صورتحال تیزی سے تبدیل، کیا ایران پر امریکی حملے کا خطرہ ٹل گیا؟

لندن/ تہران: امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے بھی اپنے شہریوں کو ایران فوری چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔جرمنی نے اپنے طیاروں کو ایرانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ٹرمپ انتظامیہ قطر میں امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکلنے کاحکم دے چکی ہے جبکہ برطانیہ نے بھی قطر کے امریکی فوجی اڈے سے اپنا عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مغربی فوجی حکام کے حوالے سے برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر عنقریب حملہ ہونے والا ہے۔مغربی فوجی حکام کا کہنا تھا کہ غیر متوقع پن امریکی حکمت عملی کاحصہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رکھنے کی صورت میں سخت ردعمل دے گاتاہم مجھے بتایا گیا ہے کہ ایران میں قتل عام بند ہوگیا ہے۔بتایا گیا کہ ایران میں پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں۔
امریکا کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی کے باعث ایران بھر میں شدید تشویش اور خوف کی لہر پھیل گئی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق درجنوں غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر ایرانی شہری سرحد عبور کر کے ترکیہ جانے لگے، ملک کے مختلف علاقوں کی فضائی حدود جزوی طور پر بند اور بین الاقوامی پروازوں میں خلل پیدا ہو گیا۔
ایرانی حکومت احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق 24 گھنٹوں میں ایران کے کسی شہر سے بے امنی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ادھر ایرانی وزیرخارجہ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ ملک میں امن و سکون قائم ہے اور صورتحال مکمل قابو میں ہے۔ انہوں نے پیغام دیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو حملے میں پہل نہ کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دسمبر کے آخر میں ایران میں احتجاج شروع ہونے سے قبل اسرائیلی حکام نے روس کے ذریعے ایرانی قیادت کو آگاہ کیا کہ اگر اسرائیل پر پہلے حملہ نہ ہوا تو وہ ایران پر کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔
اس کے جواب میں ایران نے بھی روسی چینل کے ذریعے پیغام دیا کہ وہ بھی کسی قسم کے پیشگی حملے سے گریز کرے گا، یوں روس کی ثالثی میں فریقین کے درمیان یہ طے پایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر پہلے حملہ نہیں کریں گے۔