اچھے مسلمان اور اچھے حکمران کی صفات

گزشتہ سے پیوستہ:
ایک نیک اور سچے مسلمان کو جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اُن میں سے ایک خود کو منافقت سے دور رکھنا ہے۔ یعنی وہ دوہرا معیار نہ رکھتا ہو۔ منافق وہ ہوتا ہے جو بظاہر مسلمان ہو مگر اس کی ہمدردیاں غیر مسلموں کے ساتھ ہوں۔ اس کا ظاہر اور باطن مختلف ہو۔ ریاکاری اور منافقت مسلمان عوام کے دلوں میں رنج و غم اور غصے کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اسکی قطعاً گنجائش نہیں۔ مگر بد قسمتی سے اس برائی کو برا سمجھا ہی نہیں جاتا۔ بلکہ ہمارے بیشتر منجھے ہوئے سیاست دان اور دیگر مکاتب فکر کے لوگ اس مرض کے شکار ہیں۔ عوام میں بھی ایسے سیاست دانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو اپنی چالوں اور حکمت عملی کے نام پر پینترے بدلتے اور ریا کاری سے کام لیتے ہیںاور سادہ لوح عوام بہکاوے میں آکر اسی طرز عمل کو اپنا لیتے ہیں۔

جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے بھی اجتناب کرتا ہو۔ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اسے دینی نقطہ نگاہ سے بھی سخت برا سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ تجارتی حلقے ہوں یا سیاسی و صحافتی حلقے ہر جگہ کذب بیانی اور حقیقت کے برعکس دروغ گوئی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ بلکہ کوئی اس کو برائی کے خانے میں ڈالتا ہی نہیں۔ عدالتوں اور کچہریوں میں جھوٹی گواہی اس کا بین ثبوت ہے۔ اگر ہم جھوٹ کو ا پنے قول و فعل سے ساقط و خارج کر دیں تو کافی حد تک جھوٹ اور دل کے کھوٹ سے پہنچنے والے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

عہد کی پاسداری کرتا ہو۔ وعدہ خلافی سے گریز کرتا ہو۔ جو وعدہ یا عہد کرے اسے پورا کرنے کی پوری کوشش کرے۔ وعدہ خلافی ایک بڑا اخلاقی جرم ہے اور معاشرے میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بنتا ہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک بہت سے لوگ وعدے کا پاس نہیں کرتے۔ بالخصوص ہمارے سیاست دان وعدہ خلافی اور بد عہدی کے زیادہ مرتکب ہوتے ہیں، جبکہ چھوٹے موٹے دکاندار اور محنت کے کام کرنے والے مزدور و مکینک وغیرہ جھوٹ اور وعدہ خلافی کو روزمرہ کے معاملات میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کو خود اپنی سر زنش کرنی چاہئے کہ بدعہدی، جو جھوٹ کی طرح کردار کی سنگین کوتاہی ہے، اس سے فی الفور چھٹکارا حاصل کیوں نہیں کیا جاتا۔

خود غرضی اور توہم پرستی سے بچتا ہو۔ یہ دونوں طرح کی لغویات اللہ پر کامل بھروسے کے خلاف، اور قدرت پر اعتقاد و اعتماد کے منافی ہیں۔ خود غرضی بندوں سے امید باندھنے اور مفاد پرستی کی ترغیب دیتی ہے اور توہم پرستی ایمان کو کمزور کرتی ہے۔ جبکہ یہ خوف میں مبتلا بھی کرتی ہے، ضعیف ا لاعتقادی پیدا کرتی ہے اور عاملوں اور جادو ٹونے کی طرف مائل کرتی ہے۔ ۔ جادو ٹونا اسلام میں حرام سمجھا جاتا ہے۔ ایک نیک، پارسا اور خدا خوفی رکھنے والا مسلمان ان گناہوں سے احتراز کرتا ہے۔

گھمنڈ، غرور، تکبر، بڑائی، انانیت اور خود کو دوسروں سے برتر و بالا جاننے کی فہم اور زعم، انتہائی ناقص مزاجی اور گناہ گاری کی علامت ہے۔ اس سے ایمان کی پختگی متاثر ہوتی ہے۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ برتری اور بڑائی صرف اللہ کو حاصل ہے۔ اس کے بعد بالا و اعلیٰ اور برتر ذات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔ لہذا کسی بھی پاکباز، نیک دل اور باعمل مسلمان کے لیے تکبر اور غرور سے لاتعلق ہونا اور عاجزی اختیار کرناضروری ہے اور یہ ایمان کا حصہ بھی ہے۔ ہم چھوٹی باتوں پر، دولت، شہرت، عہدے، اختیار، طاقت اور اقتدار پر اتراتے اور برتری کے زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہمارا حکمران طبقہ بالخصوص انانیت، خود پسندی اورتکبر کے حصا ر سے باہر نہیں نکلتے۔ ان کے مصاحبین بھی ان کے گرد ایسا حلقہ بنا لیتے ہیں جہاں واہ، واہ اورتعریف و توصیف کے ستائشی جملے ان کے مزاج کو زمین سے فلک پر پہنچا دیتے ہیں اور پھر انکے اندر ”کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے”کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ یہ اقتدار، طاقت، شہرت، دولت اور سطوت و جبروت عارضی چیزیں ہیں۔ جلد ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔ سدا رہنے والی باتوں میں بھلائی کی باتیں، اللہ کے احکامات کی پابندی، رسول کریمۖ کی ذات اقدس سے سچی محبت اور ختم نبوت کے نظریے کی حفاظت شامل ہیں۔ معاشرے میں خیر کے عمل کی ترغیب اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔ عوام کو تعلیم، صحت اور جائز روزگار کی فراہمی کی منصوبہ بندی کرنا، حقدار کو حق دینا، دانشمندی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ ایسے فیصلے کرنا جن میں لاپروائی، نالائقی اور سوچ بچار میں کمی کا تاثر نہ پیدا ہو۔ خدمت اور انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے تو اللہ کی اعانت بھی شامل حال ہوجا تی ہے۔ کسی بھی شخص کو برسر اقتدار آنے اورہنمائی کے مواقع ملنے کے بعد اپنے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو کیسی نصیحتیں کرنی چاہئیں اس کی روشن مثال ترکیہ کے معروف رہنما کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے صدر کا نتخاب جیتنے پر کی۔ انہوں نے کہا کہ “اللہ کے ساتھ شرک، گناہ اور جھوٹ سے بچو۔ سلام دعا کو اہمیت دو۔ نماز صحیح طریقے سے پڑھو۔ مسکرانا ایک صدقہ ہے۔ چلا کر مت بولو۔ عاجزی سے چلو۔ علمی مجالس میں شرکت کرو۔ صبح جلدی اٹھو۔ تمام کاموں میں مشاورت کرو۔ دوسروں کے ساتھ شفقت والا رویہ رکھو۔ اچھے دوستوں کا انتخاب کرو۔ کوئی مصیبت آئے تو صبر کرو…!
یہ ہیں وہ اوصاف اور خصوصیات جو ایک مسلمان عام شہری کو اچھا، نیک اور شریف بناتے ہیں بلکہ کسی بھی حکمران کے لیے راہ نما اصول وضع کرتے ہیں۔