عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔
سونا اب صرف قیمتی دھات نہیں بلکہ عالمی سطح پر معیشت کا ایک حساس پیمانہ بن گیا ہے۔ تین روز قبل بین الاقوامی مارکیٹ میں غیریقینی ماحول کے باوجود انویسٹرز اور مختلف ممالک سینٹرل بینکس تاحال اپنے اثاثوں کو سونے میں منتقل کرنا محفوظ تصور کررہے جس سے عالمی مارکیٹ میں بدھ کو تیسرے دن بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رہا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 148ڈالر کے اضافے سے 5ہزار 064ڈالر کئی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی بدھ کو فی تولہ سونے کی قیمت 14ہزار 800روپے کے اضافے سے 5لاکھ 29ہزار 162روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت 12ہزار 689روپے کے اضافے سے 4لاکھ 53ہزار 671روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بھی 1ڈالر 80سینٹس بڑھکر 87ڈالر 80سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 109 روپے کے اضافے سے 9ہزار 255 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت 93روپے کے اضافے سے 7ہزار 934روپے کی سطح پر آگئی ہے۔
اس طرح سے تین روز میں فی اونس سونے کی قیمت 408ڈالر ریکور کرگئی ہے جبکہ فی تولہ سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 38ہزار 800روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ فی اونس چاندی کی قیمت 8ڈالر 50سینٹس اور فی تولہ چاندی کی قیمت 850روپے بڑھ گئی ہے۔
عالمی مالیاتی نظام کے تحقیقی اداروں کی جانب سے سونا اور چاندی کی قیمتیں بڑھنے کی پیشگوئیوں کے سبب سونے اور چاندی کی خریداری ڈیمانڈ بدستور برقرار ہے۔

