مدرسہ اشرف العلوم چنیوٹ میں تکمیلِ حفظ و دستاربندی کی روح پرور تقریب

یوں تو چنیوٹ شہر اور اس کے گرد و نواح میں بیسیوں مدارس قائم ہیں جو اپنی اپنی بساط کے مطابق خدمت دین کا کام کررہے ہیں اور ان میں سے چند مدارس ایسے بھی ہیں جو ملکی سطح پراپنی پہچان رکھتے ہیں۔انہیں مدارس میں سے ایک مدرسہ ایسا بھی ہے جسے اُم المدارس کہا جاسکتا ہے۔
جی ہاں مدرسہ اشرف العلوم ایک ایسا مدرسہ ہے کہ جہاں سے فارغ التحصیل نامور افراد اس وقت ملک بھرمیں زندگی کے مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اوراس مدرسہ سے علم کا فیض حاصل کرنے والے بیسیوں علماء و قراء حضرات مختلف مدارس قائم کرکے قرآن و حدیث کے علوم بانٹ رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد جب ہندوستان سے ہجرت ہوئی تو دیگرعلاقوں کی طرح چنیوٹ میں بھی مہاجرین کی بہت بڑی تعدادبسائی گئی ،جن میں دیندار گھرانوں کی اکثریت تھی۔ انہوں نے نہ صرف دیگرضروریات زندگی اور معاشی سرگرمیاں معمول پرلانے کے لیے جدوجہد اور سخت محنت کی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کی تعلیم پربھی خصوصی توجہ مرکوز کی۔ نامساعد حالات کے باوجود دینی تعلیم کو بھی ایک اہم ضرورت کے طور پر دیکھا گیا اوراس کے پیش نظر مدرسہ کاقیام عمل میں لایا گیا۔
مزید پڑھیں : 
شیخ سلیم اللہ خان، علم و کردار کا مینارِ نور
شعبان 1370ھ  بمطابق مئی 1951ء میں مدرسہ اشرف العلوم وجود میں آیا۔ مایہ نازقاری قرآن جناب قاری عبدالرحیم پانی پتی رحمہ اللہ نے تہجد کے وقت اس مدرسے کی بنیاد رکھی اور قاری فتح محمد رحمہ اللہ کے مشورے سے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے نام پر مدرسے کا نام ’اشرف العلوم‘ رکھاگیا۔ اس ادارہ کے بانی جناب چوہدری محمد ابراہیم (سابق کونسلر بلدیہ چنیوٹ) ہیں اور اس کے پہلے مدرس ولی کامل قاری دین محمد صاحب رحمہ اللہ کے والد گرامی حضرت مولانا قاری عبدالرحیم پانی پتی رحمہ اللہ ہیں۔ بعدازاں اس مدرسہ میں نامور مدرسین جن میں حافظ جان محمد، حافظ بشارت رحمہ اللہ، حافظ احمد حسن رحمہ اللہ، مولانا قاری محمد حنیف پانی پتی رحمہ اللہ، مفتی عبیداللہ انور رحمہ اللہ سمیت دیگرشامل ہیں، اپنے اپنے وقت میںبطورمدرس خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اس عظیم اورقدیم درسگاہ سے فیض پانے والے حضرات میں قاری دین محمد رحمہ اللہ ،قاری گلزار احمد صاحب ، حافظ نصیر احمد صاحب ،قاری عبد الحمید حامد صاحب، مولانا محمد الیاس چنیوٹی صاحب اوران کے چھوٹے بھائی مولانا محمد ادریس چنیوٹی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔
پچھلے 75 سال سے خدمتِ دین کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اپنے محدود وسائل کے ساتھ یہ سرچشمہ علم طلباء میں علوم دینیہ بانٹ رہا ہے۔ امسال مورخہ 22 جنوری بروز جمعرات بعد نماز ظہر مدرسہ کی سالانہ تقریب دستاربندی کا انعقاد ہوا، جس میں مختلف شعبہ جات کے50 سے زائد طلباء کی دستاربندی کی گئی جن میں ناظرہ قرآن کریم، درجہ حفظ، گردان اور دراسات کے طلباء بھی شامل ہیں۔ اس تقریب میں شہربھر سے بیسیوں علماء کرام اور نامور شخصیات نے شرکت کی اور فارغ ہونے والے طلباء کرام کی حوصلہ افزائی کرنے کا شرف حاصل کیا۔ تقریب میں کثیر تعداد میں ملک بھر کے اور مقامی علماء و قراءکرام نے شرکت کی۔ بحمداللہ راقم الحروف کو بھی شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ تقریب مسجد کے وسیع ہال میں ہوئی۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ یہ تقریب سادہ مگر پُروقار اور شاندار تقریب تھی جس میں شہر بھر کے مذہبی طبقہ کی بھرپور شرکت تھی۔
مزید پڑھیں : 
ادارہ علوم اسلامی، ایک ادارہ ایک تحریک!
حقیقت یہ ہے کہ اس تقریب سے ان لوگوں کاموقف کمزرہوااورانہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جو علماء کرام میں اختلافات کو ہوا دینے میںمگن رہتے ہیں۔ یہ تقریب چنیوٹ کے مذہبی طبقے کے اتحاد و یگانگت کا ایک عالیشان مظہرثابت ہوئی اوروہ ہرصاحب درد دل و نظر جو علماء کرام میں باہم محبت و اخوت کے خواہاں رہتے ہیں، اس تقریب سے خوش ہوئے اور انہیں دلی اطمینان نصیب ہوا۔
مدرسہ اشرف العلوم میں اس وقت 60 طالب علم مقیم ہیں۔ مدرسہ کی چار شاخیں ہیں جن میں طلباء و طالبات کی مجموعی تعداد 600 سے زائد ہے۔ مدرسہ کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی محمد افضال کی نگرانی میںقاری ابوذرغفاری، مولانا قاری محمد انس، قاری علی حیدر، مولانا محمدافضل، مفتی بلال اخلاق، مولانا عبدالواحد، مولانا قاری عبدالولی اور قاری عبید اللہ رحیمی صاحبان خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ دعاہے کہ یہ چمن یوں نہیں مہکتا رہے اور دین کی خدمات میںمگن رہے۔ اللہ تعالیٰ تمام معاونین، مدرسین، منتظمین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین! (اعجازاحمدقاسمی)