کسی بھی انسان کے اچھا یا برے ہونے کی پرکھ اس کی خوبصورتی، خوش لباسی یا شخصیت کی سحر انگیزی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی پہچان، طرز گفتگو، انداز تخاطب اور اس کی زبان کے صحیح یا غلط استعمال سے فوراً ہوجاتی ہے۔ بات چیت اور بول چال ناگوار ہو تو ناپسندیدگی کا امکان پیدا ہوجاتا ہے اور خوشگوار ہو تو سنتے رہنے کو دل کرتا ہے۔ انسان ااپنے برتاؤ اور عادات میں اچھا ہو، خوش مزاج، با اخلاق، ہنس مکھ، ملنسار ہو اور اس کی نرم و گداز گفتگو کی صبیح و سندر آواز لوگوں کو متوجہ کرتی ہو تو اس کی تعریف صرف اس کے حلقہ احباب ہی نہیں کرتے بلکہ ہر وہ اجنبی جو صرف پہلی بار ملا ہو، وہ بھی ایسا تاثر لیکر جاتا ہے جیسے اس کا صاحبِ ملاقات سے برسوں کی شناسائی اور میل جول ہے۔ کوئی بھی انسان جس میں معمولی سی بھی سوجھ بوجھ ہو اُسے بھی روبرو بیٹھے، خوبیوں کے مالک کے بارے میں یہ رائے قائم کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ وہ بے مروتی، ظاہرداری اور خودغرضی کے اس دور میں ایسے شخص سے شرف ملاقات حاصل کررہا ہے جو سراپا پیکر اخلاق اور مجتمع اوصاف کا حامل ہے۔ ظاہر ہے خوش خلقی اور خوش کلامی ایسا وصف ہے جو دوسروں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ہر سننے والا صاحب گفتگو کی باتوں کے سحر میں مبتلا ہوکر کلام و زبان کا حظ اٹھاتا ہے۔ دلوں کا حال اللہ جانتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ نفسا نفسی اور مغائرت کے دھند زدہ ماحول کے تناظر میں ہمدردی کے دو بول بولنے والے ہر شخص کو شرافت و متانت کا مظہر سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ کسی کی ایک خوبی کو کسی کی شرافت، دیانت، خیر خواہی، نیک دلی اور حسن اخلاق کی گواہی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس میں دھوکے اوز غلط اندازے کا احتمال ہو سکتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ خوش خلقی اور نرم خوئی رفتہ رفتہ ہماری سماجی اقدار سے غائب ہوتی جارہی ہے۔ برائیوں کی گھن گھرج اور بے حسی کے شور الاپتے طوفان میں صدائے خیر کی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ لائق فکر امر یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایسے اشخاص جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور عقل و دانش رکھتے ہیں’ یا اللہ نے انہیں طاقت و اقتدار کے منصب سے نوازتا ہے، وہ عجز و انکساری اور حسن کلام کی بجائے زبان و بیان کی تلخ نوائی اور زہر افشانی کو اپنی کامیابی اور مقبولیت کا جزو سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اس کے فروغ اور پھیلاؤ کا الاؤ اب بھی دہک رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے کے بڑے حلقوں میں اسے نا صرف پسندیدگی سے دیکھا جانے لگا بلکہ تقلید میں بھی اس کو مخالفین کے خلاف ہتھیار سمجھا جانے لگا ہے۔اچھے اور نیک انسانوں میں سے ہی اچھے حکمرانوں کی کھیپ تیار ہوتی ہے۔ ان کے اندر کیا کیا خوبیاں ہونی چاہئیں ان کا ذکر قرآنی احکامات، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کتابوں اور احادیث مبارکہ میں ملتا ہے۔ جن کے بارے میں علماء دین اور صالحین ہماری رہنمائی فرماتے ہیں۔ ایک اچھے انسان میں مسلمان کی حیثیت سے کیا خوبیاں اور خصوصیات ہونی چاہئیں وہ یہ ہیں مثلاً:
وہ اللہ کی وحدانیت اور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غیرمتزلزل یقین رکھتا ہو اور اپنے کسی قول و فعل سے اس کے منافی اور مصلحت کوشی سے کام نہ لیتا ہو۔ نیکی اختیار کرتا ہو اور دوسروں کو بھی نیکی کا درس دیتا ہو۔ وہ ہر اس بات اور عمل سے اجتناب کرتا ہو جس میں شرک کا ذرہ برابر بھی شائبہ ہو۔ غیبت کرکے کسی کا دل نہ دکھاتا ہو۔ کسی پر دشنام طرازی، بے جا الزامات لگانے، نام بگاڑنے اور غیرسنجیدہ و حد سے متجاوز گفتگو سے گریز کرتا ہو۔
ہمارے سماجی و سیاسی ڈھانچے میں نقالی، حرص، بھیڑچال اور اہل اثر کی اندھی تقلید میں کسی کو بلاجواز مبالغہ آرائی کے ساتھ مطعون کرنا ناگوار نہیں لگتا۔ اپنے تئیں کسی کو چور، ڈاکو، شوباز، بوٹ پالیشیا، چیری بلاسم، فضلو، ڈیزل، غدار، میرجعفر میرصادق اور ڈرٹی ہیری جیسے نامعقول القابات سے نوازنا کسی طور درست نہیں۔ چاہے اس طرح کے الزامات میں کتنی بھی حقیقت کیو ں نہ ہو۔ بے شک انسان خطا کا پتلا ہے، لیکن بھرے اجتماع میں کسی کے عیوب کا پردہ چاک کرکے اس کی تشہیر کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ ایسا وہ افراد بھی کرنے سے نہیں چوکتے جن کے اپنے اعمال و کردار پر انگلیاں اٹھتی ہوں، جو خود بدخوئی اور بدکرداری پر لائق تنقید ہوں۔ روز قیامت جہاں خائن اور چوروں کی گرفت ہوگی وہاں علیٰ الاعلان عیب جوئی کرنے والوں کی بھی پکڑ ہو گی، کیونکہ ہمارے دین میں اس مثل کی بد کلامی خلاف اخلاق سمجھی جاتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس نوع کی غیراخلاقی گفتگو کو معاشرے کے بعض حلقوں میں نا صرف پسند کیا جاتا ہے بلکہ اس کی داد و تحسین بھی کی جاتی ہے۔ اس منفی روش کا ایک پہلو یہ ہے کہ معاشرے میں تحمل مزاجی، صبرو برداشت اور بُردباری کا فقدان پیدا ہوتا جارہا ہے اور کسی ایک جانب سے نہیں بلکہ سب اطراف سے اس زبانی کلامی اظہاریے میں نفرت کی بوچھاڑ شامل ہوگئی ہے۔ قلب میں چبھی ان پھانسوں کا نکالنا ہم سب کے مفاد میں ہے۔(جاری ہے)

