کے پی میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع(پنجاب میں غیر یقینی صورتحال برقرار)

اسلام آباد/لاہور:الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں نئی حلقہ بندیوں کے لیے شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق خیبر پختونخوا کے24اضلاع نوشہرہ، چارسدہ، مہمند، مردان، صوابی، کوہاٹ، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ٹانک، ایبٹ آباد، ہری پور، بٹگرام، تورغر، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولئی پالس، سوات، بونیر، لوئر چترال، لوئر دیر اور اپر دیر ویلج اور نیبرہوڈ کونسلوں کی حد بندی کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔

شیڈول کے مطابق19جنوری سے 2 فروری تک تمام انتظامات مکمل کیے جائیں گے،3 فروری سے 4 مارچ تک ڈیلی میٹیشن کمیٹیاں ویلج اور نیبرہوڈ کونسلوں کی ابتدائی فہرستیں تیار کریں گی۔5 مارچ کو ابتدائی فہرستیں شائع کی جائیں گی۔

شہری 6 مارچ سے 25 مارچ تک ڈیلی میٹیشن اتھارٹیز کے سامنے اپنے اعتراضات جمع کرا سکیں گے، تمام اعتراضات 8 اپریل تک نمٹا دیے جائیں گے۔شیڈول کے آخری مرحلے میں 20 اپریل کو ویلج اور نیبرہوڈ کونسلوں کی حد بندی کی حتمی فہرستیں جاری کی جائیں گی۔

ادھرپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے، کیونکہ تاحال انتخابات کا باقاعدہ شیڈول طے نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن سے مزید وقت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی بنیادی وجہ بلدیاتی الیکشن رولز اور حلقہ بندیوں کا عمل مکمل نہ ہونا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیاں مکمل نہ ہونے کے باعث بلدیاتی انتخابات کے مزید مؤخر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اسی تناظر میں الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے 22 جنوری کو جواب طلب کر لیا ہے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے کم از کم ایک ماہ کی اضافی مہلت مانگنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے رولز پر بعض اعتراضات عائد کیے گئے تھے، تاہم فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے جبکہ مخصوص نشستوں کے انتخابات کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

الیکشن رولز کی سمری دوبارہ پنجاب حکومت کو بھجوا دی گئی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے بعد ہی بلدیاتی انتخابات کا حتمی شیڈول جاری کیا جا سکے گا۔ آئینی طور پر حلقہ بندیاں کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، جس کے باعث دونوں اداروں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے۔