پشاور/اسلام آباد:خیبرپختونخوا حکومت نے ہری پور ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی انکوائری کا فیصلہ کرلیا۔معاونِ خصوصی برائے اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔
شفیع جان نے کہاکہ کلاس فور سے لے کر ڈسٹرکٹ کمشنر تک تمام سطح پر انکوائری کی جائے گی اور اگر کوئی ملوث پایا گیا تو سخت سزا دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ماتحت افسران ملوث نہیں ہیں، تاہم شفافیت کے لیے یہ انکوائری کی جا رہی ہے، میرے خیال میں سہیل آفریدی نے جس طرح انتخابات کا انعقاد کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔
انہوںنے کہاکہ حکومت الیکشن کمیشن کو ہری پور انتخابات میں دھاندلی سے متعلق ریفرنس بھی بھیج رہی ہے، پریزائیڈنگ افسران کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں اور ان سے بیان حلفی بھی لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ بعض عناصر این اے 18 ہری پور کو متنازع بنانے کیلئے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں، ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی کو سازش قرار دینا حقائق کے سراسر منافی پے،اگر ریٹرننگ افسر نے کوئی درخواست وصول کرنے سے انکار کیا تھا تو متعلقہ فریق کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے تھا ایسا نہیں کیا گیا،فارم 45 کے پہلے سے تیار ہونے کا الزام بھی غلط ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان میں کہاکہ جنرل الیکشن میں عملے کی کمی کے باعث الیکشن کمیشن کے لیے آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی ممکن نہیں ہوتی تاہم ضمنی انتخابات میں ضرورت کے تحت ایسا کیا جاتا ہے اس ضمنی انتخاب میں بھی اسی ایریا میں تعینات الیکشن کمیشن کے افسروں کو ڈی آر او اور آر او مقرر کیا گیا۔
الیکشنز ایکٹ 2017ء کے تحت یہ کمیشن کا مکمل طور پر قانونی اختیار ہے اور ہمیشہ الیکشن کمیشن ہی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز تعینات کرتا آیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کی تعیناتی پول ڈے سے بہت پہلے کر دی جاتی ہے مگر الیکشن کے دن تک کسی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا اور الیکشن ہارنے کے بعد یہ الزامات لگائے جارہے ہیں۔

