پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج، کئی شہروں میں شٹر ڈاؤن نہ ہوسکا

پی ٹی آئی8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف آج ملک گیر احتجاج کر رہی ہے۔ احتجاج پارٹی کے بانی عمران خان کی کال پر کیا جا رہا ہے، جس میں شٹر ڈان اور پہیہ جام شامل ہے۔

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کا مقصد انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ کرنا ہے۔

خیبر پختونخوا جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت قائم ہے، وہاں مختلف سرگرمیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں پارٹی کی جانب سے ہشت نگری دروازہ سے چوک یادگار تک پیدل مارچ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کی کال پر جزوی ہڑتال نظر آئی اور پہیہ جام نہ ہو سکا۔

پشاور کے علاقے صدر، شفیع مارکیٹ، فوارہ چوک، نوتھیہ بازار، شعبہ بازار میں دکانیں کھلی رہیں۔ فردوس، باچا خان چوک، چوک ناصر خان، سرکلر روڈ، کوہاٹی گیٹ اور کوچی بازار پر بھی تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔ جبکہ ہشت نگری، سکندر پورہ، اشرف روڈ، چوک یادگار اور قصہ خوانی بازار بند رہے۔پشاور شہر کے دو بڑے بس اڈے حاجی کیمپ اڈہ اور لاہور اڈہ کھلے رہے، تاہم بس اڈوں میں گاڑیاں معمول سے کم دکھائی دیں۔ بی آر ٹی کے تمام روٹس پر بھی بسیں رواں دواں ہیں۔بنوں میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے، جہاں تمام بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔

بنوں کے مختلف علاقوں سے پی ٹی آئی کارکنوں کی ریلیاں بھی نکلیں جن کی قیادت رکن قومی اسمبلی نسیم علی شاہ نے کی۔ہنگو میں صورتحال قدرے مختلف رہی، جہاں پی ٹی آئی کارکن اپنے منتخب ایم پی اے اور ایم این اے کی عدم موجودگی پر سراپا احتجاج ہیں۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ احتجاج کی کال کے باوجود پارٹی کے منتخب نمائندے موقع پر نہیں آئے، جس کے باعث احتجاج موثر نہ ہو سکا۔بعض کارکنوں نے مین چوک میں جمع ہو کر نعرے لگائے، جبکہ کچھ نے احتجاج سے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے گھروں کو واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

مقامی رہنماؤں کے مطابق دکانیں تو صبح سے بند تھیں، لیکن تنظیمی اور منتخب قیادت کی عدم شرکت کے باعث احتجاج مطلوبہ شکل اختیار نہ کر سکا۔

ہری پور میں تحریک انصاف کی کال پر مکمل شٹر ڈان اور پہیہ جام دیکھنے میں آیا۔ تمام تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹ یونینز نے ہڑتال کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں شہر کے تمام بازار اور ٹرانسپورٹ اڈے بند رہے۔ٹرانسپورٹ بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ بھی دیکھا گیا۔

دوسری جانب وادی تیراہ سے متاثرین کی نقل مکانی کی وجہ سے پی ٹی آئی نے باڑہ میں ہڑتال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم پی اے پی کے 71 عبدالغنی نے متاثرین کی نقل مکانی کے باعث ہڑتال موخر کر دی ہے اور کہا ہے کہ باڑہ بازار اور ملحقہ تجارتی مراکز کھلے ہیں، یہاں کوئی پہیہ جام ہڑتال بھی نہیں ہوگی۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ باڑہ میں وادی تیراہ متاثرین کی نقل مکانی اور رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔

خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کی کال پر شٹرڈان ہڑتال ناکام ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، لوئر اورکزئی میں بازار کھلے ہیں اور تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاجروں اور دکانداروں نے مارکیٹیں اور کاروباری مراکز کھول دیے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کی روانی بھی بلاتعطل جاری ہے۔

مالاکنڈ میں بھی پی ٹی آئی کی کال پر ہڑتال ناکامی سے دوچار ہوئی، صوبائی صدر جنید اکبر اپنے حلقے میں شٹر ڈان اور پہیہ جام کرانے میں ناکام رہے۔مالاکنڈ کے علاقے بٹ خیلہ شہر، درگئی، سخاکوٹ اور تھانہ میں تمام بازار کھلے ہیں اور ضلع بھر میں ٹریفک بھی رواں دواں ہے۔

علاوہ ازیں خیبر کی تحصیل لنڈیکوتل میں پی ٹی آئی کی شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال کی کال مسترد کردی گئی اور تمام دکانیں اور مارکیٹیںمعمول کے مطابق کھلی رہیں۔ سڑکوںپر بھی معمول کے مطابق ٹریفک رواںدواںہے۔ شہری احتجاج اور ہڑتال سے لاتعلق رہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں اور تاجر برادری نے ہڑتال مسترد کرتے ہوئے تمام بازار کھلے رکھے۔مرکزی انجمن تاجران کے سینئر نائب صدر چوہدری جمیل احمد کا کہنا ہے کہ شعبان اور رمضان کاروبار کا سیزن ہے، سیاسی جماعتیں حالات دیکھ کر فیصلے کریں، ہڑتال کے بجائے معاشی حالات کو مدنظر رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔