تہران/واشنگٹن: ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشقیں رواں ماہ منعقد کی جائیں گی جن میں تینوں ممالک کی بحری افواج حصہ لیں گی۔
ان بحری مشقوں کو میری ٹائم سیکورٹی بیلٹ کا نام دیا گیا ہے۔ مشقوں میں ایرانی بحریہ، پاسدارانِ انقلاب کی بحری یونٹس، چین اور روس کی بحری افواج شریک ہوں گی۔رپورٹ کے مطابق ان مشقوں کا مقصد سمندری سلامتی کو مضبوط بنانا، کسی بھی ممکنہ خطرے یا حملے سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرنا اور تینوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکا اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو نہیں بتاتا، ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا اور کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں ۔ ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے پہلے بھی مذاکرات ناکام ہوئے تو ہمیں جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا پڑا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ایران مذاکرات کرے اور ہم دیکھیں گے کہ کیا کیا جاسکتا ہے ورنہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگی جہازوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔
دریں اثنائایران نے موجودہ تنا ئوکے ماحول میں امریکا کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھنے کی تصدیق کردی۔یہ بات ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ جنگی فضا کے برخلاف امریکا کے ساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگی بیانیے کے شور کے باوجود مذاکراتی عمل کے لیے عملی انتظامات آگے بڑھ رہے اور مذاکرات کے لیے ساختی انتظامات میں پیش رفت جاری ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امن و استحکام کے محافظ ہیں۔امریکی سینٹرل کمان کے ایرانی فوج سے متعلق مطالبے کے ردعمل میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری اپنے بیان کہا کہ سینٹرل کمان نے ایسی فوج سے پیشہ ورانہ رویہ کا مطالبہ کیا جسے امریکا نے دہشت گرد قرار دیا۔
علاوہ ازیںایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اب یورپی یونین کی تمام افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کرتا ہے۔ یہ بیان یورپی یونین کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کو دہشت گرد قرار دئیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق محمد باقر قالیباف جو خود بھی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں کا یہ اعلان غالباً علامتی نوعیت کا ہے۔قالیباف نے یہ اعلان اس وقت کیا جب وہ اور دیگر اراکینِ پارلیمنٹ اسلامی انقلابی گارڈز کی حمایت میں اس کی وردیاں پہنے ہوئے تھے۔
ادھرایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ علاقائی ہو گی۔ایرانی نشریاتی ادارے (آئی ایس آئی ایس)کے مطابق خامنہ ای لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے خطاب کر رہے تھے۔
خامنہ ای نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ہوائی جہازوں اور بحری بیڑوں وغیرہ کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ماضی میں، امریکیوں نے اپنی تقریروں میں بارہا دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے آپشن سمیت تمام آپشن میز پر ہیں۔
انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ اب یہ شریف آدمی(ٹرمپ) بھی مسلسل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم جنگی جہاز لائے ہیں اور ایرانی قوم کو ان باتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، ایرانی عوام ان دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوئے۔
خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جنگ شروع کرنے والا نہیں ہے اور اس کا کسی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن ایرانی قوم ہر اس شخص کے خلاف سخت ضرب لگائے گی جو اس پر حملہ کرے گا اور اسے ہراساں کرے گا۔

