بے گھر فلسطینیوں کا نیا قتل عام، 100شہید، دنیا خاموش تماشائی

غزہ:اسرائیل نے بے گھر فلسطینیوں کا نیا قتل عام شروع کردیا، پناہ گزینوں کے کیمپ اور اسکول پر بمباری، 18معصوم بچوں سمیت 100افراد جان کی بازی ہار گئے۔
غزہ، خان یونس اور رفح میں فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ صرف غزہ میں 58افراد کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے۔ غزہ شہر کے دارارقم اسکول پر بمباری کرکے29 افراد کو شہید کیا گیا جن میں 18 بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں اور100سے زیادہ زخمی ہوئے۔
اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے طبی مرکز پر حملہ کیا گیا جس میں 22 افراد کا قتل عام کیا گیا۔اسرائیلی فضائیہ نے بیت حنون اور بیت لاحیہ کے علاقوں سے جبری انخلا کے بعد عارضی کیمپ میں پناہ گزین افراد پر بھی بم برسائے۔
اسرائیلی جارحیت میں شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار 400 سے زائد ہوگئی،1 لاکھ 14 ہزار 500 سے زائد زخمی ہو چکے۔
اسرائیل نے غزہ کے بڑے علاقے رفح اور خان یونس کے علاقوں کو جدا کرکے موراج کوریڈور کا نام دے دیا۔وزیراعظم نیتن یاہو کے مطابق غزہ کے مزید ٹکڑے کرنے کے بعد اس پر قبضہ کیا جائے گا۔اسرائیلی حکومت نے فوج کو بفرزونز میں شامل وسیع علاقے پرقبضے کی ہدایت کردی۔
اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح میں قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے 14 طبی اور انسانی ہمدردی کے اہلکاروں کے بہیمانہ قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔
ادھر ہنگری کی حکومت نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔یہ فیصلہ ہنگری کے وزیاعظم وکٹر اوربان کی جانب سے اسرائیلی ہم منصب بن یامین نیتن یاہو کے ہنگری پہنچنے پر استقبال سے قبل سامنے آیا۔
دریں اثناء اسرائیلی فوج نے شام اور لبنان پر بھی فضائی حملے کیے، شامی صوبے دارا میں صیہونی حملوں سے 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ لبنان میں اسرائیلی حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔