امریکا اور بھارت میں رابطہ کیسے بحال ہوا، اندرونی کہانی سامنے آگئی

بھارت اور امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات، سخت بیانات اور بھاری تجارتی محصولات کے باوجود بالآخر ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا، جس کی کہانی سامنے آگئی۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشرفت اچانک نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے کئی ماہ پر محیط خاموش سفارت کاری، پسِ پردہ رابطے اور حکمتِ عملی پر مبنی صبر شامل تھا۔

ستمبر میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی چین میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے فوراً بعد بھارت نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ اسی سلسلے میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو واشنگٹن بھیجا گیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

واشنگٹن میں اجیت دوول نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ بھارت امریکا کے ساتھ تلخی کم کر کے دوبارہ تجارتی مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے یہ پیغام بھی دیا کہ نئی دہلی کسی سیاسی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرے گا اور ضرورت پڑنے پر طویل سفارتی انتظار کی حکمتِ عملی بھی اختیار کر سکتا ہے۔ دوول نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ بھارت کے خلاف کھلے عام تنقید میں کمی لائی جائے تاکہ دوطرفہ تعلقات کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکے۔

اس دوران دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر پچاس فیصد محصولات عائد کیے اور سخت بیانات دیے۔

ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو کمزور قرار دیتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری کے ذریعے یوکرین جنگ کے اخراجات میں بالواسطہ مدد کر رہا ہے۔