دینی مدارس میں آج بھی یہ بہار دیکھنے کو ملتی ہے کہ وہاں دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے والے طلبہ اپنے اساتذہ کرام سے دل و جان ے محبت کرتے ہیں، کیونکہ
ہماری درس گاہوں میں جو یہ اُستاد ہوتے ہیں
حقیقت میں یہ ہی تو قوم کی بنیاد ہوتے ہیں
پھر اگر وہ مدرسہ جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون ہو اور استاد بھی حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب….تو طلبہ ایسے استاد و مربی پر کیوں نہ جان نچھاور کریں کہ …. ’استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا‘۔ آج ہمارے ہر دل عزیز استاد حضرت قاری مفتاح اللہ صاحب رحمہ اللہ ہم سے دور ہی نہیں بلکہ بہت دور چلے گئے۔ 20جنوری 2026ء کی صبح بلبل جامعہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔ بس استاد محترم کی اب یادیں باقی رہ گئیں۔ استاد محترم جامعة العلوم الاسلامیہ کے قدیم ترین اساتذہ میں سے تھے۔ میں نے جب 1998ء میں درجہ رابعہ میں ملک کی عظیم دینی درسگاہ جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون کراچی میں داخلہ لیا تو استاد جی ہماری کلاس میں صبح کے دوسرے گھنٹہ میں مقامات حریری پڑھاتے تھے۔ استاد جی کا اشعار پڑھنے کا انداز بہت ہی دلنشیں تھا، کتاب میں جتنے بھی اشعار ہیں استاد جی ہر ہر شعر کو ترنم کے ساتھ پڑھتے، ساتھ ہی اُستاد جی کی سریلی آواز ان اشعار میں عجیب چاشنی پیدا کر دیتی، جیسا کہ برسات کے موسم میں قوس قزح کے رنگ فضا میں رنگینی بکھیر دیتے ہیں۔
اُستاد محترم سے میں جب بھی ملاقات کے لیے گلشن عمر سہراب گوٹھ (شاخ جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون) جاتا وہ مسجد میں نماز کے بعد دیر تک ذکر و اذکار میں مشغول رہتے۔ مہمانوں اور ملاقات کے لئے آنے والوں میں سے ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آتے اور ہر ایک کا اکرام وتواضع چائے اور بسکٹ سے فرماتے۔ اُستاد جی وہیں گلشن عمر میں اکثر عشاءاور جمعہ کی نماز کے بعد طلبہ و دیگر حاضرین کے ساتھ مجلس بھی لگاتے اور اس مجلس کو قرات، نعتیں، نظم و اشعار سے معطر فرماتے۔ اُستاد محترم حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب رحمہ اللہ بے شک اِس دور کے ’خاموش ولی‘ تھے۔ استاد جی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص انعام یہ تھا کہ آپ ’مستجاب الدعوات‘ تھے۔ ساتھ ہی خواب کی تعبیر کے فن سے بھی آپ کو بے انتہا مناسبت تھی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آپ اس دور میں خوابوں کی تعبیر کے ماہر تھے تو بے جا اور غلط نہ ہوگا۔ خود میں نے کئی بار استاد جی سے خوابوں کی تعبیر پوچھی اور استاد جی کی بتائی ہوئی تعبیر اپنے وقت پر ظاہر بھی ہوئی۔
اُستاد جی نے اُصول تعبیر سے متعلق ایک مرتبہ میرے استفسار پر ایک جملہ ارشاد فرمایا کہ ’برے خواب کی تعبیر اچھی تو ہو سکتی ہے لیکن اچھے خواب کی تعبیر بری نہیں ہو سکتی‘۔ استاد جی نے سنہ 2002ء میں سب سے پہلے ہماری ہی کلاس کو طحاوی شریف پڑھائی اور اس کے بعد سے آخری وقت یعنی پورے چوبیس سال تک جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاو¿ن کے دورہ حدیث شعبہ بنین میں متواتر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا درس دے کر تشنگانِ علوم نبوی کو سیراب کرتے رہے۔ آپ پچھلے کئی سالوں سے جامعہ بنوری ٹاون میں بخاری شریف پڑھا رہے تھے۔ یوں اپنی زندگی کے آخری دور میں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے منصب جلیل پر فائز رہے، جس کا ذکر استاد جی نے 7 جنوری 2026ء کو آپ سے ہوئی میری آخری ملاقات میں بھی فرمایا
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
استاد محترم حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب رحمہ اللہ کا ایک خاص وصف مزاح بھی تھا، آپ ایک باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ اگرچہ اپنے متعلقین کے ساتھ پر مزاح گفتگو ضرور فرماتے تھے مگر بایں ہمہ کبھی بھی آپ کی گفتگو کسی کے لیے باعث تکلیف نہ ہوتی تھی۔ اُستاد جی کا سایہ اپنے تمام متعلقین، متوسلین اور تلامذہ کے لئے ایسا تھا جیسا کہ ایک باپ کا سایہ اس کی اولاد کے لئے۔ استادجی کے رخصت ہو جانے سے ہم روحانی طور پر خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں
بجھا چراغ، اٹھی بزم، کھل کے رو اے دل!
وہ سب چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
اُستاد جی سے بارہا ہم نے ان کی سریلی پُرترنم و پُرسوز آواز میں یہ شعر سنا
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
اُستاد جی دنیا سے رخصت ہو گئے اور جاتے جاتے اپنی یادوں کے گہرے نقوش ہمارے دل و دماغ پر چھوڑ گئے۔ (مولانا شعیب احمد فردوس)

