ہتھیاروں سے دستبردار ہوں گے، نہ ہی غزہ میں غیرملکی مداخلت قبول کریں گے، حماس

حماس کے ایک سینیئر رہنما نے امریکی اور اسرائیلی مطالبات کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی تحریک اپنے ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہو گی اور نہ ہی غزہ میں غیرملکی مداخلت قبول کرے گی۔
عرب میڈیا کے مطابق سینیئر رہنما خالد مشعل نے دوحہ میں ایک کانفرنس میں کہا کہ مزاحمت، اس کے ہتھیاروں اور اسے انجام دینے والوں کو مجرم بنانا ہمیں قبول نہیں کرنا چاہیے۔ جب تک قبضہ برقرار ہے، مزاحمت موجود ہے۔ مزاحمت قبضے میں رہنے والے لوگوں کا حق ہے۔۔ ایسی چیز جس پر اقوام فخر کرتی ہیں۔
سابق سربراہ مشعل نے کہا:  حماس نے اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کی ہے جسے وہ فلسطینی علاقوں پر اس کا قبضہ قرار دیتی ہے۔
ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا مقصد تباہ حال غزہ کی پٹی میں روزمرہ کی حکمرانی سنبھالنا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ تخفیفِ اسلحہ کا مسئلہ کیسے حل کرے گی۔ یہ کمیٹی نام نہاد “بورڈ آف پیس” کے تحت کام کرے گی جس کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ ناقدین میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے حریف میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
بورڈ آف پیس کے ساتھ ٹرمپ نے فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کا ایک مشاورتی پینل ، غزہ ایگزیکٹو بورڈ ، بھی تشکیل دیا جس میں بین الاقوامی شخصیات بشمول امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نیز سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر شامل ہیں۔
مشعل نے بورڈ آف پیس پر ایک “متوازن نکتۂ نظر” اپنانے پر زور دیا جس سے غزہ کی تعمیرِ نو اور اس کے تقریباً 2.2 ملین باشندوں کو امداد کی فراہمی ممکن ہو جبکہ اس بات سے خبردار کیا کہ حماس فلسطینی سرزمین پر “غیر ملکی حکمرانی قبول نہیں کرے گی”۔
مشعل نے کہا، “ہم اپنے قومی اصولوں پر قائم ہیں اور سرپرستی، بیرونی مداخلت یا کسی بھی شکل میں مینڈیٹ کی واپسی کی منطق مسترد کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “فلسطینیوں کو ہی فلسطینیوں پر حکومت کرنی چاہیے۔ غزہ، غزہ اور فلسطین کے لوگوں کا ہے۔ ہم غیر ملکی حکمرانی قبول نہیں کریں گے۔”