کراچی:ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر قابو پالیا گیا۔ آتشزدگی کے سبب عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا، دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کل 76گمشدہ افراد کا اندراج کیا گیا۔اموات 50سے زاید ہونے کا خدشہ ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوگئے اور موجود افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کر دیا، پہلی منزل پر لاشوں کی تلاشی کا کام مکمل ہوگیا۔دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی جس پر فائر بریگیڈ کی گاڑی نے پھر سے پانی برسانا شروع کردیا۔
چیف آپریٹنگ آفیسر کے مطابق عمارت کا اسٹرکچر شدید حد تک متاثر ہوچکا ہے اور کسی بھی گرنے کا خدشہ ہے، آپریشن مرحلہ وار، محدود اور انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے، متعدد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں تاہم لاشوں کی حتمی تعداد فی الحال بیان نہیں کی جا سکتی، بعض لاشیں مختلف مقامات سے حصوں کی صورت میں ملی ہیں، جب تک تکنیکی اور فرانزک تصدیق کے ذریعے یہ تعین نہیں ہو جاتا کہ یہ اعضا ایک ہی فرد کے ہیں یا مختلف افراد کے، اس وقت تک درست تعداد کی تصدیق مشکل ہے۔
اسی طرح چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ ملبہ کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں، عمارت کا موجودہ حصہ خطرناک ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر مجموعی طور پر 38گھنٹے بعد قابو پایا گیا۔
ڈی آئی جی سائوتھ کا کہنا تھا کہ اب تک 6 لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے جبکہ باقی کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گی، 32 لاپتا افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ ہی معلوم ہوئی ہے، جبکہ باقی لاپتا افراد کا ڈیٹا اینلائز کیلئے حاصل کیا جا رہا ہے۔

