وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نائن الیون میں میں ملوث عناصر کا آ ج تک پتہ نہیں چل سکا، سانحے میںکوئی افغان، پشتو یا ہزارہ ملوث نہیں تھا مگر ہم نے اس واقعے کے بعد کرائے کی جنگ لڑی اور پھر ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور راجہ پرویز اشرف کی باتوں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے، ایک دور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی ویزہ نہیں ہوتا تھا اجازت نامے پر جاتے تھے، میں خود بھی بغیر ویزہ افغانستان گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی دو جنگوں کے فریق بنے، روسی افغانستان کی دعوت پر وہاں آئے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آج تک ہم اپنا نصاب واپس نہیں لا سکے اور اپنی پوری تاریخ تبدیل کی، امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہیں آئی۔نائن الیون افغانستان نے نہیں کرایا مگر اس کے بعد ہم کرائے کی جنگ لڑتے رہے، ایک شخص نے امریکا کی خوشنودی کے لئے ملک کو امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ بنادیا۔ نائن الیون کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کس نے کرایا مگر اس میں کوئی افغان پشتون یا ہزارہ نہیں تھا اس کے باوجود ہم 2 دہائیوں تک کرائے پر دستیاب تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، افغانستان میںایک سپر پاور کی جنگ تھی جس کے بعد ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔ادھروزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے گداگری اب ایک منظم پیشہ بن چکا ہے اور گداگری کا کاروبار ملک میں سب سے زیادہ”روزگار”میسر کر رہا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا بھیک منگوانے کے لیے اب باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں، ٹھیکیدار بچوں، عورتوں اور جعلی معذوروں کو بھرتی کرکے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہی ٹھیکیدار مافیا انہی بھیک منگوں کو ہزاروں کی تعداد میں خلیجی ممالک بھیج رہا ہے، ان خلیجی ملکوں نے زچ ہو کر ہمارے ویز ے بند کر دیے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس گھنائونے کام میں ائیرپورٹس پر مختلف محکموں کا عملہ حصہ دارہے اور مال بنا رہا ہے۔

