افغان طالبان کے بارے میں تو زیادہ کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ بنیادی باتیں ہر کوئی جانتا ہے کہ روس کی افغانستان سے واپسی کے بعد افغان مجاہدین گروپوں میں 4سال تک خانہ جنگی چلتی رہی۔ احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یار گروپ ایک دوسرے سے نبردآزما رہے۔ کابل کے دونوں اطراف ان کے دھڑے ڈیرے ڈال کر بیٹھے تھے۔ ایک دوسرے پر راکٹ برساتے، گولیاں چلاتے رہتے۔ ملک میں مرکزی حکومت نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ مختلف وار لارڈز کا سکہ چلتا تھا، ہر ضلع، دوسرے صوبے میں الگ وار لارڈ تھا جو بدمعاشی اور لوٹ مار کا بازار گرم کرتا۔ یہ صورتحال انتہا تک پہنچ گئی جب قندھار میں بعض وارلارڈز نے علانیہ لڑکوں سے شادیاں کرنا شروع کر دیں۔ اس پر مدارس کے کچھ طلبہ نے دینی غیرت کے پیش نظر ایک نوجوان مولوی، ملا عمر کی زیرقیادت تحریک شروع کی۔ طالبان کے نام سے اس گروہ کو ابتدائی کامیابیاں ملیں۔ یہ گروپ تب پاکستانی اداروں کی نظر میں آگیا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی، جنرل ریٹائر نصیراللہ بابر ان کے وزیرداخلہ تھے، انہوں نے طالبان کی سرپرستی اور حمایت کی۔ وہ بعد میں انہیں اپنے بچے بھی قرار دیتے تھے۔
افغان طالبان کی کامیابی کی اصل وجہ مگر عوام کا خانہ جنگی اور مسلسل لڑائیوں سے بیزار ہوجانا تھا۔ ہر جگہ لوگ ان کے ساتھ ملتے گئے، نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے گروپوں کے جنگجو بھی طالبان کے ساتھ جا ملے۔ میں اس سے انکار نہیں کرتا کہ کچھ نادیدہ ہاتھ بھی کارفرما تھے۔ نتیجہ بہرحال یہ نکلا کہ افغان طالبان کی ملک کے بڑے حصے پر حکومت قائم ہوگئی۔ ملا عمر اس کے سربراہ ہوگئے۔ ان پر لاکھ تنقید کی جائے مگر بہرحال دو باتوں کا ہر کوئی اعتراف کرتا ہے، ملا عمر کی دیانت اور کریڈیبلٹی کا۔ اس درویش طبع شخص نے افغانستان سے منشیات کی پیداوار غیرمعمولی حد تک کم کر کے لگ بھگ صفر کر دی۔ اسلحہ لوگوں اور گروہوں سے لے لیا اور پورے ملک میں زبردست امن قائم کر دیا۔
ملا عمر کا پاکستان سے بہت اچھا تعلق تھا۔ ان کے پورے دور حکومت میں پاک افغان بارڈر پرسکون اور پرامن رہی۔ ملا عمر کا ایک خط بھی مشہور ہوا جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کرنے والے جہادی تنظیموں کے نام لکھا، اس میں ان کی حمایت کی اور اپنی سپورٹ کی یقین دہانی بھی۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر آج ملا عمر زندہ ہوتے تو وہ اپنی جگہ پر آج اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان سخت گیر، بے لچک، بے لحاظ ملا ہبت اللہ اخونزادہ سے سخت ناراض اور شاکی ہوتے۔
ملا عمر ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروپ کو بھی کبھی سپورٹ نہ کرتے۔ ان کے 5سالہ دور حکومت میں پاکستان کے خلاف ایک بھی کارروائی نہیں ہوئی۔ افغان سرزمین پاکستان کے لیے محفوظ اور پرامن رہی۔ آج جو ہو رہا ہے یہ ملا عمر کے نظریے اور سوچ ہی کے خلاف تھا۔ افسوس آج افغان طالبان اپنے بانی کی فکر کے مخالف چل نکلے ہیں۔
افغان طالبان: نائن الیون کے بعد
نائن الیون ہونے دینا ملا عمر کی سنگین غلطی تھی۔ وہ القاعدہ اور عرب جنگجووں کو سختی سے کنٹرول نہ کر سکے، ان سے رعایت برتی۔ بعد ازاں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق نائن الیون حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد تھا، جبکہ یہ بھی بعید نہیں کہ ملا عمر کو اس سازش کی مکمل تفصیلات کا علم نہ ہو۔ خیر دنیا کو ہلا دینے والے اس واقعے کے بعد افغانستان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ افغان طالبان کی حکومت چلی گئی، انہیں بڑا بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ اگلے 20سال ان کے عسکری جدوجہد میں گزرے۔ کاش یہ نہ ہوا ہوتا تو شاید اس خطے کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ پاکستان اور افغانستان تب مل کر نہ صرف خطے کو پرامن رکھتے بلکہ افغانستان کے گلی کوچوں میں بھی ترقی اور خوشحالی کے خوش رنگ پرندے اترتے۔
نائن الیون کے بعد پاکستان نے ایک کوشش کی کہ کسی طرح ماڈریٹ طالبان کے نام پر افغان طالبان کا ایک دھڑا (خود ملا عمر کی منظوری سے) الگ کیا جائے جو بدستور کابل میں حکمران رہے اور القاعدہ کو الگ کر دیا جائے، کسی نہ کسی طرح کچھ بچت ہوجائے۔ یہ کوشش کیوں کامیاب نہ ہوسکی، یہ ایک الگ داستان ہے۔ شاید افغان طالبان اتنے چالاک اور ہوشیار نہ تھے کہ یہ سوانگ رچا سکتے۔ اس وقت کے سی آئی اے اسٹیشن چیف ولیم گرینئر کی کتاب ایٹی ایٹ ڈیز ٹو قندھار یعنی قندھار کے لیے 88روز میں پوری تفصیل موجود ہے۔ 88روز دراصل وہ مدت ہے جس میں نائن الیون سے لے کر افغانستان پر حملہ ہونے تک کا عرصہ آتا ہے۔
امریکا کے خلاف مزاحمت
افغان طالبان نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ امریکی حملوں میں اپنا زیادہ جانی نقصان کرانے کی بجائے علاقے چھوڑ دیں اور تحلیل (Melt)ہو جائیں۔ یہ حکمت عملی درست تھی۔ امریکا جیسی قوت سے لڑنے کیلئے گوریلا تحریک ہی مناسب راستہ تھا۔ ابتدائی چند ماہ یا سال ڈیڑھ گزرنے کے بعد افغان طالبان نے مزاحمت شروع کی۔ اس دوران حامد کرزئی کی حکومت افغانستان پر قائم کرا دی گئی تھی۔ ناقص گورننس، بے پناہ کرپشن اور نالائق لیڈرشپ نے افغانستان میں لوگوں کو مایوس کرنا شروع کر دیا۔ دوسری بڑی غلطی امریکیوں سے یہ ہوئی کہ انہوں نے افغانستان کے روایتی اسٹرکچر میں تاریخی اعتبار سے چلے آئے پشتون غلبے کو نظرانداز کرتے ہوئے تاجک، ہزارہ، ازبک آبادی کو زیادہ اہمیت اور زیادہ اسپیس دی۔ کہنے کو تو حامد کرزئی پشتون تھا، کچھ وزرا بھی مگر کرزئی کے 10سال سے زیادہ دور حکومت میں پشتون پس پشت چلے گئے، جس کا شدید ردعمل ہوا اور وہ افغان طالبان کے حق میں گیا جو پشتون ہی تھے۔
کیا طالبان کی مزاحمت میں پاکستان کا کردار تھا؟
یہ اس کہانی کا سب سے اہم حصہ ہے۔ درحقیقت افغان طالبان کی امریکا کے خلاف مزاحمت پاکستان کی درپردہ حمایت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ دنیا کی کوئی بھی گوریلا تحریک کسی ہمسایہ ملک کی سپورٹ کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ بات کامن سینس کی ہے۔ ہر لڑنے والے کو کچھ چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مسلسل پہاڑوں پر نہیں لڑا جا سکتا۔ لوگ جنگ میں زخمی بھی ہوتے ہیں جنہیں علاج کی ضرورت پڑتی ہے، بہت سوں کے زخم ایسے گہرے ہوتے ہیں کہ جدید ترین طبی سہولتوں کے بغیر علاج نہیں ہو سکتا۔ کچھ معذور بھی ہوجاتے ہیں انہیں مصنوعی اعضا لگوانے پڑتے۔ پھر ان جنگجووں کے اہل خانہ بھی ہوتے ہیں۔ بیوی بچے، بہن بھائی۔ جنہیں کوئی محفوظ ٹھکانا چاہیے ہوتا ہے، دشمن کی رسائی سے دور۔ یہ جنگجو چند ماہ تک لڑتے ہیں، پھر جنگ میں وقفے آ جاتے ہیں۔ خاص کر افغانستان جیسے علاقے میں جہاں کئی جگہوں پر شدید سردی پڑتی ہے، منفی درجہ حرارت ہو جاتا ہے۔ شدید برف باری ہوتی ہے، سڑکوں پر برف کی وجہ سے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ دسمبر سے مارچ تک کے تین چار مہینے افغانستان میں جنگ بند رہتی۔ طالبان ہر سال تازہ دم ہو کر، ازسرنو منظم ہو کر اپریل سے اپنے شدید حملے شروع کرتے۔ اسی وجہ سے اسپرنگ افینسو (موسم بہار کے حملوں)کی ماڈرن جنگی اصطلاح امریکی ماہرین استعمال کرتے۔ نیٹ پر بے شمار تجزیے اس حوالے سے ملیں گے۔
سوال یہ ہے کہ ہزارہا طالبان جنگجو جو 20سال تک امریکا سے لڑتے رہے، ان میں بارہ چودہ سال تک تو شدید ترین جنگ تھی، اس سب عرصے میں انہوں نے کہاں پناہ لی؟ افغانستان میں تو یہ رہ نہیں سکتے تھے کہ چپے چپے پر کرزئی حکومت اور امریکیوں کے جاسوس موجود تھے۔ بہت سے طالبان لیڈروں اور کمانڈروں کے سر کی قیمت کئی کئی ملین بلکہ کروڑوں میں مقرر تھی۔ ان کی تو فوری مخبری ہوجاتی، یہ سب پکڑے جاتے اور تحریک ابتدا ہی میں دم توڑ جاتی۔ (جاری ہے)

