قازقستان کے صدر کا دورۂ پاکستان

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف گزشتہ دنوں سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے۔ یہ دورہ اگرچہ تین سال قبل ہونا تھا لیکن اب ہوا جو کہ خوش آئند ہے۔ اس سے پاکستان اور قازقستان میں تجارت اور کنکٹویٹی کے حوالے سے نئی راہداری بن سکتی ہے۔ دورے میں پاک قازقستان 5 سالہ تجارتی روڈمیپ، تجارتی حجم 1 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان سے روس تک ٹرانسپورٹ کوریڈور بنے گا۔ پاکستان اور قازقستان نے تجارت اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کیلئے 5 سالہ روڈمیپ اورآئندہ 2 سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، صحت، کھیل، ریلوے، ماحولیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں جبکہ پاکستان سے روس تک ٹرانسپورٹ کوریڈور بنانے پر بھی کام ہوگا۔

اِس موقع پرقازقستان کے صدر نے کہا کہ دفاعی شعبے میں پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے۔ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وسط ایشیائی ریاستوں کو بندرگاہوں تک رسائی دے سکتے ہیں۔ اسٹرٹیجک شراکت داری معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل، ریل اور روڈ منصوبہ گیم چینجر ہوگا۔ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی،تعلیم،صحت، کھیل، ریلوے، ماحولیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے ملکرکام ہوگا۔ ایک سال میں دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے۔

اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقع پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد دوست او ر اسٹرٹیجک شراکت دار ہے۔ دونو ں ممالک کے درمیان تجارت و معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔ ایک ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کیلئے ملکر آگے بڑھیں گے۔ دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو کاروبار کے لیے پُرکشش مواقع فراہم کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدرقاسم جومارت توکایووف نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان اسٹرٹیجک شراکت داری کے قیام کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے۔ مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مجموعی طور پر 37مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کئے گئے جبکہ 19 دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔

قازقستان وسطی دنیا کا رقبے کے لحاظ سے نواں بڑا ملک ہے اور خطے میں اہم اسٹرٹیجک حیثیت کا حامل ہے۔ اس کی سرحدیں چین، روس، کزغزستان، ازبکستان، ترکمانستان کے ساتھ ساتھ کئیسپین سی کے آذربئجان کے ساتھ لگتی ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک میں قازقستان ایک پوٹنشیل رکھنے والا ملک ہے جہاں ازبکستان کے مقابلے میںٹیکس اور بنکوں کے مسائل کم ہیں۔ ازبکستان اگرچہ خطے کا بڑا ملک ہے لیکن قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے پاکستانیوں سمیت غیرملکیوں کے لئے کاروباری مسائل بہت ہیں۔ اس سال کینو کی ایکسپورٹ بھی ازبکستان اس طرح نہیں ہوسکی جس طرح ماضی میں ہوتی تھی۔ اس کے مقابلے میں قازقستان اس بار کینو ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ قازقستان حکومت کی کسٹم کی نرم پالیسی ہے، کیونکہ افغانستان کے ساتھ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے ایران اور چین کے راستے بہت کم ایکسپورٹ ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے میں کرغزستان اور قازقستان ایسے ممالک ہیں جہاں سے پورے خطے میں پاکستانی تجارت کو فروغ مل سکتا ہے۔ چین کے راستے ان ممالک کو آلو، کینو سمیت دیگر مصنوعات کو ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت خطے میں سب سے بڑا مسئلہ کنکٹویٹی کا ہے۔ پاکستان سے براہ راست قازقستان کے لئے پروازیں نہیں ہیں ۔براہ راست پروازیں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اور پاکستانی تاجر اس خطے سے براہ راست بہت کم منسلک ہیں۔اس وقت پاکستان جس توانائی کے بحران سے دوچار ہے اس کا سدباب بھی اس خطے سے ممکن ہے۔

ایک اہم بات اور ان ممالک میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں کی سفارت کاری کا بھی ہے۔ تجارتی خلا موجود ہونے کے باوجود پاکستانی سفارت کار فعال کردار ادا نہیں کررہے۔ قازقستان ،ازبکستان میں گائے کی گوشت کی کمی ہے ، جو کہ پاکستان آسانی سے پورا کرسکتا ہے۔ وہ کام جو پاکستانی سفارت کاروں کے تھے ،قازقستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے سفیر ،وزرا اور صدور کررہے ہیں۔ پاکستان میں قازقستان کے سفیر کا ذکر نہیں کیا جائے تو غلط ہوگا۔ قازقستان کے سفیر نے مسلسل کوششیںکی، پاکستان اور قازقستان میں تعلقات کے فرو غ کے بنیادی کردار ادا کیا ہے جو لائق تحسین اور سبق کا حامل ہے۔ قازقستان کے صدر کے بعد اب ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف پاکستان کے دورے پر پہنچنے والے ہیں۔

وسطی ایشیائی ممالک بالخصوص قازقستان کئی برسوں بعد پاکستان کی طرف متوجہ ہوا ہے۔ قازقستان چاہتا ہے وہ روس یوکرین اور امریکا کے ما بین اپنا ایک الگ مقام اور راستہ تعین کرسکے۔ سوال پاکستانی تجارت کا ہے، تاجک سے لیکر روس تک سب پاکستان کے ساتھ منسلک ہونا چاہتے ہیں ، لیکن پاکستان اب بھی گومگو میں ہے۔ ریلوے منصوبے وسطی ایشیائی ممالک سمیت روس اور پاکستان کی بھی ضرورت ہے ،اب ایم او یوز سے باہر نکل کر عملی جامہ پہنانے کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو اس بات کا ادرا ک ہے یا وہ اب بھی امریکی پٹاری سے باہر نکلنے کو تیار نہیں؟ پاکستان کواب چین امریکا میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اب دو کشتیوں کے سوار کے ڈوبنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ سوال پاکستان اور خطے میں کنکٹویٹی کا ہے؟ قازقستان کے صدر کا دورہ اور اب ازبکستان کے صدر کی پاکستان آمد اسی تناظر میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔