لندن:ہم میں سے اکثر لوگوں کو اس وقت رونا آ جاتا ہے جب ہم غمگین، بے حد دبائو میں یا غصے ہوں۔ یہی نہیں بلکہ بعض اوقات تو کئی لوگ خوشی میں بھی رو پڑتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان واحد جاندار ہے جن کے بارے میں یہ علم موجود ہے کہ وہ جذبات کے زیر اثر آنسو بہاتے ہیں؟۔اگرچہ بہت سے دیگر جانور پیدائش کے بعد بلند آواز میں روتے ہیں تاکہ اپنی تکلیف کا اشارہ دے سکیں لیکن ان کے دماغ میں ایسے راستے موجود نہیں دکھائی دیتے جو پیچیدہ جذبات کے جواب میں ان کی آنکھوں سے آنسو رواں کر سکیں۔
سائنس دان یہ تو جان گئے ہیں کہ آنسو کس طرح کام کرتے ہیں لیکن انسان کیوں روتے ہیں اور جذبات میں آنسو کیوں بہنے لگتے ہیں یہ اب بھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا۔
سوئٹزرلینڈ کے انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن بایولوجی میں پوسٹ ڈاکٹورل فیلو ڈاکٹر میری بانیئرہیلاویٹ نے اس کی وضاحت میں بتایا ہے کہ آنکھوں کے آنسو پانچ اجزا پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں میوکس، الیکٹرولائٹس، پانی، پروٹین اور لپڈز شامل ہیں۔
ڈاکٹر میری نے بتایا کہ ان سب کی خصوصیات مختلف ہیں۔مثال کے طور پر پروٹین وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف کام کرتے ہیں جبکہ الیکٹرولائٹس وہ معدنیات ہیں جو جسمانی افعال کے لیے ضروری ہیں۔ان کے مطابق آنکھوں میں اتر آنے والے آنسوئوں کی تین اقسام ہیں۔
ڈاکٹر بانیئرہیلاویٹ کے مطابق یہ خلیے درجہ حرارت، جسمانی دبائو اور خشکی کو محسوس کر سکتے ہیں۔اعصابی خلیوں سے آنے والے پیغامات دماغ کے ایک حصے لیکرمل نیوکلئیس تک پہنچتے ہیں۔ یہ حصہ دراصل آنسوئوں کو کنٹرول کرتا ہے اور پھر یہ آنسو غدود کو زیادہ آنسو پیدا کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔
آنکھوں کے آنسوں کی تیسری قسم جذبات میں بہنے والے ہیں اور یہ تب بہتے ہیں جہاں معاملہ زیادہ پیچیدہ ہو جائے۔دماغ کے وہ حصے جو جذبات کو سمجھتے یا کنٹرول کرتے ہیں، آنسو بنانے والے حصے (لیکریمل نیوکلئیس) سے بھی جڑے ہوتے ہیں لیکن یہ تعلق ایک عام حفاظتی ردِعمل کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ راستوں سے ہوتا ہے۔
نیدرلینڈز کی ٹلبرگ یونیورسٹی میں کلینیکل سائیکالوجی کے پروفیسرایڈ ونگرہوٹس کے مطابق رونا اکثر ایک ہی جذبے کے بجائے جذباتی بوجھ کی عکاسی کرتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جذبات شاذ و نادر ہی خالص صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اکثر یہ مختلف جذبات کا امتزاج یا تیز رفتاری سے ایک دوسرے کے بعد دوسری بات کے اثر انداز ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے۔
جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، رونا زیادہ تر ہمدردی سے بھی جڑ جاتا ہے یعنی صرف اپنے دکھ پر نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ اور مصیبت پر بھی رونا آنے لگتا ہے۔بہت سے لوگ رونے کے بعد سکون محسوس کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سائنس دانوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ اثر واقعی ہوتا ہے یا نہیں۔

