اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والا بم دھماکا جس میں درجنوں بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں، ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یہ واقعہ محض ایک مقامی سانحہ نہیں بلکہ دارالحکومت کے امن و امان پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ دھماکے کی نوعیت اور اس کا مقام اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حملہ آور دہشت گردوں کا مقصد صرف جانی یا مالی نقصان نہیں تھا بلکہ شہریوں کے دلوں میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کرنا بھی تھا اور بدقسمتی سے وہ اس حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔
ترلائی کے عوام میں خوف کے ساتھ ساتھ غصہ بھی نمایاں ہے۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں، کاروباری طبقہ عدم استحکام سے پریشان ہے اور عام شہری یہ سوال کر رہا ہے کہ اگر دارالحکومت میں یہ صورتحال ہے تو ملک کے دیگر علاقوں کا کیا حال ہوگا؟ یہ خوف دہشت گردوں کی اصل کامیابی ہوتا ہے کیونکہ وہ معاشرے کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔ اس خوف کا توڑ صرف طاقت نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت اور مسلسل بہتری ہے۔
اسلام آباد کو عموماً ملک کا سب سے محفوظ شہر سمجھا جاتا ہے۔ جگہ جگہ چیک پوسٹیں، نگرانی کے کیمرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی ایک مضبوط سیکورٹی نظام کا تاثر دیتی ہے۔ ایسے میں ترلائی جیسے گنجان آباد اور نیم شہری علاقے میں اتنے بڑے اور خوفناک دھماکے کا ہونا سیکورٹی انتظامات پر ازسرِنو غور کا تقاضا کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فورسز موجود ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا خطرات کی درست نشاندہی ہو رہی ہے؟ دہشت گردی روکنے کی حکمت عملی کہاں تک کامیاب ہے؟ کہیں نگرانی کا دائرہ صرف چند مخصوص علاقوں تک محدود تو نہیں؟ اور کیا مقامی سطح پر انٹیلی جنس معلومات موثر انداز میں استعمال ہو رہی ہیں؟
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ مضافاتی اور نسبتاً کم توجہ پانے والے علاقے اکثر سیکورٹی پلاننگ میں ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ دہشت گردی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے ہی علاقوں کو نرم ہدف سمجھا جاتا ہے، جہاں نگرانی نسبتاً کم اور رسپانس کا وقت زیادہ ہوتا ہے۔ دارالحکومت میں امن کا مطلب صرف ریڈ زون کا محفوظ ہونا نہیں بلکہ ہر محلہ، ہر بازار اور ہر رہائشی علاقے کا خود کو محفوظ محسوس کرنا ہے۔ اس لیے سول انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کو مضافاتی علاقوں میں سیکیورٹی کے انتظامات سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔
حکومتی ردعمل واقعے کے بعد حسبِ معمول سامنے آیا۔ مذمت کی گئی، تحقیقات کا اعلان ہوا اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یہ سب ضروری مگر روایتی اقدامات ہیں، عوام اب صرف بیانات سے مطمئن نہیں ہوتے۔ شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی سطح پر کیا تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور کیا ہر سانحے کے بعد بننے والی رپورٹس اور سفارشات واقعی زمینی حقیقت میں بھی ڈھلتی ہیں یا نہیں۔ دشمن قوتیں سائنسی طریقے سے تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی سائنسی طریقے سے، منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
علاوہ ازیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے متفقہ قومی بیا نیہ ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کی ہر شکل کو مسترد کرکے ہی ہم اس عفریت سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ مذہبی عنوان کے ساتھ پھیلائی جانے والی دہشت گردی کے توڑ کے لیے علماء کرام کا میدان میں آنا ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امن و امان کی مجموعی صورتحال پہلے سے بہتر ہے، تاہم ترلائی جیسے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ یہ ایک جاری جدوجہد ہے، جس میں تسلسل اور باریک بینی کی ضرورت ہے، لہٰذا یہ کہنا ضروری ہے کہ پالیسیوں کا مؤثر نفاذ، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور مقامی سطح پر کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر دیرپا نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ اگر شہری خود کو اداروں کے قریب اور محفوظ محسوس کریں تو مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے ساتھ محض سختی کے بجائے اعتماد اور رابطے کی پالیسی اپنائیں تاکہ تعاون کا ماحول پیدا ہو اور خفیہ معلومات کا بہاؤ بہتر ہو سکے۔ ترلائی دھماکا دراصل ایک وارننگ ہے۔ یہ یاد دہانی کہ امن ایک بار حاصل ہو جائے تو بھی اس کی حفاظت مسلسل توجہ مانگتی ہے۔ اگر ہم اس واقعے کو محض ایک خبر سمجھ کر بھلا دیں گے تو یہ ہماری اجتماعی کوتاہی ہوگی، لیکن اگر اسے اصلاح، جائزے اور بہتری کا موقع بنایا جائے تو یہی سانحہ مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دارالحکومت کا امن صرف حکومت یا اداروں کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

