رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
دنیا آہستہ آہستہ ایک ایسے دور میں داخل ہورہی ہے جہاں جنگیں ٹینکوں اور توپوں سے نہیں بلکہ کنکریٹ، ڈیٹا اور الگورتھم سے لڑی جا رہی ہیں۔ چین اس نئے دور کا سب سے بڑا کھلاڑی بنتا دکھائی دیتا ہے۔
ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں میں جہاں انسان کا سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے، چین ایک ایسا منصوبہ شروع کر چکا ہے جو اگر مکمل ہوگیا تو صرف ایشیا ہی نہیں بلکہ خود زمین کی فزیکل حرکت تک پر معمولی مگر قابل ذکر اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ کوئی عام ڈیم نہیں بلکہ دنیا کے سب سے بڑے انجینئرنگ منصوبوں میں سے ایک ہے، جس کی لاگت 167 ارب ڈالر بتائی جارہی ہے۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سمجھا جانے والا ’تھری گورجز ڈیم‘ اس منصوبے کے سامنے محض ایک چھوٹا سا تالاب لگتا ہے۔ چین کے یانگ زے دریا (Yangtze River) پر بنا یہ بند دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم ہے۔ لیکن اصل سوال سائز کا نہیں نیت کا ہے۔ چین آخر دریاوں کے رخ کیوں موڑ رہا ہے؟ پہاڑوں کو چیر کر کنکریٹ کیوں انڈیل رہا ہے؟ کیا یہ سب صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے یا بیجنگ نے درحقیقت بھارت کی زندگی کی شہ رگ اپنے ہاتھ میں لینے کا منصوبہ بنا لیا ہے؟
چین آج بھی دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری ہے اور اس فیکٹری کا بڑا حصہ ابھی تک کوئلے پر چل رہا ہے، حالانکہ بیجنگ 2060ء تک کاربن نیوٹرل ہونے کے دعوے کرتا ہے۔ سورج اور ہوا اس دیو ہیکل صنعتی مشین کے لیے ناکافی ثابت ہورہے ہیں۔ چنانچہ چینی نگاہیں جا کر ٹکی ہیں تبت پر جسے ”دنیا کی چھت“ کہا جاتا ہے۔ یہیں سے ’یارلونگ تسنگبو‘ نامی دریا تقریباً پانچ ہزار میٹر کی بلندی سے بہتا ہوا اچانک نشیب کی طرف گرتا ہے اور آگے چل کر بھارت میں براہم پتر کہلاتا ہے۔ فزکس کے حساب سے یہ عمودی گراوٹ ایک بے پناہ توانائی ہے۔ اسی توانائی کو قابو میں کرنے کے لیے چین ’میڈوگ ڈیم‘ بنانے جارہا ہے جس کی پیداواری صلاحیت تقریباً 60 گیگاواٹ ہوگی۔ یہ دنیا میں اب تک کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور منصوبہ ہوگا جبکہ فی الوقت دنیا کے سب سے بڑے فعال ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم تھری گورجز کی پیداواری صلاحیت 22.5 گیگاواٹ ہے۔ اس کے بعد برازیل کا ’بیلومونٹے‘ دنیا تیسرا بڑا ڈیم ہے جس کی پیداواری صلاحیت 11.2 گیگاواٹ ہے۔بزازیل اور پیراگوئے کے مشترکہ منصوبے ’ایتائیپوڈیم‘ کی صلاحیت 14 گیگاواٹ ہے۔ مطلب 22.5 گیگاواٹ اب تک کا ریکارڈ ہے اور 60 گیگاواٹ اس سے تقریباً تین گنا زیادہ۔ اسی لیےمیڈوگ منصوبہ محض ’ایک اور ڈیم‘ نہیں بلکہ طاقت کے پیمانے کو ہی بدل دینے والا قدم سمجھا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق 60 گیگاواٹ 30 بڑے نیوکلیئر ری ایکٹرز کے برابر ہے۔ ایک ری ایکٹر اوسطاً 2 گیگاواٹ سمجھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی کل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 50 اور بھارت کی 430 گیگاواٹ ہے۔ اب چین کا صرف ایک دریا پر 60 گیگاواٹ نہایت غیرمعمولی طاقت ہے۔ اسی لیے یہ منصوبہ توانائی کم اور اسٹریٹجک دباو زیادہ سمجھا جارہا ہے۔
اِس ڈیم کا سرکاری طور پر اعلان کردہ حتمی نام ابھی تک جاری نہیں ہوا لیکن اسے عام طور پر میڈوگ ڈیم ( Dam Medog ) یا یارلونگ تسنگبو گریٹ بینڈ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ تبت کے علاقے میڈوگ (Medog) میں یارلونگ تسنگبو دریا کے ’گریٹ بینڈ‘ (جہاں دریا اچانک موڑ کاٹتا ہے) پر مجوزہ ہے۔ اسی نسبت سے یہ نام رائج ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ چین اکثر ایسے میگا منصوبوں کے حتمی نام آخری مرحلے میں طے کرتا ہے، اس لیے ممکن ہے آگے چل کر کوئی اور سرکاری نام سامنے آئے مگر اس وقت میڈوگ ڈیم ہی سب سے زیادہ مستعمل اور تسلیم شدہ نام ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے پر کام انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی غیرآباد ورکشاپس کررہی ہیں کیونکہ اس بلندی پر روایتی انسانی محنت ممکن نہیں۔ پیدا ہونے والی بجلی تبت میں استعمال نہیں ہوگی کیونکہ وہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے بجائے اسے چین کی اس حکمت عملی سے جوڑا جا رہا ہے جسے ’ڈیٹا مشرق میں، کمپیوٹنگ مغرب میں‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی تبت کو چین کا ڈیجیٹل دماغ بنایا جارہا ہے جہاں سستی بجلی اور سرد موسم کی مدد سے AI ڈیٹا سینٹرز، کرپٹو مائننگ اور سپر کمپیوٹنگ حب قائم ہوں گے۔
مگر دریا سرحدیں نہیں مانتا۔ چین سے نکلتے ہی یہی دریا بھارت اور پھر بنگلادیش کی زرعی، ماحولیاتی اور انسانی زندگی کا سہارا بنتا ہے۔ اس لیے یہ ڈیم محض ایک پاور پروجیکٹ نہیں بلکہ خالص جیو پولیٹیکل ہتھیار ہے۔ اگر چین پانی روک لے تو نیچے خشک سالی اور اگر اچانک چھوڑ دے تو تباہ کن سیلاب۔ خطرہ صرف یہ نہیں کہ چین پانی روک لے بلکہ یہ ہے کہ وہ مون سون کے دوران یا بھارتی زرعی سیزن کے نازک مہینوں میں پانی کے بہاو کی ٹائمنگ بدل سکتا ہے۔ یہ چیز خشک سالی سے بھی زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ فصلوں کا شیڈول درہم برہم ہوجاتا ہے۔اسی لیے نئی دہلی اسے وجودی خطرہ سمجھ رہا ہے اور جوابی ڈیموں کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ جاپان بھی اس کھیل میں داخل ہوچکا ہے جو بھارت کی حمایت کرکے چین کے بڑھتے اثر کو متوازن کرنا چاہتا ہے۔
یہ روایتی ڈیم نہیں بلکہ Cascade System ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق میڈوگ منصوبہ ایک واحد دیوہیکل بند کے بجائے متعدد جڑے ہوئے ڈیموں (cascade dams) پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ چین پانی کے بہاو پر درجہ بدرجہ کنٹرول حاصل کرلے گا یعنی ایک بند نہیں بلکہ پورا آبی نظام اس کے ہاتھ میں ہوگا۔ سب سے خطرناک پہلو ماحولیاتی ہے۔ یہ علاقہ زلزلہ خیز فالٹس پر واقع ہے۔ کسی بڑے فنی حادثے کی صورت میں ڈیم ٹوٹ سکتا ہے جس کے نتیجے میں ایسا سیلاب آسکتا ہے جو تاریخ میں مثال نہ رکھتا ہو۔ یہاں صرف قدرتی زلزلوں کا خطرہ نہیں بلکہ ماہرین ایک اور اصطلاح استعمال کرتے ہیں: Induced Seismicity یعنی اتنے بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے سے خود ڈیم زلزلوں کو جنم دے سکتا ہے۔ چین میں پہلے بھی کچھ بڑے ڈیموں کے بعد اس قسم کی سرگرمی ریکارڈ ہوچکی ہے۔ یہ منصوبہ صرف چین بمقابلہ بھارت نہیں بلکہ یہ اوپر بیٹھے ملک (State Riparian Upper ) کے تصور کو نئے خطرناک مرحلے میں داخل کررہا ہے۔ اگر یہ ماڈل کامیاب ہوگیا تو دنیا کے دوسرے طاقتور ممالک بھی یہی راستہ اپنا سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ چین صرف ایک ڈیم نہیں بنارہا، وہ جغرافیہ کو انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے از سرنو مرتب کررہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں صاف توانائی کا وعدہ بھی ہے اور سیاست و ماحول کی تباہی کا خطرہ بھی۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں گولی نہیں چلتی مگر نتائج نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

