نوجوانوں کی خودکشیاں اور ہمارا تعلیمی نظام

یونیورسٹی آف لاہور میں گزشتہ کچھ عرصے میں پیش آنے والے خودکشی کے دو پے در پے واقعات نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض خبروں کی سرخیاں نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہیں جس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیا اور والدین میں ایک انجانے خوف کو جنم دیا ہے۔
وہ والدین جن کے بیٹے اور بیٹیاں کسی بھی یونیورسٹی یا ادارے میں زیرِ تعلیم ہیں، آج ہر لمحہ یہ سوچ کر زندگی گزارتے ہیں کہ کہیں ان کے بچے کسی خوفناک واقعے کا شکار نہ ہوجائیں۔ تعلیم گاہوں کو خوابوں کی نرسری کہا جاتا ہے۔ ایسی جگہ جہاں والدین اپنی محنت، دعائیں اور امیدیں بو دیتے ہیں کہ یہاں سے علم، شعور اور شخصیت پروان چڑھے گی۔ لیکن عصری اور دینی تعلیمی اداروں کے تقابل سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مدارس معاشرے کی ضرورت کے مطابق متوازن اور اخلاقی طلبہ تیار کررہے ہیں، جنہیں جدید علوم، ٹیکنالوجی اور اخلاقیات کے ساتھ آگاہ کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس کے باوجود بھی اِن مدارس پر تعصب و تنگ نظری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب وہ ادارے جنہیں ہم روشن خیال اور جدید سمجھتے ہیں وہاں صورتحال بہت مختلف ہے۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ دباو، فیس کے مسائل، نمبر اور جی پی اے کی دوڑ میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ زندگی کی اصل قدر اور معنی نظر نہیں آتے۔ یونیورسٹی آف لاہور میں پچھلے دس دنوں میں پیش آنے والے دو واقعات اسی تضاد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طالب علم نے زندگی کی بازی ہار دی جبکہ ایک طالبہ ہسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔یہ طالبہ یونیورسٹی پہنچی، کلاس میں داخل نہیں ہوئی اور عمارت کی منڈیر پر کھڑی ہو کر ستائیس منٹ تک کسی سے فون پر بات کی، پھر اسی کال کا ریکارڈ خود ہی مٹا دیا۔ اس نے اپنے والد اور بھائی کے سامنے اپنے گزشتہ ٹیسٹ کے کم نمبر رکھنے کا بوجھ رکھا، لیکن شاید نظام کی سختی اور دباو کے سامنے وہ اپنے احساسات بیان نہ کر سکی۔ اب وہ ہسپتال میں دماغ پر چوٹ، کمر اور گھٹنوں میں فریکچر کے ساتھ زندگی کی بازی لڑرہی ہے۔
یہ المیہ محض ذاتی یا جذباتی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے تعلیمی نظام کے فرسودہ ڈھانچے کی عکاسی ہے۔ سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازیں بتاتی ہیں کہ کئی یونیورسٹیاں طلبہ کو کم فیس کے خواب دکھا کر داخلہ دیتی ہیں اور پھر جان بوجھ کر انہیں ناکامی اور قرض، شرمندگی اور ذہنی دباو میں دھکیل دیتی ہیں۔ طالب علم صرف رول نمبر یا پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک انسان ہے جس کے خواب، جذبات اور مستقبل کی قدر ہونی چاہیے۔ تعلیمی دباو، فی سلپس کا بوجھ، نمبر لینے کا بوجھ، والدین کی امیدوں اور اساتذہ کی توقعات کے بوجھ کے نیچے نوجوان پستہ پستہ ٹوٹ جاتے ہیں۔ کبھی وہ کسی منڈیر سے کود جاتے ہیں، کبھی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور کبھی ہسپتال کے بستر پر موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنے نوجوانوں کو اس دباو سے نکالنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا تعلیمی نظام بدلنا ہوگا۔ تعلیمی ادارے صرف مشین سازی کے لیے نہیں بلکہ انسان سازی کے لیے ہونے چاہییں۔ اساتذہ، نصاب اور اداروں میں اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ طلبہ کے روشن مستقبل کے خواب پورے ہوسکیں اور والدین کی دعائیں ضائع نہ جائیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر غور کرنا ہوگا، نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں تعلیم دباو کا بوجھ نہ بنے بلکہ علم، شعور اور روشن مستقبل کی ضامن بنے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر نوجوانوں کے لیے ایسے حالات پیدا کریں جہاں خواب دم توڑنے کے بجائے تعبیر پائیں اور تعلیم حقیقی معنوں میں انسان سازی کا ذریعہ بنے۔ (محمد اویس رسول ۔ جامعہ خیرالمدارس ملتان )