مسلمانوں کو عالمی سطح پر درپیش خطرات اور چیلنجز

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیر نے چند سال قبل کہا تھا کہ اکیسویں صدی کی دنیا میں مذہب اور مذہبی عقیدہ کی وہی مرکزی اہمیت ہوگی جو بیسویں صدی میں سیاسی نظریات کی تھی، اور یہ کہ آج کی دنیا کو جن قدروں کی ضرورت ہے، وہ مذاہب ہی فراہم کر سکتے ہیں۔”Religious faith will be of the same significance to the 21st century as political ideology was to the 20th century.”بین الاقوامی امور کے ماہر، مشہور مصنف اور دانشور اسکاٹ ایم تھامس نے اپنی شہرہ آفاق کتاب The Global Resurgence of Religion میں دعویٰ کیا ہے کہ مذہب اور مذہبی عقیدہ اکیسویں صدی کے عالمی نظام کی روح ہوگا، اور یہ کہ بیسویں صدی ”آخری جدید صدی” ثابت ہوگی۔ یعنی وہ نظریات جنہوں نے صنعتی انقلاب کے بعد کے جدید دور پر حکمرانی کی، اکیسویں صدی میں غیر متعلق ہو جائیں گے۔اس وقت مسلمانوں کو عالمی سطح پر چھ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ذیل میں ان چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

سب سے پہلا چیلنج سماجی اور ثقافتی شناخت سے متعلق ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان اقلیت کے طور پر تعصبات، امتیازی سلوک اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ وہی ثقافتی بحران ہے جو آج مسلمانوں کو درپیش ہے۔سماجی مشکلات میں سب سے نمایاں مسئلہ سماجی تفریق ہے۔ مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر بنائے گئے منفی بیانیے کے باعث انہیں رنگ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی ترقی اور معاشرتی شمولیت میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ نتیجتاً مسلمانوں کو تعلیم، ملازمت اور صحت کی یکساں سہولیات میسر نہیں آتیں۔ ثقافتی شناخت کے حوالے سے بھی خاص طور پر مغربی ممالک میں مسلمانوں کو شدید دباؤ اور بحران کا سامنا ہے۔ ان کی مذہبی رسومات، روایات اور ثقافتیں مسلسل دباؤ کا شکار رہتی ہیں، اور اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اس وقت یورپ میں مسلمانوں کے لیے ثقافتی تقریبات کا انعقاد اور ان کا تسلسل برقرار رکھنا خاصا مشکل ہو چکا ہے۔مزید برآں، مسلمانوں کو ثقافتی تضاد کا بھی سامنا ہے، جس کے باعث کام کی جگہوں اور مقامی کمیونٹیز میں اختلافات اور مسائل جنم لیتے ہیں۔

لباس، خوراک اور مذہبی رسومات کے حوالے سے یورپی معاشروں میں مسلمانوں کو مختلف مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس ضمن میں میڈیا اور عوامی تصورات کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ یورپ میں میڈیا نے مسلمانوں کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ کسی بھی طور مثبت نہیں، جس کے نتیجے میں اسلاموفوبیا کو فروغ ملا اور دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا۔ اس صورتحال کے باعث مذہبی آزادی بھی محدود ہوتی جا رہی ہے، حتیٰ کہ حجاب اور نماز جیسے بنیادی مذہبی امور میں بھی مزاحمت کا سامنا ہے، اور سماجی و ثقافتی طور پر مربوط ہونے اور باہمی اتحاد کے راستے میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ تعلیمی عدم مساوات ہے۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں شدید ناہمواری کا سامنا ہے۔ عالمِ اسلام میں کوئی بھی ایسا ملک موجود نہیں جو مغربی تعلیمی نظام کا مؤثر متبادل پیش کر سکے۔ چنانچہ جب مسلمان مغربی تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں تو وہاں بھی انہیں یکساں اور مساوی تعلیمی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ تعلیم، ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں مواقع کی کمی کے باعث اسلامی ممالک میں تعلیمی نظام بتدریج فرسودگی کا شکار ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ترقی کے امکانات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا براہِ راست تعلق معاشی مشکلات سے بھی ہے، کیونکہ جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی میں کمی عالمِ اسلام کو مالی بحرانوں سے دوچار کر رہی ہے۔

آن لائن تعلیم بھی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔ ڈیجیٹل خلیج، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور آن لائن مواد کے معیار جیسے مسائل مسلمانوں کو درپیش ہیں۔ ان عوامل کے باعث مسلمان طلبہ آن لائن تعلیم کے وہ فوائد حاصل نہیں کر پاتے جو دیگر اقوام کو میسر ہیں۔ عالمِ اسلام میں تعلیمی انفراسٹرکچر اور ٹیکنیکل سہولیات کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تیسرا بڑا چیلنج سیاسی نوعیت کا ہے۔ اسلامی ممالک عالمی سطح پر سیاسی عدم نمائندگی کے بحران سے دوچار ہیں۔ بین الاقوامی قانون سازی اور عالمی فیصلوں میں اسلامی ممالک کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے نتیجے میں اسلامی قوانین اور مسلم مسائل عالمی شناخت سے محروم رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے اندرونی تنازعات اور سیاسی عدم استحکام بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، جس میں اندرونی اور بیرونی عناصر دونوں کا کردار شامل ہے۔ شام، یمن اور لیبیا جیسے ممالک میں جنگیں، داخلی بحران اور انسانی المیے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمِ اسلام شدید سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ ان حالات کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کے خلاف سخت قوانین بنانا آسان ہو چکا ہے، اور دہشت گردی کے نام پر ان کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

غیر مسلم ممالک میں بڑی تعداد میں مسلمان جیلوں اور ظلم و ستم کا شکار ہیں، جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔معاشی مسائل بھی عالمِ اسلام کے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت غربت اور بے روزگاری کا شکار ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جو قحط، اقتصادی زوال یا شدید بحرانوں سے دوچار ہیں، ان میں اسلامی ممالک کی تعداد نمایاں ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو کاروبار، روزگار اور معاشی مواقع میں شدید کمی کا سامنا ہے۔دین اور مذہب کے حوالے سے بھی مسلمانوں کو سنگین مسائل درپیش ہیں۔ مذہبی آزادی کی کمی، عدم برداشت اور مذہبی مساوات کا فقدان ان چیلنجز میں شامل ہے۔ کئی مقامات پر مذہبی انتہا پسندی کے باعث مسلمانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان تمام مسائل کے حل کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہم ان چیلنجز کا شعوری ادراک کریں، انہیں اپنی فکر اور ترجیحات کا مرکز بنائیں اور ان کے حل کے لیے باہم متحد ہوں۔ عالمِ اسلام کے اتحاد کے بغیر ان مسائل سے نبردآزما ہونا یا ان سے نکلنے کی کوئی مؤثر راہ تلاش کرنا ممکن نہیں۔