کے پیشِ نظر بخاری صاحب کی یہ والی ”استادی” رہتی ہو۔ کفایت بخاری صاحب پڑھاتے تو اچھا ہیں لیکن ان کے شاگرد پھر بھی ان سے خوش نہیں، انہیں ہمیشہ بخاری صاحب سے اس بات کا گلہ ہی رہا ہے کہ استاد جی نے کبھی شاگردوں کو اپنی جوتیاں ”سیدھی” کرنے کی سعادت حاصل نہیں کرنے دی… کیونکہ بخاری صاحب اپنی جوتیاں ہمیشہ سیدھی ہی رکھتے ہیں۔ اسی طرح ان کے شاگرد بیچارے کبھی نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں بخاری صاحب جیسے بڑے عالم دین کی جوتیاں اٹھانے کی سعادت ملی ہے… اس لیے کہ بخاری صاحب کو شاید تلخ تجربہ ہو چکا ہے وہ مسجد میں جائیں تو اپنی جوتیاں خوب چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی ”شاگرد” موقع پا کر اٹھا ہی نہ لے جائے۔

کفایت بخاری صاحب جب تک ہمارے ساتھ پڑھتے رہے ہم گواہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے کبھی نقل نہیں کی۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ عموماً طلبہ کمرہ امتحان میں کفایت شعاری سے کام نہیں لیتے اور اگر پرچے میں شیخ مجیب الرحمن کے ”چھ” نکات پوچھے گئے ہوں تو وہ عاقل خان صاحب کی طرح آگے پیچھے اور دائیں بائیں بیٹھے لڑکوں کی ”معلومات” سے فائدہ اٹھا کر انہیں قائد اعظم کے ”چودہ” نکات بنا کر ہی دم لیتے ہیں مگر کفایت بخاری صاحب نے ہمیشہ کفایت شعاری سے کام لیا چاہے وہ چھ نکات بھی پورے نہ لکھ پائے ہوں۔ وہ صرف اپنے علم پر ہی اکتفا کرتے تھے۔ عاقل خان صاحب نے ایک روز ہمیں یہ بتا کر حیران کر دیا کہ بخاری صاحب جیسے شخص نے بھی ایک دفعہ نقل کی ہے اور کسی محفل میں اپنی نقل کا سرعام ”اعتراف” بھی کیا ہے۔ ہمیں خان صاحب کی بات پر یقین نہ آیا، اگلے روز براہ راست بخاری صاحب سے پوچھ لیا کہ کیا عاقل خان صاحب کی روایت صحیح ہے۔ بخاری صاحب ہنستے ہوئے بولے بالکل ”صحیح” ہے، اس محفل میں عاقل خان صاحب نے مجھے ”صفائی” کا موقع دیتے ہوئے ”وضاحت” بھی مانگی تھی لیکن میری وضاحت سن کر بھی وہ ”مطمئن”نہیں ہو پائے تھے۔ بخاری صاحب کی بات سن کر ہم نے بھی انہیں ”مشکوک” نظروں سے دیکھا اور وضاحت چاہی۔ کہنے لگے میں نے وہاں کسی کے پوچھنے پر اپنی ”نقل مکانی” کا اعتراف کیا تھا کہ اب میں کامرہ سے حضرو آ گیا ہوں مگر عاقل صاحب کا ماننا یہ تھا کہ نقل تو نقل ہی ہوتی ہے چاہے نقل مکانی ہو یا نقل امتحانی۔

کفایت بخاری صاحب کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ ان کی یادداشت غضب کی ہے جس کا ہمیں بہرحال بہت نقصان ہوا کیونکہ ہم باوجود خواہش اور کوشش کے اپنی ذاتی لائبریری قائم نہ کر سکے۔ ہوا یوں کہ انہوں نے اپنے گھر میں کافی بڑی لائبریری بنا رکھی تھی کیونکہ وہ کتابیں پڑھنے کے رسیا تھے۔ ہم وقتاً فوقتاً ”پڑھنے کے بہانے” ان سے کتابیں مستعار لے لیا کرتے تھے۔ گھر لانے کے بعد انھیں ”پڑھنے” کی زحمت تو ہم نے کبھی کی نہیں، پڑھتے تو تب جب ”اس نیت” سے کتابیں لی ہوتیں، ہماری نیت یہ تھی کہ اس طرح آہستہ آہستہ خود ”اپنی لائبریری” بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر بخاری صاحب کی یادداشت نے ہماری لائبریری کبھی بننے ہی نہ دی کیونکہ وہ کتاب دینے کے بعد ”بھولتے” ہی نہیں تھے اور آخرکار ہمیں ”بادل ناخواستہ” واپس کرنا ہی پڑتی تھی۔ خود سوچیں کہ صرف ”رکھنے” کے شوق میں کتابیں ”خرید” کر لائبریری بنانا ہمارے لیے بھلا کہاں ممکن تھا!!

جب ایک دفعہ امتحان میں فرسٹ آنے پر ہمیں اسکول کی طرف سے انعام میں کچھ کتابیں دی گئیں تو البتہ ہمارے گھر میں بھی مختصر عرصے کیلیے ایک ”منی سی” لائبریری بن گئی۔ کفایت بخاری صاحب نے انعام ملنے کے کچھ دن بعد ہم سے پوچھا کیا وہ کتابیں ”پڑھی” ہیں؟ ہم جھوٹ تو بول نہیں سکتے تھے، سر کیساتھ اپنی”زبان” کو بھی ذرا ہلاتے ہوئے کہا… ”ہاں” وہ سب کی سب ”پڑی” ہیں۔ پھر ہمیں اچانک خیال آیا کہ بخاری صاحب کا ”بدلہ” چکانے کا یہ سنہری موقع میسر آ گیا ہے کیوں نہ انعام میں ملی کتابوں کا ”فائدہ” اٹھایا جائے اور ”پڑھنے” کیلیے کفایت بخاری صاحب کو دی جائیں اس طرح کم از کم وہ ”پڑھی” تو جائیں گی اور اس کے ساتھ بخاری صاحب کے اس احسان کا بدلہ بھی چکا سکیں گے جو وہ ہمیں اپنی کتابیں مستعار دے کر کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ کمال ”شان بے نیازی” سے ایک دن ہم نے وہ سب کتابیں اٹھا کر ان کے حوالے کر دیں۔ کفایت بخاری صاحب کی یادداشت جتنی اچھی ہے ہماری یادداشت اتنی ہی بری ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتابیں دینے کے بعد ہم بھول ہی گئے کہ واپس بھی لینی ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمیں ان کی ”ضرورت” ہی کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی بخاری صاحب نے بھی شاید انہیں ہماری طرف سے ”تحفہ” سمجھ لیا اور ازخود واپس کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ ایک روز عاقل خان صاحب انہیں ملنے گئے اور واپس آ کر ہمیں بتایا کہ بخاری صاحب نے تمہاری کتابیں اپنی بنا کے ”سرعام” بیٹھک والی الماری میں سجا رکھی ہیں۔ پھر خان صاحب نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا:
آپ کو اس کا ملال ہے یا نہیں مجھے تو سخت ملال ہوا اور میرا دل پکار اٹھا
… جو دیکھیں ان کو ”حضرو” میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

خان صاحب کی بات سن کر ہمیں ہنسی تو آئی مگر اسی وقت تہیہ کر لیا کہ اب اپنی لائبریری بنانے والی بات ہرگز نہیں سوچنی۔ کتاب کا اصل حقدار وہی ہے جس کے ہاں وہ ”پڑی” نہیں رہتی بلکہ ”پڑھی” جاتی ہے۔ اس بات کو کافی عرصہ بیت چکا ہے اب تک ہم اپنی مزید کئی کتابیں خود ان کے ”اصل مقام” تک پہنچا چکے ہیں…… الحمدللہ!