مولانا عبداللہ خان
ماہِ مقدس کی راتوں میں سے ایک رات لیلة القدر کہلاتی ہے ، جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی اُمت پر رب ذوالجلال کی طرف سے ہونے والی خصوصی عنایات میں سے ایک عظیم عنایت و رحمت ہے۔
قرآن مجید میں اس رات کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا۔ ہزار مہینوں کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں۔ جس خوش نصیب نے اس رات کو عبادت میں گزاردیا اس نے گویا تراسی برس چار ماہ سے زیادہ زمانہ عبادت میں گزارا۔ پہلی اُمتوں کی عُمریں سینکڑوں سال ہوتی تھیں۔ اگر کوئی اعمال صالحہ میں ان کی برابری کرنا بھی چاہے تو یہ اس کے لئے ممکن نہ تھا، مگر رب کائنات نے خیر الامم کو یہ مقدس شب ’شب قدر‘ مرحمت فرما کر اُمم سابقہ کے ساتھ عبادت میں برابری بلکہ آگے بڑھ جانے کا سامان پیدا فرما دیا۔ اگر کسی خوش بخت کو زندگی بھر میں صرف دس راتیں ہی عبادت میں گزارنے کی توفیق نصیب ہوجائے تو گویا آٹھ سو تینتیس(۸۳۳) برس چار ماہ سے بھی زیادہ زمانہ کامل عبادت میں گزارنے کا ثواب حاصل ہوجائے۔ کیا کوئی ٹھکانہ ہے اس رحمت کا؟ پھر بھی اگر ہم اس رات کی اس عظیم فضیلت کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں اور مہینہ بھر غفلت میں گزار دیں تو کسی کا کیا نقصان ہے؟ اپنی ہی بدنصیبی و محرومی ہے۔ سال بھر دُنیوی منافع کے حصول میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، اگر یہ ایک ماہ دُنیوی جھمیلوں سے یکسو ہوکر اپنے رب کریم کو راضی کرنے اور اس کی عبادت میں گزار دیں تو کیا قیامت آجائے گی؟ معمولی سی مشقت اور اجر و ثواب کا اتنا بڑا ذخیرہ۔
گناہوں کی معافی
شب قدر کی اہمیت کے لیے قرآن کریم میں بیان کردہ مذکورہ فضیلت ہی کافی تھی، مگر رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو اس کی قدر و منزلت بتانے کے لیے متعدد ارشادات فرمائے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لیلة القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا ہو اُس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔“(صحیح بخاری)
تنبیہ: حدیث ِبالا اور اس جیسی احادیث جن میں کسی عمل صالح سے گناہوں کی معافی کا ذکر آتا ہے، ان میں گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہوتے ہیں، اس لئے کہ قرآن کریم میں کبیرہ گناہوں کی معافی کو توبہ کے ساتھ مقید کیا ہے، اس لئے علماء کا اجماع ہے کہ کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ اس لئے لیلة القدر کی عبادت ہو یا اور کوئی نیک عمل، اس کے فضائل پڑھ سن کر بے دریغ گناہ کرتے جانا اور معافی کی اُمید رکھنا جہالت ہے۔ کبیرہ گناہوں سے توبہ کا اہتمام لازم ہے۔ توبہ کے باوجود اس لغرش و خطا کے پتلے سے صغائر کا صدور ہوتا ہی رہتا ہے۔ شب قدر کی عبادت اور دوسرے اعمال صالحہ سے ان صغائر کی معافی بھی بہت بڑا انعام ہے۔
’نزاع و اختلاف‘ تعیین لیلة القدر کے اُٹھ جانے کا سبب
حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں لیلة القدر کے بارے میں خبر دیں مگر دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس لیے آیا تھا تاکہ تمہیں شب قدر کی خبر دوں، مگر فلاں فلاں شخصوں میں جھگڑا ہورہا تھا، جس کی وجہ سے اس کی تعیین اُٹھالی گئی، کیا بعید ہے کہ یہ اُٹھالینا ﷲ تعالیٰ کے علم میں بہتر ہو۔ اب اس رات کو نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ ( بخاری ) دوسری روایات کے پیش نظر یہ تین راتیں آخری عشرہ کی ہیں۔ اگر تیسرا عشرہ آخر سے شمار کیا جائے تو 29 ، 27 اور 25 بنتی ہیں اور اول سے شمار کیا جائے اور چاند 29 کا ہو تو 21، 23 اور 25 بنتی ہیں اور 30 کے چاند کی صورت میں 22، 24 اور26 بنتی ہیں۔ آپس کا اختلاف اور بغض و عناد اس قدر بُری چیز ہے کہ اس کی وجہ سے شب قدر کی تعیین ہمیشہ کے لئے اُٹھالی گئی، اختلاف و نزاع ہمیشہ برکات سے محرومی کا سبب ہوتا ہے۔ (شرح مسلم)
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے عام مسلمانوں کی آبروریزی کو بدترین و خبیث ترین سود قرار دیا ہے۔ وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کا وقار گھٹانے کی فکر میں رہتے ہیں اور دوسرے کے حق میں اتہام و الزام تک کا بے دریغ ارتکاب کرتے رہتے ہیں، ذرا چند لمحوں کے لئے تنہائی میں بیٹھ کر ﷲ کے محبوب صلی ﷲ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں غور کریں کہ وہ اپنے وقار کو کس قدر صدمہ پہنچا رہے ہیں اور اپنی ان ناپاک اور کمینہ حرکتوں سے اﷲ تعالیٰ کی نگاہ میں کتنے ذلیل ہورہے ہیں؟
لیلة القدر اور آخری عشرہ
اگرچہ لیلة القدر کی حتمی تعیین کا علم اُٹھالیا گیا، مگر احتمال کے درجہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے آخری عشرہ کی طاق راتیں عبادت میں گزارنے کا حکم دیا ہے۔ (بخاری) جمہور علماء کے نزدیک رمضان خواہ 29 کا ہو یا 30 کا آخری عشرہ اکیسویں رات سے شروع ہوتا ہے، اس حساب سے حدیث بالا کے مطابق شب قدر کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے 21، 23، 25، 27، 29 کی رات کو عبادت کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، جبکہ بعض علماء کے نزدیک اگر رمضان 29 کا ہو تو آخری عشرہ بیسویں شب سے شروع ہوگا، اس حساب سے طاق راتیں، 20، 22، 24، 26، 28 ہوں گی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لیلة القدر ہی کی فضیلت پانے کے لیے رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم) آپ کا یہ اعتکاف بالاتفاق اکیسویں شب سے شروع ہوتا تھا، اس لئے بھی جمہور کا قول زیادہ راجح ہے۔ تاہم دونوں اقوال پر لیلة القدر کا حصول جب ہی ممکن ہے کہ بیسیویں شب سے لے کر عید کی رات تک ہر رات میں عبادت کا اہتمام کیا جائے۔ تراسی سال چار ماہ سے زیادہ زمانے کی عبادت کا ثواب حاصل کرنے کے لیے دس گیارہ راتیں عبادت کرنا کوئی ایسی مشکل چیز نہیں
لیلة القدر کا علم مرتفع ہونے کی مصلحتیں
لیلة القدر کوئی معین رات نہیں۔ بعض کا قول ہے کہ پورے سال میں کوئی رات ہے، بعض کا قول ہے کہ پورے رمضان میں کوئی رات ہے، بعض نے کہا کہ آخری عشرے میں۔ پھر اس کی بھی طاق راتوں میں زیادہ احتمال ہے جس کی تائید حدیث بالا سے بھی ہوتی ہے۔ لیلة القدر کا علم مرتفع ہونے کے بارے میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بعید ہے کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہو۔“ اس کی پوری مصلحتیں تو ﷲ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں تاہم علماء کرام نے چند مصلحتیں تحریر فرمائی ہیں :
غفلت سے بچانا: اگر معلوم ہوجاتا کہ فلاں رات لیلة القدر ہے تو اس رات میں تو عبادت کرتے اور دوسری راتوں میں سوتے رہتے، علم نہ ہونے کی صورت میں ہر رات کے بارے میں امکان ہے کہ یہی لیلة القدر ہو، اس لیے ہوشیار رہو، ہر وقت ہوشیارر ہو۔
سخت عذاب سے بچانا:اگر پتا چل جاتا کہ فلاں رات ہے تو بہت سے لوگ اس میں بھی گناہ نہ چھوڑتے اور نہیں تو کم از کم ڈاڑھی تو منڈا ہی لیتے یا کٹوالیتے۔ شرعی پردہ سے بغاوت، غیبت کرنا، ٹخنے ڈھانکنا وغیرہ، بے شمار گناہ جنہیں آج کا مسلمان گناہ ہی نہیں سمجھتا، سب کچھ کرتا رہتا۔ لیلة القدر جیسی مقدس رات میں بھی اﷲ تعالیٰ کی بغاوتوں اور نافرمانیوں سے باز نہ آتا تو اس پر عذاب بہت سخت ہوتا۔ اس لیے یہ بھی اﷲ کی رحمت ہے کہ لیلة القدر کا علم واپس لے کر بندوں کو سخت عذاب سے بچالیا۔
افسردگی سے بچانا: اگر کسی شخص سے وہ رات کسی عذر سے یا اتفاقًا چھوٹ جاتی تو افسردگی کی وجہ سے آیندہ راتوں میں سے کسی رات بھی عبادت نصیب نہ ہوتی، تعیین نہ ہونے کی وجہ سے کئی راتوں کی عبادت نصیب ہوجاتی ہے۔
ز یادہ اجر دینا: جتنی راتیں لیلة القدر کی طلب میں خرچ ہوتی ہیں اُن کا مستقل ثواب علیحدہ ملے گا۔