حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں جاری سیاسی محاذ آرائی اور دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون کے تناظر میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، تو دوسری طرف وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہو کر کرک اور دیگر علاقوں سے ہوتا ہوا دارالحکومت کی طرف گامزن ہے، اور حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کے ڈی چوک یا شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملک کی سیاسی فضا ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گئی ہے۔ ایک بار پھر ملک ایک ایسے سیاسی تناؤ کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جس کے اثرات صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی معیشت، عوامی زندگی اور ملکی مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان اس وقت جن مشکلات سے دوچار ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، روزگار کے مواقع سکڑ رہے، کاروباری سرگرمیاں متاثر اور لوگوں کا معیار زندگی مسلسل گر رہا ہے۔ ایسے میں ملک کو سب سے زیادہ ضرورت سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور قومی یکجہتی کی ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں سے ملک مسلسل سیاسی عدم استحکام کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔جمہوری نظام کی روح برداشت، مکالمے اور اختلاف رائے کو تسلیم کرنے میں ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی رویے شدت پسندی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں جانب برداشت اور تحمل کی کمی ہے۔ سیاسی کشمکش اور اقتدار کی رسہ کشی نے ملک کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ جب حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی بجائے مسلسل محاذ آرائی میں مصروف رہیں تو ریاستی نظام کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، اداروں پر دباؤ بڑھتا ہے اور عوام کا اعتماد کمزور پڑتا ہے۔سرمایہ کار ایسے ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں امن، سیاسی استحکام، واضح پالیسیاں اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول ہو۔ کوئی بھی سرمایہ کار ایسے ملک میں اپنا سرمایہ لگانے سے گریز کرتا ہے جہاں ہر چند ماہ بعد سیاسی بحران، احتجاج، تصادم اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو۔ سرمایہ کار طویل مدتی منصوبہ بندی چاہتے ہیں، لیکن جب انہیں پالیسیوں کے تسلسل، امن و امان اور حکومتی استحکام کے حوالے سے خدشات نظر آئیں تو وہ متبادل راستے تلاش کرتے ہیں۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا کہ سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جائے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں، لیکن صرف ادارے قائم کر دینا کافی نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری کیلیے بنیادی ضرورت ایک ایسا ماحول ہے جہاں سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور پالیسیوں میں تسلسل موجود ہو۔ ہمیں اپنے حالات کا موازنہ خطے کے دیگر ممالک سے بھی کرنا چاہیے۔ بھارت میں دنیا کی بڑی کمپنیاں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہیں، نئی صنعتیں قائم ہو رہی ہیں اور عالمی ادارے وہاں طویل المدتی منصوبے بنا رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کی وجوہات پر پوری قوم کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ صرف ایک دوسرے کو الزام دینے کہ بجائے ہمیں ان بنیادی مسائل کو حل کرنا ہوگا جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی کشیدگی بھی سرمایہ کاروں اور عالمی برادری کی نظروں سے اوجھل نہیں۔ جب دنیا یہ دیکھتی ہے کہ ایک ملک مسلسل سیاسی تنازعات کا شکار ہے تو وہ گریز کی راہ اختیار کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، اپوزیشن، مقتدر حلقے اور تمام سیاسی قوتیں حالات کی سنگینی کو سمجھیں۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہر فریق اپنی پوزیشن میں لچک پیدا کرے اور مذاکرات، مفاہمت اور اتفاق رائے کا راستہ اختیار کرے۔ کسی بھی فریق کی مکمل فتح یا شکست سے زیادہ اہم ملک کا استحکام ہے۔ہٹ دھرمی، ضد اور سیاسی محاذ آرائی کی پالیسی حالات کو مزید خراب کرے گی۔ پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کو تصادم نہیں، استحکام کی ضرورت ہے، الزام تراشی نہیں، مکالمے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی قوتیں اس حقیقت کو سمجھ لیں تو بحرانوں سے نکلنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، بصورت دیگر عدم استحکام کا یہ سلسلہ ملک کو مزید مشکلات کی طرف دھکیلتا رہے گا۔
بجلی کی صرف پیداواری صلاحیت پر ادائیگی!
پاکستان کا توانائی کا شعبہ ایک عرصے سے سنگین بحران کا شکار ہے اور اس بحران کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بجلی کے شعبے میں موجود وہ معاہدے ہیں جن کے نتیجے میں عوام کو بھاری بھرکم گردشی قرضوں کی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی صارفین نے پاور پلانٹس کو کیپسٹی پیمنٹس( یعنی صرف پیداواری صلاحیت) کی مد میں 1665 ارب روپے ادا کیے، جبکہ مجموعی طور پر بجلی صارفین سے 2935 ارب روپے وصول کیے گئے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ بجلی کی پیداواری لاگت اس رقم کے مقابلے میں صرف 1167 ارب روپے رہی۔ یہ صورتحال اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ توانائی کا موجودہ نظام کس قدر غیر متوازن اور عوام کے لیے بوجھ بن چکا ہے۔ کیپسٹی پیمنٹس کا سب سے بڑا نقصان عام صارف کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے گھریلو صارفین کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک ایسی قوم جس پر پہلے ہی بھاری قرضوں کا بوجھ ہے، اسے توانائی کے ایسے معاہدوں کی قیمت بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے جن کے فوائد عوام کو واضح طور پر نظر نہیں آتے۔ ایک غریب ملک میں بجلی کو عوامی سہولت کی بجائے مسلسل مہنگا بوجھ بنا دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ماضی کے فیصلوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے اور نہ ہی عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔ بجلی کے معاہدوں، پیداواری صلاحیت، ایندھن کے ذرائع اور تقسیم کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
