مسئلہ فلسطین: پس منظر، موجودہ صورتحال، ہماری ذمہ داری

گزشتہ سے پیوستہ:
اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں۔ دیکھیں، دنیا بھر میں عوام ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے عوام جلوس نکال رہے ہیں، یورپ کے ملکوں کے لوگ ان کی حمایت میں سڑکوں پر آئے ہیں، لیکن ہم کیوں نہیں سامنے آتے؟ آج کی دنیا میں رائے عامہ کی حمایت بڑی مضبوط حمایت ہوتی ہے، اسٹریٹ پاور آج کی دنیا کا بڑا بہت بڑا سیاسی ہتھیار ہوتا ہے۔ آج مغرب اور مشرق میں، امریکا اور یورپ میں بڑے بڑے شہروں میں جلوس نکل رہے ہیں۔ ہمیں بھی یہ آواز بلند کر کے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہیے اور دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ اگر امریکا کی یونیورسٹیوں کے طلبہ یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں تو ہمیں یہ اظہار کرنے میں کیا تکلیف ہوتی ہے؟ اس لیے رائے عامہ کی حمایت کی مہم اور میڈیا کی مہم کو جتنا زیادہ ہم تیز کر سکتے ہیں، ہمیں کرنا چاہیے اور اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی تیسری ذمہ داری عرض کرنا چاہوں گا۔ لڑائیوں میں سیاسی لڑائی بھی ہوتی ہے، ہتھیاروں کی لڑائی بھی ہوتی ہے اور معاشی لڑائی بھی ہوتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معاشی جنگیں ہوئی ہیں۔ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شعب ابی طالب میں تین سال محاصرہ اور بائیکاٹ رہا ہے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی معاشی لڑائی لڑی ہے۔ بدر کی لڑائی یہیں سے شروع ہوئی تھی کہ قریش کا تجارتی قافلہ روکنے کے لیے نکلے تھے۔ قرآن مجید میں ہے ”واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم وتودون ان غیر ذات الشوکة تکون لکم ویرید اللہ ان یحق الحق بکلماتہ” اللہ پاک فرماتے ہیں کہ جب تم مدینہ سے چلے تھے تو تمہارے ذہن میں دو قافلے تھے کہ ایک ابو جہل کا جنگی قافلہ اور ایک ابو سفیان کا تجارتی قافلہ۔ اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ ایک تمہارے قابو میں دوں گا، تو تم تجارتی قافلہ کی طرف جانا چاہ رہے تھے، میں نے دوسری طرف بھیج دیا۔ تم یہ چاہتے تھے کہ تجارتی قافلہ ہاتھ میں آئے، تمہارا ٹارگٹ وہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے رخ جنگی قافلہ کی طرف موڑ دیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو معاشی جنگ کے حوالے سے نکلے تھے کہ ان کی تجارت کے راستے میں رکاوٹ بننا ہے۔

عہد نبویۖ میں تجارتی بائیکاٹ کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ مسلمانوں کا بائیکاٹ بھی ہوا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے بھی کئی مواقع پر کفار کا بائیکاٹ کیا ہے۔ میں ایک چھوٹا سا واقعہ عرض کروں گا تاکہ سمجھ آئے کہ معاشی جنگ کیا ہوتی ہے؟

صلح حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہم دس سال آپس میں جنگ نہیں کریں گے، دیگر شرطیں بھی تھیں۔ یمامہ میں بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہو گئے اور ایک موقع پر عمرہ کے لیے چلے گئے۔ مکہ پر کفار کا کنٹرول تھا۔ وہاں طواف کرتے ہوئے انہیں کسی نے طعنہ دیا کہ ثمامہ مسلمان ہو گئے ہو؟ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی بن گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا آرام سے بیٹھو، تمہارے مکہ میں گندم یمامہ سے آتی ہے۔ یمامہ گندم کا علاقہ تھا، مکہ کی منڈیوں میں وہیں سے گندم آتی تھی۔ فرمایا اگر میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو گندم کا ایک دانہ بھی مکہ نہیں آئے گا، بلکہ ثمامہ بن اثال نے واپس جا کر مکہ کی گندم بند کر دی۔ بنو حنیفہ کے سردار تھے، انہوں نے واپس جا کر اعلان کر دیا کہ آئندہ مکہ کی منڈی میں گندم نہیں جائے گی، چنانچہ مکہ میں گندم نہیں گئی تو مکہ والوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد بھیجا کہ جناب! ہمارا آپ کا صلح کا معاہدہ چل رہا ہے اور آپ کے ساتھی نے غصے میں آ کر ہماری گندم کی سپلائی بند کر دی ہے، چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کو خط لکھا جو ریکارڈ پر ہے، بخاری شریف میں موجود ہے اور بندہ بھیج کر یہ پیغام بھیجا کہ کچھ نرمی کریں، ہمارا معاہدہ چل رہا ہے۔

معاشی جنگ بھی جنگ ہوتی ہے اور تجارت میں رکاوٹ ڈالنا اور بائیکاٹ کرنا بھی جہاد کا حصہ ہوتا ہے۔ ہم کم از کم یہ تو کر سکتے ہیں۔ دو محاذ تو ہمارے اپنے ہیں۔ میڈیا کا محاذ، اسٹریٹ پاور کا محاذ اور معاشی جنگ، بائیکاٹ، معاشی طور پر ان کو نقصان پہنچانا یہ کام ہم سب کر سکتے ہیں۔ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں وہ تو کریں۔ علمائے کرام اور سیاسی جماعتوں کو رائے عامہ کے محاذ پر اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت میں زیادہ سے زیادہ آواز بلند کرنی چاہیے، کم از کم اتنی تو کرنی چاہیے جتنی امریکا کے اسٹوڈنٹس اور برطانیہ کے عوام کر رہے ہیں جبکہ ہمارے تجارتی ماحول کو بائیکاٹ کے راستے سوچنے چاہئیں۔ اگر کفار مکہ کا بائیکاٹ ہو سکتا ہے، مکہ والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بائیکاٹ کر سکتے تو ہم بھی اسرائیل کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں لہٰذا کم از کم درجہ یہ ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لیے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں کہ ہم یہودی مال نہیں لیتے کہ یہ ہمارے بھائیوں کے قاتل ہیں۔

میں نے گزارش کی ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فلسطینی مجاہدین کھڑے ہیں، ڈٹے ہوئے ہیں، ان کا ڈٹے رہنا ہی ان کی کامیابی ہے، اگر خدانخواستہ بیس تیس ہزار اور بھی شہید ہو جائیں تو یہ کھڑا رہنا اور ڈٹے رہنا ہی ان کی کامیابی ہے اور ہماری بہت سی حرکتوں میں رکاوٹ ہے۔ ہمیں انہیں سرنڈر ہونے کے مشورے دینے کی بجائے ان کی استقامت کے لیے دعا کرنی چاہیے اور دوسری بات یہ عرض کی کہ جو حکومتوں کے بس میں ہے، انہیں کرنا چاہیے، یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر وہ نہیں کرتے تو جو کام ہم پبلک میں کر سکتے ہیں، علمائ، سیاستدان، تاجر کر سکتے ہیں اپنے اپنے دائرہ میں کریں اور اپنا حصہ تو ادا کریں۔

مشہور واقعہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ایک پرندہ چونچ میں پانی لے کر آگ پر ڈال رہا تھا۔ کسی نے کہا یہ تمہارے پانی کے دو قطرے کیا کریں گے؟ اس نے کہا جتنی میری چونچ ہے اتنا تو ڈالوں گا۔ جو میرے بس میں ہے، میں کر رہا ہوں۔ خدا کرے نہ کرے، جب کرے اس کی مرضی، مگر ہم اپنی چونچ کے مطابق تو کام کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائیں تاکہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی قیامت کے دن پیش ہونا ہے، وہاں بھی شرمساری نہ ہو۔ ہم یہ تو کہہ سکیں کہ ہم نے کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں مارے تھے۔ اس کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے، اللہ رب العزت ہم سب کو توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔