اسلام آباد/واشنگٹن/غزہ:ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت دی ہے۔
اپنے بیان میں ترجمان دفتر خاجہ نے کہا کہ پاکستان کو غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت ملی ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا، غزہ میں پائیدار امن کے لیے پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا مستقل حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کاوشوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ60ممالک کو ارسال کردیاگیا۔واشنگٹن سے خبر ایجنسی کے مطابق چارٹر کے تحت طویل مدت کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
چارٹر کے تحت جو ممالک غزہ امن بورڈ میں3سال سے زائد کی رکنیت چاہتے ہیں انہیںایک ارب ڈالر سے زائد فنڈ دینے ہوں گے۔ چارٹر کے مطابق ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے لے کر3سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا۔
چارٹر کے مطابق غزہ امن بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ چارٹر کے مطابق تین سالہ رکنیت کی شرط ان ممالک پر نہیں ہوگی جو پہلے سال میں بورڈ کے لیے1 ارب ڈالر سے زائد نقد رقم دیں گے۔
ادھربلومبرگ نیوز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس کے منشور کے مسودے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ مختلف ممالک بورڈ میں شامل رہنے کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کریں۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن بورڈ کے پہلے چیئرمین ہوں گے اور ہر رکن ملک کی مدت اس کے چارٹر کے نافذ ہونے کے بعد سے تین سال سے زیادہ نہیں ہوگی جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکاجبکہ وائٹ ہائوس نے اس رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے کوئی کم از کم رکنیت فیس مقرر نہیں ہے۔ غزہ امن بورڈ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت کی بنیاد پر کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امن بورڈ میں شمولیت قبول کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کینیڈا کے وزیر اعظم کو ملنے والی اس دعوت کے بارے میں یہ بات وزیراعظم کے سینئر معاون نے بتائی۔صدر ٹرمپ نے خود کو غزہ کی عبوری حکومت کی نگرانی کرنے والے امن بورڈ کا سربراہ قرار دیتے ہوئے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ناموں کے ساتھ امن بورڈ کا اعلان کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر طیب اردوان اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو خط لکھ کر باضابطہ طور پر غزہ میں امن منصوبہ آگے بڑھانے کے لیے امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں امن بورڈ کا قیام شامل ہے جو عبوری طور پر غزہ کے امور کی نگرانی کرے گا۔ نیز ٹیکنو کریٹس پر مشتمل انتظامی کمیٹی کی بھی مانیٹرنگ کرے گا۔
علاوہ ازیںاسرائیلی وزیراعظم آفس نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے بورڈ کی تشکیل کے لیے رابطہ نہیں کیا گیا اور غزہ بورڈ کی تشکیل مسترد کرتے ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون ساریہ غزہ بورڈ کا معاملہ امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے ساتھ بات چیت میں اٹھائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔ادھرغزہ کی قومی انتظامی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے کی تعمیر نو،سیکورٹی کے قیام اور بنیادی سہولیات کی بحالی پر توجہ دے گی جس میں بجلی، پانی، صحت کی سہولیات اور تعلیم شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ امن کونسل کے مندوبین نے انسانی امداد کے دائرہ کار کو بڑھانے، عوامی خدمات کی بحالی، اہم بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور عدلیہ و سیکورٹی اداروں کی تنظیم نو کے منصوبے تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔
کمیٹی نے اعلیٰ معیار کی شفافیت اور ایمانداری پر زور دیتے ہوئے ایک ایسی پیداواری معیشت قائم کرنے کا عہد کیا ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے اور خود انحصاری کو فروغ دے، یہ سب فلسطینی حقوق اور حق خود ارادیت کے حصول کے ویژن کے تحت کیا جائے گا۔
ادھرغزہ بھر میں صہیونی افواج کے حملے جاری ہیں، اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود درجنوں فلسطینی شہید کر دیے۔عرب میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک 464 فلسطینی شہادتیں رپورٹ ہوئی ہیں، اکتوبر 2023ء سے غزہ میں شہدا کی تعداد 71 ہزار 353 ہوگئی۔
شدید سردی کے باعث ایک اور نومولود جان نے دم توڑدیا، رواں موسم میں 7 بچوں سمیت 24 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک لاکھ 71 ہزار548 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

