”اسکرین چھوڑو، کتاب اٹھاو“

خصوصی رپورٹ: ساجدہ فرحین فرحی
کیا ہم جدیدیت کے شوق میں اپنے بچوں کو ذہنی طور پر مفلوج کر رہے ہیں؟ دنیا کا جدید ترین ملک سویڈن جو کبھی اسکولوں کو ڈیجیٹل کرنے کا علمبردار تھا، اب اپنے کلاس رومز سے اسکرینز ہٹا کر دوبارہ کتابوں اور قلم کی طرف لوٹ رہا ہے۔
مستقبل کی دوڑ میں شامل ہونے کی خواہش نے ہمیں اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہم نے تعلیم کو صرف ایک ’اسکرین‘ تک محدود کردیا ہے۔ آج ہر طرف ایک ہی بحث چھڑی ہے: ڈیجیٹل تعلیم ترقی ہے یا محض ایک سراب؟ سویڈن جیسے ملک کا اپنے اسکولوں سے اسکرینز ہٹاکر دوبارہ روایتی نصاب کی طرف لوٹنا اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ کتاب کی خوشبو کا متبادل اسکرین کی تپش کبھی نہیں ہوسکتی۔ ہم جسے جدیدیت سمجھ کر اپنا رہے تھے وہ درحقیقت بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ایک خاموش زہر ثابت ہورہا ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ جب بچہ کاغذ پر قلم چلاتا ہے تو اس کے دماغ کے بند دریچے کھلتے ہیں، یادداشت کو جلا ملتی ہے اور تخلیقی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ اس کے برعکس اسکرینز نے بچوں کو معلومات کے ڈھیر تلے تو دبا دیا ہے، لیکن ان سے گہری سوچ اور توجہ (Focus) کی صلاحیت چھین لی ہے۔یہ وقت ”اسکرین چھوڑو، کتاب اٹھاو“ کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کا ہے۔ والدین اور اساتذہ کے لیے سویڈن کا یہ تعلیمی انقلاب ایک بڑا سبق ہے کہ اگر ہم نے آج بچوں کے ہاتھوں میں دوبارہ قلم اور کتاب نہ تھمائی تو کل کی نسل صرف ٹیکنالوجی کی غلام ہوگی، صاحبِ دانش نہیں ہوگی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حقیقی علم کی روشنی اسکرین کی چمک میں نہیں بلکہ کتاب کے صفحات اور قلم کی سیاہی میں پوشیدہ ہے۔
بین الاقوامی جریدے ’دی گارڈین‘ کے مطابق ماہرین نے محسوس کیا کہ ڈیجیٹل آلات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کی وجہ سے طلبہ میں مطالعے کی فہم ( Comprehension Reading ) میں کمزوری اور توجہ کے دورانیے میں کمی دیکھی گئی ہے۔ PIRLS کے نتائج بتاتے ہیں کہ 2016ءسے 2021ءکے درمیان بچوں کی پڑھنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی۔ اسکرین پر بچہ صرف معلومات کو ’اسکین‘ کرتا ہے، پڑھتا نہیں ہے۔ اس ’سطحی مطالعے‘ کی وجہ سے جب بچوں کو کتاب سے طویل پیراگراف دیا گیا تو وہ اس کا مرکزی خیال بیان کرنے میں ناکام رہے کیونکہ ان کا دماغ معلومات کو جوڑنے کی صلاحیت کھو رہا تھا۔
سائنسی جریدے’ American Scientific ‘ اور ناروے کی یونیورسٹی آف سٹوانگر کی تحقیق کے مطابق، کاغذ پر پڑھنا اور ہاتھ سے لکھنا یادداشت کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ جب بچہ ہاتھ سے لکھتا ہے تو اس کا دماغ ’ Integration Motor Sensory ‘ کے عمل سے گزرتا ہے جو یادداشت اور زبان سیکھنے کے خلیوں کو بیدار کرتا ہے۔ لکھائی اور ٹائپنگ کے معرکے میں قلم جیت چکا ہے کیونکہ ٹائپنگ محض ایک میکانیکی عمل ہے جبکہ ہاتھ سے لکھنا بچوں کے دماغ کو تیز کرتا ہے۔ ہمارا دماغ معلومات کو ’جگہ‘ یا ’مقام‘ سے جوڑتا ہے۔ کتاب کے صفحات کا ایک مخصوص ’جغرافیہ‘ ہوتا ہے جو یادداشت میں نقش ہوجاتا ہے جبکہ اسکرین پر مسلسل ’اسکرولنگ‘ سے دماغ کوئی مستقل نقشہ نہیں بنا پاتا۔ اسکرین پر موجود لنکس اور اشتہارات دماغی توانائی ( Energy Cognitive ) کو اصل موضوع سے ہٹا کر تقسیم کردیتے ہیں۔ سویڈن کے اساتذہ نے نوٹ کیا کہ بچے قلم پکڑنے جیسی ’بنیادی انسانی مہارتیں‘ بھول رہے ہیں کیونکہ ان کی انگلیاں صرف ’سوئپ‘ کی عادی ہوچکی ہیں۔ ڈیجیٹل آلات بچوں کو ’فوری تسکین‘ ( Gratification Instant ) فراہم کر کے ان میں صبر اور استقامت ختم کردیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کتاب خاموش ہوتی ہے اور اسے پڑھنے کے لیے دماغ کو خود مشقت کرنی پڑتی ہے جو کہ اصل ذہنی نشوونما ہے۔ہمیں جدیدیت کے نام پر اپنی جڑوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں ٹیکنالوجی کی غلام نہ بنیں تو ہمیں انہیں اس ڈیجیٹل قید سے نکال کر دوبارہ کاغذ اور قلم سے جوڑنا ہوگا۔ یہاں والدین کے لیے 5 آسان اقدامات دیے جا رہے ہیں:
٭…. نو اسکرین زونز: کھانے کی میز اور بیڈروم کو ٹیکنالوجی سے پاک رکھیں۔
٭…. سونے سے پہلے کی روایت: سونے سے ایک گھنٹہ پہلے تمام اسکرینز بند کرکے کتاب پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
٭…. لکھائی کا جادو: ٹیبلٹ کے بجائے کاغذ پر ڈرائنگ یا ڈائری لکھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔
٭…. ڈیجیٹل روزہ ( Fasting Digital ): ہفتے میں ایک دن (مثلاً اتوار) گیجٹس کو الماری میں بند کر دیں۔
٭…. مثالی نمونہ: اگر آپ کتاب پڑھیں گے تو بچہ بھی کتاب ہی اٹھائے گا۔
بچوں کو اسکرین سے دور کرنے کا بہترین طریقہ انہیں اپنا وقت اور متبادل دینا ہے۔ سویڈن نے تو اپنی سمت درست کر لی، کیا ہم بھی اس تعلیمی انقلاب کے لیے تیار ہیں؟ یاد رکھیے! بچے کی اصل نشوونما اسکرین کی چمک میں نہیں بلکہ کتاب کے صفحات اور ہاتھ کی تحریر میں پوشیدہ ہے۔ بچے کے ہاتھ میں پکڑا ہوا ’ٹیبلٹ‘ اسے دنیا سے جوڑ سکتا ہے مگر اس کے ہاتھ میں تھما ہوا ’قلم‘ اسے خود سے اور دانائی سے جوڑتا ہے۔ ٹیکنالوجی معلومات کا سمندر تو دے سکتی ہے مگر گہری سوچ کی پیاس صرف کتاب کے لمس سے بجھتی ہے۔ آئیے اپنے بچوں کو ”اسمارٹ فونز“ سے نکال کر ”ذہین انسان“ بنانے کی طرف لوٹیں۔