ریاض/واشنگٹن:طائف ایئربیس پر حوثی حملہ،ریاض ایئرپورٹ کے قریب دھماکے،اطالوی لڑاکا طیارے کو نقصان،فضائی آپریشن متاثرہوگیا۔غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے طائف ایئر بیس پر ہونے والے حوثی حملوں کے دوران ایک اطالوی لڑاکا طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اطالوی دفاعی وزیر گائیڈو کروزیتو نے تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ حوثی حملے میں لڑاکا طیارے کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی طیارے کے ساتھ موجود دیگر اثاثوں یا مقامی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔وزارتِ دفاع کے مطابق حملے کے وقت طیارہ ایئر بیس کے ایک دور دراز اور مرکزی تنصیب سے الگ حصے میں موجود تھا۔
دھماکے کے شدید اثرات کے باوجود حفاظتی پروٹوکولز کے باعث علاقائی دفاعی کارروائیوں کے لیے وہاں تعینات اہلکار محفوظ رہے۔دفاعی حکام نے واقعے کے فوراً بعد صورتِ حال کا جائزہ لینے اور فوجی اہلکاروں کے تحفظ کے اقدامات کو برقرار رکھنے کے لیے آپریشنل جائزہ شروع کر دیا ہے۔
یہ حملہ یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کی تازہ لہر کا حصہ ہے جس کے دوران سعودی عرب بھر میں فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ادھر ریاض میں ایئرپورٹ کے قریب ہفتے کے روز دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد علاقے میں دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
سعودی سول ڈیفنس نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے حملوں کے پیشِ نظر رات گئے الرٹ بھی جاری کیا تھا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر میڈیا اداروں کی جانب سے جاری ویڈیو اور تصاویر میں ریاض ایئرپورٹ ہائی وے، مرکزی ٹرمینل اور دیگر تنصیبات کے قریب دھویں کے سیاہ بادل اٹھتے دیکھے جاسکتے ہیں۔
ویڈیو کے ایک حصے میں ایندھن کے ٹینکوں کے قریب سے بھی آگ کے شعلے بلند ہوتے نظر آرہے ہیں۔رائٹرز کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے اور رات گئے جاری ہونے والے الرٹس پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے رات گئے ریاض اور مشرقی شہر الخرج میں فضائی حملوں کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر شہریوں کو فون پر الرٹ بھیجے تھے جس کے بعد ہفتے کی صبح صورتحال معمول پر آنے کا پیغام بھی جاری کیا گیا تھا۔اس واقعے کے بعد فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر متعدد پروازیں تاخیر کا شکار اور منسوخ کر دی گئی ہیں۔
دریں اثنائجدہ میں سعودی اتحاد کا چوتھا منصوبہ بندی اجلاس ہواجس میں خلیج عدن،آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر سمیت اہم عالمی آبی گزرگاہوں میں بحری آمدورفت یقینی بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں دوست ممالک کے 154بحری کمانڈرز اور سفیروں نے شرکت کی،سعودی کمانڈرعبداللہ بن سالم الشہری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری ہے،عالمی بحری سلامتی کولاحق ہرخطرے کا سدباب کیاجائیگا،کثیرملکی بحری دفاعی اتحاد کی آپریشنل صلاحیت مکمل طور پر فعال ہے۔
علاوہ ازیںایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات میں فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق دبئی، ابوظہبی اور شارجہ کے بین الاقوامی ائیرپورٹس سے خلیجی ممالک بالخصوص بحرین، کویت اور سعودی عرب جانے والی کئی پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہیں۔مسافروں کو ائیرپورٹ روانہ ہونے سے قبل اپنی فلائٹ کا اسٹیٹس چیک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔امریکی میڈیا کو حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو ایرانی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ پینٹاگون امریکا کی جانب سے 6 ماہ سے زائد عرصہ قبل شروع کی گئی جنگ کے نقصانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تصاویر میں کویت کے 3 فوجی اڈوں اور سعودی عرب کے ایک ایسے اڈے پر تباہ شدہ عمارتیں اورایک طیارہ دکھائی دیتے ہیں جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں، ان میں سے بعض اڈوں کو خالی بھی کرا لیا گیا ہے۔
ایران جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوںکی تعداد پینٹاگون کی جانب سے عوامی طور پر بتائے گئے اعداد و شمار سے زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکام کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران کم از کم 22 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جو پینٹاگون کے عوامی ڈیٹا بیس میں درج تعداد سے زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے امریکی محکمہ دفاع کے ریکارڈ سے واقف 6 حکام سے معلومات حاصل کیں۔ ان میں سے 5 حکام نے کم از کم 22 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ ایک اور اہلکار نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 23 تک ہوسکتی ہے تاہم حکام کے مطابق ان تمام ہلاکتوں کا براہِ راست جنگ سے تعلق نہیں۔
کچھ ہلاکتیں ایسے امریکی فوجیوں کی ہیں جو جاری جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں موجود تھے، اس کے علاوہ خطے میں تعینات تین امریکی کنٹریکٹرز بھی جنگ شروع ہونے کے بعد ہلاک ہوئے ہیں۔پینٹاگون کے عوامی ڈیٹا بیس کے مطابق گزشتہ روز18 ستمبر تک ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ پینٹاگون نے ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں اس فرق سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسے ”مکمل جھوٹ” قرار دیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 820 سے زیادہ امریکی فوجی زخمی بھی ہو چکے ہیں جن میں کئی ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں دماغی چوٹوں کا شکار ہوئے۔
ادھرایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے جدید جنگی طیارے اب ایرانی حملوں سے محفوظ نہیں رہے ہیں اور ٹرمپ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان خیالات کا اظہار چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کیا۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران جنگ کے دوران امریکا کے جنگی طیارے F-35 اور F-15 کے نقصان کی اطلاعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ دور شروع ہوچکا ہے جب امریکی F-35 اور F-15 جنگی طیارے شکار بنیں گے اور امریکا کو ان کے نقصان کی اطلاع بھی دنیا کو خود دینا پڑے گی۔
ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے کہا ہے کہ مسائل کے حل اور اسلام آباد معاہدے کی جانب واپسی کے لیے کوششیں اور بین الاقوامی سفارتی ثالثی جاری ہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پریس بریفنگ کے دوران علی زینی وند نے کہا کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ دوسرا فریق اس معاہدے کے تحت اپنی ذمے داریوں کی پاسداری کرے۔ایرانی عہدیدار نے زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ ایسا معاہدہ ہے جس کی منظوری سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے دی ہے اور سپریم لیڈر نے اس کی توثیق کی ہے، لہذا اسے نظام کا باضابطہ فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔
ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو ایران جنگ میں جھونک کر بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کروایا ہے اور ان حقائق کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش بھی کی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس اور نیویارک ٹائمز کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی فوج کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے قانون سازوں کو فراہم کیے گئے نئے فوجی تخمینے کے مطابق تین ستمبر تک اس تنازع کی مجموعی لاگت بڑھ کر 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اس سے قبل امریکی کانگریشنل بجٹ آفس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ یکم اگست تک جنگی اخراجات 38 ارب ڈالر تھے جس کا مطلب ہے کہ محض ایک ماہ کے دوران ہتھیاروں اور فوجی کارروائیوں کی مد میں مزید 6 ارب ڈالر سے زائد کا ضیاع ہوا ہے۔
اس بے پناہ خرچ کا بڑا حصہ مہنگے ہتھیاروں، میزائلوں کی تبدیلی اور جنگی طیاروں کی پروازوں کے دوران ایندھن کے اخراجات پر صرف ہو رہا ہے۔
امریکی ماہرینِ معیشت اور آزاد تحقیقی اداروں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ان پوشیدہ اخراجات نے ملکی معیشت پر سنگین بوجھ ڈال دیا ہے جس کے باعث نہ صرف امریکی دفاعی اسٹاک میں کمی آ رہی ہے بلکہ سال 2027ء کی پہلی سہ ماہی میں ملک کے اندر مہنگائی کی شرح میں بھی مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس رپورٹ پر ڈیموکریٹک رہنماؤں نے صدر ٹرمپ اور ریپبلکن انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جو حکومت ملکی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کی کمی کا رونا روتی تھی، وہ اس بے مقصد اور خطرناک جنگ کے لیے اربوں ڈالر آسانی سے اڑا رہی ہے جس کا حتمی نقصان براہ راست امریکی ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
