حکومت کا2ارب ڈالرقرض کا ایک حصہ ٹوکنائز کرنیکا منصوبہ

لاہور:وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ2ارب ڈالر مالیت کے ملکی قرضے کے ایک حصے کو ٹوکنائز کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں بانڈ زبھی شامل ہوں گے جس شرح پر بیرونی قرضہ لے رہے ہیں اس کے مقابلے میں پانڈا بانڈز اس سے کم سود لیتا ہے۔

پاکستان میں پہلے ہی بٹ کوائن اور کرپٹو مائننگ کی سرگرمیاں جاری ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے اگرچہ اس شعبے کے لیے مکمل ریگولیٹری فریم ورک ابھی تشکیل کے مراحل میں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقدہ 27ویں آئی ٹی سی این ایشیاء کے دوران ”ٹوکنائزنگ دی ساورن ایسٹ، لیکوڈیٹی ریڈی ”کے عنوان سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ڈیجیٹل اثاثوں اور خودمختار اثاثوں کی ٹوکنائزیشن سے متعلق پاکستان کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ڈیجیٹل معیشت میں حکومت کا بنیادی کردار اختراع کو فروغ دینا اور نئی ٹیکنالوجیز کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی جانب بتدریج پیشرفت کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے،خاص طور پر جدید مالیاتی نظام اور ڈیجیٹل شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔

عالمی تناظر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بِٹ کوائن کی عالمی سپلائی تقریباً 21 ملین تک محدود ہے جس کی وجہ سے ڈیجیٹل اثاثے آج کے مالیاتی نظام میں ایک اہم موضوع بن چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے پہلے مرحلے میں 2 ارب ڈالر مالیت کے ملکی قرضے کے ایک حصے کو ٹوکنائز کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں بنیادی طور پر ریٹیل سرمایہ کاروں کو شامل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد جدید مالیاتی ذرائع کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا اور لیکویڈیٹی میں بہتری لانا ہے۔

ریگولیٹری پیشرفت پر بات کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ کرپٹو اور ورچوئل اثاثوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص فریم ورک یا اتھارٹی کے قیام پر غور کیا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ دو ہزار میگاواٹ بجلی بنائیں تو دو بلین ڈالر بچا سکتے ہیں جو پورا کیس ہے، یو اے ای کی طرح پاکستان کے میچو چل ایسٹ اتھارٹی بنائی ہے ،کسی ملک نے بھی ہب بنانے کادعویٰ نہیں کیا۔