حرمین شریفین سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا, سعودیہ بھاری بھر کم سرمایہ کاری پر تیار

اسلام آباد:سعودی عرب کی معروف توانائی کمپنی وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ (سابقہ شیل کمپنی )نے پیر کو پاکستان میں آئندہ دو سے تین سال کے دوران 100 ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اشارہ دیا ہے۔
اس سرمایہ کاری کا مقصد ملک میں اپنے ریٹیل نیٹ ورک کو پھیلانا اور اسٹوریج کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے جس میں نیٹ ورک کی توسیع، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
یہ پیشرفت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے وفد کے درمیان ہونے والے ایک اعلی سطح اجلاس کے دوران سامنے آئی۔
اجلاس فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا جس میں وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے وفد کی قیادت جاوید اختر (چیف فنانس آفیسر، اسید گروپ و بورڈ ممبر، وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ) نے کی جبکہ وفد میں زبیر شیخ (چیف ایگزیکٹو آفیسر) اور ضرار محمود (چیف فنانس آفیسر، وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ) بھی شامل تھے۔
اجلاس نے کمپنی کے موجودہ آپریشنز، مستقبل کی سرمایہ کاری کے امکانات اور آئل مارکیٹنگ و توانائی شعبے سے متعلقہ امور کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا۔
وفد نے محمد اورنگزیب کو ملک میں وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے موجودہ آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ کمپنی ملک گیر سطح پر ایک وسیع ریٹیل نیٹ ورک چلا رہی ہے، جسے جدید کاری اور کارکردگی میں جاری سرمایہ کاری کے ذریعے سپورٹ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ بہتر میکرو اکنامک حالات اور آپریٹنگ ماحول میں زیادہ پیش گوئی کی صلاحیت نے کمپنی کو حالیہ کاروباری انضمام کے بعد سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے اور بڑھانے کے قابل بنایا ہے۔
وفد نے مزید آگاہ کیا کہ وافی انرجی پاکستان کی آئندہ سرمایہ کاری کا مقصد سپلائی کی لچک کو مضبوط بنانا، سروس کے معیار کو بہتر بنانا اور پاکستان میں توانائی کے شعبے کی طویل مدتی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ وفد نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ اپنی وسیع تر جدید کاری کی حکمت عملی کے تحت اپنے آپریشنز میں پہلے ہی نمایاں ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات کر چکی ہے جو کہ شفافیت، کارکردگی اور ریگولیٹری تعمیل (قوانین کی پاسداری) کے لیے کمپنی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، وفد نے بعض مالیاتی اور ٹیکسوں سے متعلقہ معاملات کی طرف توجہ دلائی اور کاروباری منصوبہ بندی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے ایک واضح، مستقل اور قابلِ پیش گوئی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے مزید مشاہدہ کیا کہ حکومتی پالیسیوں کو وسیع تر سرمایہ کاری اور اصلاحاتی اہداف کے مطابق ڈھالنے کے لیے حکومت اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت فائدہ مند ثابت ہوگی۔