طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ رات کے کھانے کا وقت صحت کے لیے کھانے کی مقدار سے بھی زیادہ اہم ہے۔
رات دیر سے ڈنر کرنا نہ صرف نیند کو متاثر کرتا ہے بلکہ شوگر، وزن اور ہارمونز پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ ماہرین برائے امراضِ معدہ (گیسٹرو انٹرولوجسٹس) کے مطابق دیر سے کھانا کھانے سے جسم میں انسولین کی حساسیت 40 سے 50 فیصد تک کم ہوجاتی ہے، چربی جلنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے اور نیند کے ہارمون میلاٹونن کے ساتھ نظامِ ہاضمے کا ٹکراو پیدا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غروبِ آفتاب کے بعد میلاٹونن قدرتی طور پر بڑھنے لگتا ہے جبکہ انسولین کی کارکردگی کمزور ہوجاتی ہے، اس وقت کھانا کھانے سے جسم مرمت اور ڈیٹاکس کے بجائے غذا ہضم کرنے میں مصروف رہتا ہے جس کے نتیجے میں لوگ صبح اٹھ کر بھاری پن، اپھارہ اور تھکن محسوس کرتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق جو افراد شام 7 بجے سے پہلے ڈنر کر لیتے ہیں اُن میں رات کے وقت شوگر لیول 15 فیصد کم ہوتا ہے، انسولین کی حساسیت بہتر رہتی ہے اور نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں :
امرود کے بارے میں وہ سب کچھ جو آپ جان کر حیرت میں ڈوب جائیں گے
تحقیق کے دوران یہ فوائد اس وقت بھی دیکھے گئے جب کیلوریز کی مقدار ایک جیسی تھی۔ طبی ماہرین کے مطابق شام 7 بجے سے پہلے ڈنر کر لینے کے نتیجے میں شوگر متوازن اور نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ رات ساڑھے 9بجے ڈنر کرنے کے سبب جسم میں شوگر کی مقدار زیادہ اور جسمانی مرمت سست پڑ جاتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس، پری ڈائیبیٹس اور فیٹی لیور کے مریضوں میں دیر سے کھانے کے بعد شوگر لیول 30 سے 50 فیصد تک زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے رات کا کھانا جَلد کھا لینے سے ہارمونز اور شوگر کنٹرول میں رہنے میں مدد ملتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقل طور پر رات کا کھانا دیر سے کھانا ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔

