وائرل ویڈیوز، افواہیں اور ڈیجیٹل دور کے چیلنج

سال 2026ء کے ابتدائی ہفتوں میں ایک عجیب اور حیران کن حد تک مخصوص جملہ بڑی خاموشی سے ابھرا اور تیزی سے سوشل میڈیا ٹائم لائنز، سرچ انجنوں کی تجاویز، واٹس ایپ گروپس کی نجی گفتگو اور پاکستانی نوجوانوں کے درمیان ہونے والے عوامی مباحثوں پر چھا گیا۔ یہ جملہ ”عمیری وائرل ویڈیو” ایک ڈیجیٹل سائے کی طرح بن گیا جس کے ساتھ اکثر پراسرار طور پر 7منٹ اور 11سیکنڈ کا دورانیہ بھی جوڑا جاتا رہا۔ جو کچھ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹویٹر) جیسے پلیٹ فارمز پر مبہم پوسٹس اور افواہوں کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے رجحان میں بدل گیا جو عام صارف کو ایک قومی واقعے یا اجتماعی تجسس کے ڈیجیٹل مرکز کے طور پر محسوس ہونے لگا۔ اس نے ایک چونکا دینے والے انکشاف یا کسی بڑے سکینڈل کا ایسا تاثر پیدا کیا جسے دیکھنا گویا ہر ایک کے لیے لازمی ہوگیا ہو اور جسے ہر کوئی تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس گونج کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پاکستان اور پڑوسی خطوں میں لاکھوں صارفین نے سرچ بارز میں ”عمیری وائرل ویڈیو” جیسے الفاظ بڑی بے چینی سے ٹائپ کرنا شروع کر دیے۔ اس ڈیجیٹل رویے نے اس موضوع کو ٹرینڈنگ لسٹوں میں پہنچا دیا جس سے اسے محض اس کی مقبولیت کی بنا پر ایک فرضی ساکھ اور خبر کی اہمیت مل گئی۔ تاہم اس تمام تر گمان اور جوش و خروش کے نیچے ایک پریشان کن سچائی موجود تھی کہ کسی بھی معتبر یا مستند ذریعے پر اس قسم کی کسی ویڈیو کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ انٹرنیٹ پر جو کچھ پھیل رہا تھا وہ کوئی تصدیق شدہ میڈیا مواد نہیں بلکہ محض افواہوں کا ایک طوفان، سنسنی خیز عنوانات اور دھندلے یا فرضی سکرین شاٹس تھے جنہیں پلیٹ فارمز کے منتظمین نے پرائیویسی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فوری طور پر ہٹا دیا یا اپ لوڈ کرنے والوں نے خود ہی ڈیلیٹ کر دیا۔ وہ نام نہاد ”اصل ویڈیو” ہمیشہ ایک سراب ہی رہی۔

”عمیری وائرل ویڈیو” کی یہ پوری کہانی ان بہت سی ڈیجیٹل لہروں کی طرح ہے جو انسانی جبلتوں یعنی تجسس، کسی چیز سے محروم رہ جانے کے خوف (FOMO) اور ممنوعہ اشیا کی کشش کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اس کہانی میں 7:11 جیسے مخصوص دورانیے کا ذکر کرنا نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہے کیونکہ یہ مخصوص اعداد و شمار صارف کے ذہن میں یہ یقین پیدا کرتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز حقیقت میں موجود ہے جسے ناپا جا سکتا ہے یا جس کا وقت متعین ہے۔ یہ مصنوعی درستگی صارفین کے شکوک و شبہات کو ختم کر کے انہیں ایک لاحاصل تلاش میں جھونک دیتی ہے۔ ماہرین اس عمل کو ”ڈیجیٹل خزانے کی تلاش” قرار دیتے ہیں جہاں صارفین چھپے ہوئے یا سینسر شدہ مواد کو تلاش کرنے کے لیے شوقیہ جاسوس بن جاتے ہیں۔ یہ تجسس اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب یہ کہا جائے کہ مواد کو ”حکام نے ڈیلیٹ کر دیا” یا ”پابندی لگا دی” ہے، جس سے یہ تلاش محض تفریح نہیں بلکہ ایک قسم کی ڈیجیٹل بغاوت کا احساس دلانے لگتی ہے۔

اس پراسرار ٹائم اسٹیمپ کی نفسیاتی کشش کے علاوہ پاکستانی معاشرے کے مخصوص ثقافتی اور سماجی و مذہبی پس منظر نے بھی اس تجسس کو عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسے ماحول میں جہاں ذاتی تعلقات اور نجی زندگی کے بارے میں گفتگو اکثر معاشرتی اقدار، عزت اور خاندانی ساکھ کے گرد گھومتی ہے، وہاں کسی نجی ویڈیو کے لیک ہونے کا محض اشارہ ہی ایک شدید ردعمل پیدا کرتا ہے۔ یہ ردعمل صرف تجسس نہیں ہوتا بلکہ اس میں دوسروں کی نجی زندگیوں میں جھانکنے کی لذت اور فوری اخلاقی فیصلے صادر کرنے کا مادہ شامل ہوتا ہے۔ ایسی افواہیں معاشرے میں جدت، اخلاقی گراوٹ اور روایتی اقدار کے مٹنے سے متعلق وسیع تر خدشات کا مرکز بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں اس رجحان کو نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے مزید تقویت دی جو اپنا زیادہ تر وقت آن لائن گزارتے ہیں اور مسلسل سنسنی خیز مواد کی تلاش میں رہتے ہیں، جس سے ممنوعہ موضوعات پر گمنام رہ کر گفتگو کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم بھی ان رجحانات کو ہوا دینے میں برابر کے شریک ہیں۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کے الگورتھم غیر جانبدار نہیں ہوتے بلکہ وہ اس مواد کو ترجیح دیتے ہیں جس پر صارفین کا زیادہ سے زیادہ تعامل ہو۔ جیسے ہی ”عمیری ویڈیو” جیسے الفاظ کی تلاش میں اضافہ ہوا، الگورتھم نے اسے ایک مقبول رجحان سمجھ کر ان صارفین کو بھی تجویز کرنا شروع کر دیا جنہوں نے اسے تلاش نہیں کیا تھا۔ یہ ایک ایسا چکر بن گیا جہاں زیادہ تجاویز نے زیادہ تلاش کو جنم دیا اور اس کے نتیجے میں مزید جعلی مواد اور ری ایکشن ویڈیوز تخلیق ہوئیں۔ اس افراتفری میں صارفین کسی اصل ویڈیو تک تو نہیں پہنچ پاتے لیکن وہ ایک ایسی بھول بھلیاں میں پھنس جاتے ہیں جہاں انہیں دھندلے کلپس، چونکا دینے والے چہروں والی ویڈیوز، مذاق اڑانے والی میمز اور خطرناک لنکس ملتے ہیں جو کسی ویڈیو کے بجائے اشتہاری ویب سائٹس، ڈیٹا چوری کرنے والے پیجز یا وائرس زدہ فائلوں کی طرف لے جاتے ہیں۔

عمیری کے واقعے سے جڑی افواہوں اور کلک بیٹ کا پھیلا اس بات کی بہترین مثال ہے کہ جدید دور میں غلط معلومات کتنی تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اس دوران سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر شیئر کیے گئے اکثر لنکس محض ڈیجیٹل جال تھے جو سمارٹ فونز کو ہیک کرنے، پاس ورڈز چوری کرنے یا صرف اشتہارات کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے بنائے گئے تھے۔ سائبر سیکیورٹی کے ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ایسی وائرل افواہوں کو سائبر جرائم کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ غیر تصدیق شدہ ذرائع سے ایسی ویڈیوز تلاش کرنے کی کوشش صارفین کو مالی فراڈ اور قانونی پیچیدگیوں میں ڈال سکتی ہے، یوں ڈیجیٹل گپ شپ کی جستجو ذاتی حفاظت اور پرائیویسی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔

ایسے وائرل رجحانات کے سماجی اور انسانی اثرات اسکرین تک محدود نہیں رہتے بلکہ حقیقی زندگی کو بھی تباہ کر سکتے ہیں۔ جب آن لائن گفتگو محض تجسس سے بڑھ کر جارحانہ اخلاقی فیصلے اور کسی کی کردار کشی تک پہنچ جائے تو افواہوں کی بنیاد پر انسانوں کی زندگیاں برباد ہو جاتی ہیں۔ مثلا گوجرانوالہ جیسے شہروں سے ایسی اطلاعات سامنے آئیں جہاں پولیس نے اس رجحان سے منسوب کر کے کسی خاتون کے خلاف کارروائی کی، چاہے ان کارروائیوں کا اس مخصوص وائرل ٹرینڈ سے تعلق ہو یا نہ ہو، لیکن یہ حقیقت کہ آن لائن افواہیں پولیس کارروائی اور مین اسٹریم میڈیا تک پہنچ گئیں جو ایک خطرناک حد پار کرنے کے مترادف ہے۔ قدامت پسند معاشروں میں جہاں عزت و ناموس کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، وہاں ایسی وابستگیوں کا داغ، چاہے وہ بے بنیاد ہی کیوں نہ ہو، سماجی اور نفسیاتی طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو وائرل ویڈیوز کے پیچھے بھاگنا نوجوانوں کے ڈیجیٹل ثقافت کے ساتھ جڑے ہونے کے گہرے اور نظامی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر بغیر کسی نگرانی کے بہت زیادہ وقت گزارتی ہے، جہاں پلیٹ فارمز انہیں مسلسل جذباتی اور مختصر مواد فراہم کرتے ہیں۔ یہ نظام فوری لذت اور مسلسل خلفشار کی ثقافت کو فروغ دیتا ہے۔ وائرل ویڈیوز اور غیر تصدیق شدہ افواہیں ایک ایسی تفریح بن چکی ہیں جو وقتی طور پر تو جوش و خروش فراہم کرتی ہیں لیکن اس کے نتیجے میں قیمتی وقت اور ذہنی توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جو سیکھنے، مہارتیں حاصل کرنے اور تعمیری کاموں میں صرف ہو سکتا تھا۔ وائرل سرابوں کے پیچھے بھاگنے والی نسل دراصل ان صلاحیتوں سے دور ہو رہی ہے جو اکیسویں صدی میں ذاتی اور قومی ترقی کے لیے درکار ہیں۔

لہٰذا یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان کے نوجوان، جو ملک کی ترقی کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں، اس صورتحال کا شعوری ادراک کریں۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سنسنی خیز مواد کی کشش دراصل انہیں ان کی اصل منزل اور ذاتی ترقی سے دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ افواہوں اور گپ شپ میں ذہنی توانائی صرف کرنے سے کیریئر، تنقیدی سوچ یا قومی ترقی میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اگر یہی وقت تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں، فنون لطیفہ، کاروبار یا سماجی خدمت میں لگایا جائے تو یہ ایک ایسا سرمایہ بنتا ہے جسے کوئی ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ ختم نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی نوجوان آبادی دنیا کی سب سے بڑی افرادی قوتوں میں سے ایک ہے جس کے پاس عالمی انٹرنیٹ تک رسائی ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ یہ ایک عظیم اثاثہ ہے بشرطیکہ اسے تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ وہی پلیٹ فارمز جو چند گھنٹوں میں کسی ویڈیو کی جھوٹی افواہ پھیلا سکتے ہیں، تعلیمی مواد کی تشہیر، ایجادات کی کہانیاں شیئر کرنے اور مقامی کاروباروں کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹ بنانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس مثبت صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے صارفین اور مواد تخلیق کرنے والوں کو سنسنی کے بجائے حقیقت اور قدر کو اہمیت دینی ہوگی۔ معلومات کے اس دور میں سچی اور جھوٹی معلومات کے درمیان فرق کرنا اب محض ایک ہنر نہیں بلکہ بقا کے لیے ایک ضروری صلاحیت بن چکا ہے جسے پاکستانی نوجوانوں کو فوری طور پر اپنانا ہوگا۔