جب الٹی سمت میں چلنے لگے زمانہ

گزشتہ دنوں فیس بک پر اچانک عربی اشعار کی ایک ویڈیو نظر سے گزری۔ پڑھنے والے نے اشعار اس کمالِ فن سے گائے تھے کہ آدمی ایک بار سننا شروع کرے تو سنتا ہی چلا جائے، اور ادائیگی ایسی واضح کہ عربی ادب سے معمولی شناسائی رکھنے والا بھی ایک ایک لفظ سمجھتا جائے۔ اشعار شاید کسی عرب ملک کے حالات، معاشرتی تضادات اور سیاسی منظرنامے کی عکاسی کر رہے تھے، مگر میں نے جب انہیں سنا تو یوں لگا جیسے شاعر کسی دور دیس کا نہیں، میرے اپنے دیس کا نقشہ کھینچ رہا ہو۔شاعر نے جس دنیا کی تصویر کھینچی ہے، وہاں کلام بے بس، روشنی تاریکی کے ہاتھوں بجھی ہوئی، امن خود خوف زدہ اور نیند بھی بے قرار ہے:
والنور اطفاہ الظلام
والامن اصبح خائفاً
والنوم یرفض ان ینام
روشنی کو تاریکی نے بجھا دیا، امن خود خوف زدہ ہوگیا اور نیند نے سونے سے انکار کردیا۔

جب شہری اپنے جان و مال، روزگار، مستقبل اور بچوں کے بارے میں مسلسل غیر یقینی کا شکار ہوں تو امن کہاں رہ جاتا ہے؟ امن تو وہ کیفیت ہے جس میں آدمی آنے والے کل سے خوف زدہ نہ ہو، اسے یقین ہو کہ اس کی محنت کا صلہ ملے گا، قانون اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اور اس کے بچوں کے لیے اس سے بہتر صبح طلوع ہوگی، مگر جب ذمہ داری اپنی جگہ چھوڑ دے اور اختیار اپنی حد بھول جائے تو ترتیب بگڑنے لگتی ہے۔ شاعر اسی الٹی ترتیب کو یوں بیان کرتا ہے:
والصدر اصبح فی الورا
والخلف اصبح فی الامام
جو آگے ہونا چاہیے تھا وہ پیچھے ہے اور جو پیچھے ہونا چاہیے تھا وہ آگے آ گیا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں ہمارے بہت سے مسائل کی جڑ شاید یہی الٹی ترتیب ہے۔ قابلیت، دیانت، اہلیت اور کردار کو وہ مقام نہیں ملا جو قوموں کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔ عہدے ذمہ داری سے زیادہ مراعات، اختیار خدمت سے زیادہ اثر و رسوخ اور سیاست عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی کشمکش بن گئی ہے۔ ایسے ماحول میں شاعر کا یہ استعارہ بہت کچھ کہہ جاتا ہے:
والذئب امسیٰ حارسا
یحمی الارانب والحمام
بھیڑیا چوکیدار بن بیٹھا ہے جو خرگوشوں اور کبوتروں کی حفاظت پر مامور ہے۔

کسی معاشرے میں قانون کی اصل طاقت اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ یکساں نفاذ میں ہوتی ہے۔ اگر قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہو جائے تو اس کی ہیبت باقی نہیں رہتی، صرف نام رہ جاتا ہے۔ پھر شہری انصاف کی بجائے تعلق، سفارش اور اثر و رسوخ کا سہارا تلاش کرتا ہے اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد کی ڈور کمزور پڑنے لگتی ہے۔اسی لیے شاعر انصاف کو ایک عجیب منظر میں دکھاتا ہے:
والعدل یقعد فی زوایا
السجن ارھقہ القیام
اور انصاف جیل کے کونوں میں بیٹھ گیا ہے، اسے کھڑے رہنے نے تھکا دیا ہے۔

ہمارے ہاں تو گویا اس کا جنازہ ہی پڑھا جا چکا ہے۔ کیونکہ انصاف صرف عدالتوں کا معاملہ نہیں، وہ گھر سے شروع ہوتا، مدرسے اور اسکول سے گزرتا، بازار اور دفتر میں دکھائی دیتا اور ریاستی اداروں تک پہنچتا ہے۔ جہاں کمزور کا حق صرف اس لیے روک دیا جائے کہ وہ کمزور ہے، اور طاقتور کو محض طاقت کی بنیاد پر راستہ مل جائے، وہاں انصاف زخمی نہیں، دفن ہوجاتا ہے۔
پھر شاعر کہتا ہے:
والجوع یمشی عاریا
بین الجمیعِ ولا یلام

بھوک ننگی چل رہی ہے اور کوئی ملامت بھی نہیں کرتا۔ یہ اس اجتماعی بے حسی کی تصویر ہے، جہاں محرومی اور ناانصافی اتنی عام ہو جائیں کہ کسی کے لیے حیرت یا شرم کا باعث نہ رہیں، اور محرومی کو تقدیر کا نام دے کر قبول کرلیا جائے۔ سب سے زیادہ فکر انگیز بات شاید یہ ہے:
والیوم یہدم ما بناہ
المس ذو الملیونِ عام

آج وہ سب کچھ ڈھا رہا ہے جو کل نے صدیوں میں بنایا تھا۔ قومیں تہذیب، اخلاق، علم، برداشت، باہمی اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری سے تعمیر ہوتی ہیں۔ اگر ہم نئی نسل کو یہ سکھاتے رہیں کہ کامیابی اصول سے نہیں شارٹ کٹ سے، عزت کردار سے نہیں عہدے سے، اور حق دلیل سے نہیں طاقت سے ملتا ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے وہ عمارت گرا رہے ہیں جسے ہمارے بڑوں نے نسلوں کی قربانی سے تعمیر کیا تھا۔ اس کے باوجود مایوسی ضروری نہیں۔ ہر تاریکی میں روشنی کی گنجائش اور ہر بگڑی ہوئی ترتیب کو درست کرنے کا امکان باقی رہتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم مانیں کہ مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں، ہمارے اجتماعی رویوں کا بھی ہے۔ حکمران احتساب سے بالاتر نہیں، مگر عوام بھی ذمہ داری سے آزاد نہیں۔ ہمیں رشوت سے انکار، سفارش کو کامیابی کا راستہ سمجھنے سے گریز، قانون کی پابندی اپنے لیے بھی لازم، بچوں کو کامیابی کے ساتھ کردار کی تعلیم، اختلاف کو دشمنی نہ بنانے اور اپنے حصے کا چراغ جلانے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔

خلاصہ یہ کہ یہ اشعار دوسروں کا چہرہ دکھانے سے پہلے ہمیں اپنا چہرہ دکھاتے ہیں۔ کوئی معاشرہ صرف حکمران بدلنے سے نہیں بدلتا، سوچ، ترجیحات اور اجتماعی ضمیر بھی بدلنا پڑتے ہیں۔ہمیں بھیڑیا محافظ نہیں چاہیے، ایسا نظام چاہیے جس میں کسی کو بھیڑیا بننے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ ایسا انصاف چاہیے جو قید خانے کے کسی کونے میں تھکا ہوا نہ بیٹھا ہو بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں چلتا پھرتا دکھائی دے۔ ایسی خوشحالی چاہیے جس کا احساس صرف اعداد و شمار میں نہیں، گھروں کے چولہوں اور بچوں کی آنکھوں میں بھی نظر آئے۔ تب شاید روشنی تاریکی پر غالب آجائے، امن خوف سے آزاد ہو، انصاف قید سے باہر نکلے اور ہمارا آج، ہمارے کل کو منہدم کرنے کی بجائے تعمیر کرنا شروع کر دے۔