امریکی دفتر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے تجارتی جہازوں کی رہنمائی کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ آبنائے ہرمز مشرق وسطی سے تیل کی فراہمی کے لیے اہم آبی گزرگاہ ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ ہدایات امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث غیریقینی صورت حال کے پیش نظر جاری کی گئی ہیں۔
اس کشیدگی کو زیادہ خطرناکی اس وقت ملی جب امریکا نے اپنا ایک بڑا بحری بیڑہ ابراہم لنکن بھی ایران کے قریب بحیرہ عرب میں پہنچا دیا۔ تاکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری مکمل رکھی جائے۔ بعد ازاں پچھلے جمعہ کو ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے باوجود امریکی مذاکرات کار سٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر نے بحیرہ عرب میں کھڑے بحری بیڑے کا دورہ کیا اور اپنے فوجی حکام سے ملاقات کی۔
اب امریکا نے آبنائے ہرمز میں اپنی تیل بردارکشتیوں کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔
دوسری طرف ایران نے دوطرفہ کشیدگی کے ماحول میں انتباہ کر رکھا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ آبنائے ہرمز سے نقل و حمل پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ایران نے یہ بھی دھمکی دے رکھی ہے کہ اس کے خلاف جنگ چھیڑی گئی تو یہ جنگ پھر پورے خطے تک پھیل جائے گی۔ نیز ہر جگہ امریکی مفادات اور اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
مزید پڑھیں :
امریکا ایران لڑ پڑے، مذاکرات کی میز عمان منتقل
اس تناظر میں امریکا کے سمندری ٹرانسپورٹ کے محکمے نے اپنی کشتیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایرانی پانیوں سے خود کو جس قدر ممکن ہو دور رکھیں۔ نیز اپنےتحفظ کے معاملے میں سمجھوتہ نہ کریں۔
یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کہیں ایرانی بحریہ کے اہلکار ہوں تو بھی ان کے ساتھ امریکی تجارتی کشتیوں کا عملہ تعارض نہ کرے۔ حتی کہ ایرانی فوجی اگر ان کشتیوں پر زبردستی سوار بھی ہوں تو ان کی مزاحمت نہ کی جائے۔
امریکا و ایران کے درمیان ایک بار پھر شروع ہونے والے مذاکرات کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اچھی شروعات ہے اور یہ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔
دوسری جانب امریکا میں بھی ان مذاکرات کے بارے میں اعلی ترین سطح سے ستائش کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف دباؤ میں کمی کے بجائے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو جاری رکھنے کا عندیہ یہ کرتے ہوئے دیا ہے کہ انہوں نے ہر اس ملک پر پچیس فیصد 5 ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو ایران کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ تجارت کرے گا۔

