قابض بھارتی فورسز نے6سال میں45 بچوں سمیت ایک ہزارکشمیری شہید کردیے

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتیہ جنتاپارٹی کی بھارتی حکومت کی طرف سے اگست 2019ء کو 370اور35اے کی دفعات کی غیر قانونی منسوخی کے بعد سے اب تک بھارتی فورسز نے22خواتین اور45 بچوں سمیت ایک ہزار 50کشمیریوں کو شہید کیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ان میں سے 287افراد کو دوران حراست اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران جعلی مقابلوںمیں شہید کیا گیا۔ معروف حریت رہنمائوں سید علی گیلانی ، محمد اشرف صحرائی، الطاف احمد شاہ اور غلام محمد بھی دوران حراست شہادت کے مرتبے پر فائز ہو ئے۔

رپورٹ میںکہا گیا کہ بھارتی فورسز نے پرامن مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے 2ہزار 660کشمیریوںکو زخمی کیا جبکہ اس عرصے کے دران حریت رہنمائوں ، طلباء ، صحافیوں ، علماء اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت33ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا- گرفتار کیے گئے افراد میں سے بیشتر کے خلاف ”پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے” جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔

بھارتی فورسز نے اس دوران ایک ہزار168گھرو ںاور دیگر ڈھانچوںکو تباہ کیا اور 139 خواتین کی بے حرمتی کی۔دریں اثنا،جموں خطے کے ضلع کشتواڑ میں بھارتی فورسز کا تلاشی آپریشن 15ویں روز بھی جاری رہا۔ ضلع کی چھاترو پٹی میں جاری آپریشن میں ہیلی کاپٹروں ، ڈرون کیمروں اور سراغ رساں کتوں کا بھی استعمال کیاجا رہا ہے۔ آپریشن کی وجہ سے مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بے گناہ کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل ، بلا جواز گرفتاریوں ،، تشدد ،املاک کی ضبطی ،کشمیری ملازمین کی برطرفی اور جبر و استبدادکے دیگر ہتھکنڈ ے نوآبادیاتی بھارتی پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی کے خاتمے اورتنازعہ کشمیر کے حل کیلئے کرے۔

بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) کی جموں میں قائم ایک عدالت نے آگرہ جیل میں بند کشمیری نوجوان جان محمد تیلی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔