اسلام آباد خودکش حملے کی تحقیقات نوشہرہ اور باجوڑ تک پہنچ گئی، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کا حملہ

اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے دوران خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس سب انسپکٹر شہید جبکہ ایک انٹیلی جنس اہلکار زخمی ہو گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد میں انٹیلی جنس اداروں اور پولیس نے مشترکہ سرچ آپریشن کیا، جہاں ایک مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا جبکہ علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ کرنے والے حملہ آور کا تعلق نوشہرہ سے بتایا جا رہا ہے، جس کی تلاش میں یہ کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب اسلام آباد خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ پاکستان (داعش) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خودکش حملہ آور کا نام سیف اللہ انصاری بتایا، تاہم سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مبینہ حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق پشاور سے بتایا جا رہا ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق یاسر کے دو بھائی بلال اور ناصر اور اس کے بہنوئی عثمان کو ترناب فارم کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یاسر اپنے بہنوئی عثمان سے مسلسل رابطے میں تھا، جس سے حملے کے پیچھے ایک منظم سہولت کاری کے نیٹ ورک کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق مبینہ حملہ آور مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس آیا، جس کے بعد وہ باجوڑ منتقل ہوا جہاں اس نے نئی سم فعال کی۔ ریکارڈ کے مطابق وہ 27 جون سے اکتوبر تک باجوڑ میں مقیم رہا اور بعد ازاں نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد منتقل ہو گیا۔ سیکیورٹی ماہرین اس دورانیے کو شدت پسندی اور آپریشنل تیاری کا مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور نے 2 فروری کو اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ کی ریکی کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی کئی ہفتوں پر محیط تھی۔

ادھر سوشل میڈیا پر خودکش حملہ آور کے شناختی کارڈ سے متعلق گردش کرنے والے سوالات پر تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اندرون ملک سفر کے دوران شناختی کارڈ ساتھ رکھنا ایک معمول کی بات ہے کیونکہ مختلف ناکوں اور چیک پوسٹس سے گزرنے کے لیے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ فرانزک ماہرین کے مطابق خودکش دھماکوں میں تمام اشیاء مکمل طور پر تباہ نہیں ہوتیں اور شناختی دستاویزات، سم کارڈز اور دیگر اشیاء جزوی یا مکمل حالت میں ملنا غیر معمولی نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی انفرادی نہیں بلکہ منظم نیٹ ورک اور سہولت کاری کے نظام کا نتیجہ ہوتی ہے، جس کا مقابلہ مؤثر انٹیلی جنس اور مربوط کارروائیوں سے ہی ممکن ہے۔