شب برا ت وہ مقدس رات ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’ لیلة مبارکة‘ یعنی برکتوں والی رات کے نام سے ذکر کیا ہے اور یہ لیلة مبارکہ شعبان المبارک جیسے مہینہ میں واقع ہے جس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور رمضان المبارک میری امت کا مہینہ ہے۔
شعبان المعظم اور شب برات کی احادیث مبارکہ اور روایات میں بہت زیادہ اہمیت و فضیلت آئی ہے، اس مبارک رات کے بہت سے نام ہیں۔ اس کو ’لیلة الصّک‘ یعنی دستاویز والی رات، ’لیلة الرحمة‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کے نزول کی رات کے نام سے بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے، بخشش و مغفرت اور رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، انعام و اکرام کی بارش ہوتی ہے۔ توبہ اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس رات میں آئندہ سال کی اموات و پیدائش لکھی جاتی ہیں اور اس رات میں ان کے رزق کی بھی تقسیم کر دی جاتی اور اس رات میں بندوں کے اعمال و افعال آسمان پر لے جائے جاتے ہیں اور اس رات میں اللہ تعالیٰ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر بندوں کو دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرماتے ہیں۔ لیکن اس بخشش و مغفرت، اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت اور اس رات کی برکات و ثمرات سے مشرک، کینہ پرور ، رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے یعنی ان کے حقوق پورے نہ کرنے والا، والدین کا نافرمان، کسی انسان کو ناحق قتل کرنے والا، بدکار عورت، تہبند، پاجامہ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا یعنی متکبر، زانی اور شرابی محروم رہتا ہے۔ جب تک یہ سب ان چیزوں سے سچے دل سے توبہ کر کے اپنے آپ کو درست نہیں کر لیتے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جن میں کی جانے والی دعائیں رد نہیں ہوتیں یعنی ضرور قبول ہوتی ہیں: شب جمعہ، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں شب (شب برات)، عیدالفطر کی رات، عیدالاضحی کی رات۔ خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان (شب برات) کی شب آسمان دنیا کی طرف نزولِ جلال فرماتے ہیں اور اس شب میں ہر کسی کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے مشرک کے یا ایسے شخص کے کہ جس کے دل میں بغض ہو۔ ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمانِ دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتے ہیں اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔
حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر نطرِ رحمت ڈال کر مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں، کافروں کو مہلت دیتے ہیں اور کینہ پروروں کو ان کے کینہ کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں تا وقتیکہ وہ کینہ پروری چھوڑ دیں۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں شب ہوتی ہے تو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت کا طالب ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں، کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اس کو عطا کر دوں؟ اس وقت بندہ اللہ تعالیٰ سے جو مانگتا ہے اس کو ملتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔
اُم المو¿منین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں شب (شب برات) میں کیا ہوتاہے؟ انہوں نے دریافت کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہوتا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہیں وہ سب لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے اس سال میں مرنے والے ہیں وہ سب بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اور اس رات میں سب بندوں کے اعمال (سارے سال) اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اُتاری جاتی ہے۔ مشہور تابعی حضرت عطاءبن یسارؒ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرھویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فہرست ملک الموت کو دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس فہرست میں درج ہیں ان کی روحوں کو قبض کرنا۔ کوئی بندہ تو باغوں کے درخت لگا رہا ہوتا ہے، کوئی شادی کر رہا ہوتا ہے، کوئی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے، حالانکہ اس کا نام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے ۔
اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزے رکھنے کو بہت زیادہ محبوب رکھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اے عائشہ! جن لوگوں نے اس سال میں مرنا ہے ہوتا ہے ملک الموت ان کے نام اس مہینہ میں لکھ لیتا ہے، اس لیے مجھ کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اگر میرا نام بھی اس فہرست میں جس وقت لکھا جائے اُس وقت میں روزے کی حالت میں ہوں ۔ ‘ شب برات کی عظمت و فضیلت کے بارے میں جلیل القدر تابعی حضرت عطاءبن یسار ؒ فرماتے ہیں کہ شب قدر کے بعد شعبان کی پندرھویں شب (شب برات) سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں۔
سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں شب آئے تو رات کو نماز پڑھو اور اگلے دن روزہ رکھو، کیونکہ غروب آفتاب سے لیکر صبح صادق کے طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر رہتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق دیدوں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں؟ ہے کوئی ایسا…. ہے کوئی ایسا….!
ہمیں اِس رحمت و برکت اور بخشش و مغفرت والی رات میں خوب عبادت و ریاضت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہوگا اور تکبر، عناد، حسد، بغض کینہ، شراب نوشی، زناکاری اور رشتہ داروں سے قطع تعلقی کو ختم کرنے ہوئے سچے دل سے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی پیشانی کو جھکاتے ہوئے انتہائی خشوع و خضوع، عاجزی و انکساری کے ساتھ گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش و مغفرت، جہنم سے پناہ اور جنت الفردوس کے لیے دعا ئیں کرنا ہوں گی۔ اس مبارک رات کو آتش بازی، کھیل تماشے کی نذر کرنا انتہائی بدبختی کی علامت اور ہندوانہ رسومات پر عمل پیرا ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت اور اس کی بے پایاں بخشش و مغفرت سے دور کرنے کے مترادف ہے۔ (مولانا مجیب الرحمن انقلابی)

