ریاست اور مذہب کا باہمی تعلق؟

یہ نکتہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ عیسائی، یہودی اور دیگر مذاہب والے اگر اپنی ریاستوں سے مذہب کو دیس نکالا دیتے ہیں، اس میں وہ حق بجانب کہلائے جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ان کی شریعت کا کوئی باوثوق مذہبی قانون نہیں ہے۔ ایک ریاست کو کس طرح چلایا جاتا ہے؟ ریاست کے خدوخال کیا ہوں؟ سیدنا موسیٰ یا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی کوئی تعلیمات اس دنیا میں موجود نہیں جن کی بنیاد پر یہودی یا عیسائی دعویٰ کرسکیںجبکہ اس کے مقابلے میں اسلام کے پاس پورا فلسفۂ حیات ہے۔ ایک کامیاب ریاست کو چلانے کے لیے سیکڑوں اور ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ پھر یہ صرف ایک نظری بات نہیں بلکہ مسلمانوں کی ایک طویل تاریخ اس پر گواہ ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی اور پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ادوارِ حکومت سے بڑھ کر اس کی دلیل کیا ہوسکتی ہے؟ ان لوگوں نے کبھی نہیں کہا کہ اسلام الگ ہے اور ریاست الگ۔ ”ریاست کا کوئی مذہب ہوتاہے یا نہیں؟” یہ اشکال اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ اسلامی ریاست کا تصور ہمارے سامنے نہیں ہے، ہمارے ذہنوں سے محو ہوگیا ہے۔

آج کل اسلامی مسلح عسکری جماعتوں نے اسلامی ریاست کا جو تصور لوگوں کے دل و دماغ میں بٹھایاہے اس کی وجہ سے دنیا پریشان ہے۔ کیا خلافت راشدہ کے دور میں ریاست کا مذہب نہیں تھا؟ کیا عمر بن عبد العزیز کے دور میں ریاست کا مذہب نہیں تھا؟ یہ تمام خرابیاں شاید ہماری موجوہ حکومتوں اور ہم مسلمانوں کی نااہلی کے سبب پیش آرہی ہے۔ اس میں اسلام کا کوئی قصور نہیں ۔اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔اسلام کے بہت سے قوانین غیرمسلموں پر لاگو نہیں ہوتے۔ اگر کسی نے اسلام قبول نہیں کیا ہے تو اس پر کوئی زور زبردستی نہیں اور اسلامی حکومتوں میں انہیں مکمل تحفظ بھی حاصل رہا ہے، لیکن جس نے اسلام قبول کیا، اس کے لیے ضرور اسلام کچھ ضابطے مقرر کرتا ہے ۔یہ اس کی بقا کے لیے ہوتے ہیں، ظلم کے زمرے میں ہرگز نہیں آتے۔ سیکولرازم کے علمبرداروں کو دیکھنا چاہیے اگر امریکا و یورپ کے انسانوں نے کچھ ضابطے مقرر کررکھے ہیں اور وہاں کے لوگ انہیں حرزِ جان بناتے ہیں تو پھر مسلمانوں کو کیوں منع کیا جاتا ہے؟

سوال یہ ہے کیا دنیا میں آج تک کوئی ایسی ریاست وجود میں آئی ہے جس کا کوئی تصورِ خیر اعلیٰ سرے سے موجود ہی نہ ہو یا اس کا کوئی سپریم گوڈ نہ ہو؟ کیا کوئی ایسی ریاست موجود ہے جہاں پر سزا اور جزا کا عدالتی نظام رائج نہ ہو؟ ظاہر ہے ریاست ایک رضاکارانہ تصور کا نام ہے۔ ریاست کے تمام لوگ اس ریاست کے خیراعلیٰ کے تصور اور اس کے ساتھ اس کے نظامِ جبر کو قبول کرتے ہیں۔ یعنی اس کو ہر حال میں تسلیم کرنا ہی پڑے گا، اس کے علاوہ کوئی آزادی نہیں ہوگی۔ اس جبر کو آزادی کہا جاتا ہے۔ صرف فلسفے کی دنیا میں ”انارکسٹ ریاست” ایک ایسی ریاست ہے جس کا کوئی سپریم گوڈ نہیں ہوتا۔ وہاں کوئی قانون نہیں ہوتا، ہر شخص آزاد ہوتا ہے جو چاہے کرے اور ایسی ریاست کتابوں میں تو موجود ہے، لیکن آج تک ایسی ریاست قائم نہیں ہوسکی۔ ہر ریاست جس تصورِ خیراعلیٰ کو قبول کرتی ہے خواہ وہ تصورِ خیر اعلیٰ کچھ بھی ہو اُسی تصورِ خیر کو مذہب ہی کہا جاتا۔ مذہبی معاشروں میں اس تصور کو ”نہی” کہتے ہیں اور مغربی سیکولر کو اس تصورِ خیر کو ”آزادی” کہتے ہیں۔ اسلام کا مذہب بندگی ہے اور سیکولرازم کا مذہب آزادی ہے، لیکن مغرب کو اور سیکولر حضرات کو مذہب کے جبر پر اعتراض کیوں ہے؟

سیکولرازم چاہتا ہے کہ اگر کوئی مذہبی ریاست ہے تو وہ صبح فجر کی نماز میں بچوں کو اُٹھانے جگانے اور نماز پڑھانے کی کوشش نہ کرے، اس سے بچوں کی آزادی میں خلل واقع ہوتا ہے، لیکن دنیا کی ہر سیکولر آزاد ریاست میں صبح کے وقت بچوں کو ڈنڈے، ڈھڈے، تھپڑ، گھونسے، یہ مار پیٹ کر جبراً تشدد کرکے اسکول بھیجا جاتا ہے۔ کیا یہ جبر نہیں ہے؟ یہ آزادی کا جبر ہے۔ یہ جبر جائز ہے کیونکہ اس کا مذہب سے تعلق نہیں ہے بلکہ مذہبِ آزادی سے ہے۔ اسکول بھیجنا بھی خود سیکولر مذہب کا حکم ہے، اسکول کی سیکولر تعلیم کے لیے جبراً تشدد جائز ہے، لیکن دوسری طرف بچوں کو اُٹھاکر اگر نماز پڑھائی جائے تو یہ مذہبی جبر کہلاتا ہے۔ 7 سال کے بعد جاکر بچے کو نماز کی ترغیب ہے جبکہ سیکولرازم میں بچوں کو 2 سال کی عمر میں تعلیم حاصل کرنے جبراً داخل کرادیا جاتا ہے۔ بہت سے ملکوں میں تعلیم لازمی ہے۔ بہت سے ملکوں میں ووٹ نہ ڈالنا جرم ہے اور جرمانے کے طور پر تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ بچوں کو اسکول نہ بھیجنے پر والدین پر جرمانہ بھی کردیا جاتا ہے۔ سیکولر کے علمبرداروں کو آزادی کا جبر قبول ہے جبکہ ہمارا مذہب بندگی ہے، جس میں مذہبی جبر اصل میں جبر نہیں ہوتا بلکہ آزادی ہی ہے۔

”سیکولر ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا” یہ بالکل سفید جھوٹ ہے۔ سزا اور جزا کا عدالت فیصلہ کرتی ہے۔ قانون کیسے بنتا ہے؟ تصورِ خیر سے قانون بنتا ہے، اگر اس کی خلاف ورزی کریں گے تو سزا ملے گی۔ سیکولرازم میں اس کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ عدلیہ اور سزائوں کا قیام وغیرہ مذہب ہی ہے۔ سیکولرازم میں بھی آزادی، مساوات اور ترقی کے عقیدوں کے خلاف کام کرنے والوں کو سزا دی جاتی ہے، حتیٰ کہ ان کا قتل عام کرنا بھی جائز ہے۔ امریکا میں بلڈ کینسر وومن کو قتل کردیا گیا ہے۔ ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ مذہبی لوگوں میں اختلافات ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ سیکولر معاشرے میں بہت تنوع ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مذہب میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ موجود ہیں تو یہ تنوع کی علامت ہیں، اس پر اعتراض کیوں؟ مکاتب فکر صرف آسمانی مذہب میں نہیں ہوتے بلکہ دنیا کے ہر مذہب چاہے سیکولرازم ہو یا سرمایہ دارا نہ نظام ہو، اس میں بھی ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سرمایہ داری اسلام کی طرح ایک مکمل مذہب ہے۔ جس طرح اسلامی مذہب میں مختلف مکاتب فکر ہوتے ہیں بالکل اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام یا سیکولرازم میں بھی کئی مکاتب فکر ہیں، جن کے نام لبرل ازم، کمیونزم، سوشیلزم، فاشسزم، نیشنلزم، فیمینزم، انارکزم، یہ سب اس مذہب کے مکاتب فکر ہیں۔ آپ کو سیکولرازم کے ان مکاتب فکر پر اعتراض کیوں نہیں ہے؟ صرف ہمارے مذہب کے مکاتب فکر پر اعتراض کیوں ہے؟

”مذہب نے سب سے زیادہ خونریزی کی ہے” یہ تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ خونریزی سیکولرازم، کیپٹلیزم اور لبرل ازم نے کی ہے۔ اس کے لیے تین کتابوں کے ثبوت پیش خدمت ہیں۔ ”مائیکل مین” کی کتاب ”The Dark Side of Democracy” کے مطابق ”امریکا میں آنے والا جمہوری انقلاب میں امریکیوں نے 50 سال میں 10 کروڑ ریڈ انڈینز کو قتل کیا ہے۔ آج امریکا جس بنیاد پر کھڑا ہے اس میں 10 کروڑ لوگوں کا خون ہے جبکہ اسلامی تاریخ کے 15 سو سال کے اندر 10 لاکھ بھی قتل نہیں ہوئے۔ انقلابِ فرانس، انقلابِ روس اور انقلابِ چین میں بھی 8 کروڑ سے زیادہ لوگ قتل کیے گئے۔ یہ تینوں سیکولر انقلاب تھے۔ لاطینی امریکا میں انقلاب لانے کے لیے 2 کروڑ قتل کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم خالص سیکولر جنگیں تھیں، ان جنگوں کا مطلب یہی ہے کہ دنیا کی تاریخ میں ایسی جنگ عظیم اس سے پہلے کبھی ہوئی ہی نہیں۔ دونوں جنگوں میں کروڑوں لوگ قتل کیے گئے۔ یہ سب سیکولر جنگیں تھیں۔ اگر سیکولرازم کے علمبرداروں کو اسلام کے بارے میں معلومات نہیں تو برائے مہربانی مغربی مفکرین کی کتابیں ہی پڑھ لیں تو معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کس قسم کا مذہب ہے؟ اور اسلام کس قسم کی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے؟