لاہور:پنجاب حکومت نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے تمام صوبائی اداروں کیساتھ مشترکہ ایکشن پر اتفاق کر لیاہے،کاؤنٹر ٹیررازم اور ہارڈ دی اسٹیٹ پالیسی کے تحت ریوائزڈ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیاہے۔
نیشنل ایکشن پلان کمیٹی پنجاب کا محکمہ داخلہ میں اجلاس ہوا جس میںپولیس،سی ٹی ڈی،اسپیشل برانچ اورحساس اداروں کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی،اجلاس میں دہشت گر دتنظیموں،سہولت کاروں اور مالی معاونین کیخلاف بلا تفریق کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
پنجاب حکومت نے غیرقانونی اسلحہ،دھماکا خیزمواد اورایل پی جی کے کاروبار کیخلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کر دیاہے، پیٹرول پمپس، گیس ایجنسیوں اور دھماکا خیزمواد کی نقل وحرکت کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ شروع کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا۔
اجلاس میں سیف سٹیز منصوبے کو تمام بڑے شہروں اور اہم شاہراہوں تک توسیع دینے کی منظوری دیدی گئی،موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر جدید کیمروں اور انٹیلی جنس سسٹم کے ذریعے نگرانی،بھکاری مافیا کیخلاف مربوط آپریشنز اور بیرون ملک جانے پر سخت جانچ کا نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
منظم گداگری میں ملوث عناصر کیخلاف ایف آئی اے اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں شروع ہوں گی،اسمگلنگ، منشیات اور پاور تھیفٹ کے نیٹ ورکس توڑنے کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی ،ایکسائز، کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس اور پولیس کو مشترکہ ڈیٹا شیئرنگ کی ہدایت کردی گئی۔
انڈس دریا پر قائم پلوں پر ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام پر عملی کام شروع کرنے کابھی فیصلہ کیا گیا۔ غیرملکی شہریوں خصوصاً چینی باشندوں کی سیکورٹی کیلئے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کو مزید اختیارات دیدیے گئے۔
تمام سب کمیٹیوں کی سفارشات منظور کرلی گئیں، واضح اہداف اور ٹائم لائنز کے ساتھ عملدرآمد کی ہدایت کر دی گئی،پنجاب حکومت کی جانب سے ریاستی رٹ مضبوط بنانے اور امن و امان یقینی بنانے پر کمیٹیوں کی سفاشات منظور کرلی گئیں۔

